بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 20.5°C
Saturday, 26 September 2026 | پاکستان: 15 ر بیع الثانی 1448

صحافت اور قائد اعظم کی اسلامی صحافت میں دلچسپی

Saturday, 26 September, 2026

صحافت کا لفظ صحیفہ سے نکلا ہے ۔صحیفہ کے لفظی معنی ہیں کتاب یا رسالہ ۔عرصہ دراز سے صحیفہ سے مراد ایسا مطبوعہ مواد ہے جو مقررہ وقفوں کے بعد شائع ہوتا ہے ۔صحافت کا مترادف انگریزی لفظ جرنلزم ہے جو جرنل سے بنایا گیا ہے جرنل کے لغوی معنی ہیں روزانہ کا بہی کھاتہ،روز نامچہ۔جب صحافت کا آغاز ہوا تو اس اصطلاح کو اخبار یا رسالے کیلئے استعمال میں لایا جانے لگا ۔اخبار کا لفظ بہت پرانا ہے ۔یہ اس وقت سے چلا آتا ہے جب نہ طباعت ایجاد ہوئی تھی نہ آج کے اخباروں کا تصور ممکن تھا ۔اخبار عربی زبان کا لفظ ہے اور خبر کی جمع ہے مسلمانوں کے عہد میں صحافت حکمرانوں کی خدمت پر مامور تھی ۔جب کوئی بڑی خبر ہوتی تو ہرکارے ہر طرف دوڑا دئیے جاتے جو شہر شہر اس کا اعلان کرتے ۔بر صغیر میں انگریزی اخباروں کی دیکھا دیکھی اردو اور فارسی زبان میں بھی مطبوعہ اخبار جاری ہوئے ۔چونکہ صحافت معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہے اور معاشرہ اس پر اثر انداز ہوتا ہے ،اس لئے معاشرے اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔صحافت رائے عامہ کی راہنمائی کے فرائض بھی سر انجام دیتی ہے ،اس لئے پریس کا منصب مثبت اور اسلامی کردار ادا کرنا ہوتا ہے ۔پریس کو مقننہ ،عدلیہ اور انتظامیہ کے بعد چوتھے ستون کا درجہ دیا جاتا ہے ۔قلم کی عصمت قوم و ملک کی انتہائی گراں قدر اور انمول امانت ہوتی ہے ۔اس میں کسی قسم کی آمیزش ،کسی طرح کی لغزش ،معمولی بدنیتی یا معمولی جھول بھی غیر معمولی اور ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنتا ہے ۔کشمیر کے صحافیوں سے ایک ملاقات کے دوران 23مئی1948ء کو قائد اعظم نے فرمایا ” صحافت ایک عظیم طاقت ہے ،یہ فائدہ بھی پہنچا سکتی ہے اور نقصان بھی ،اگر یہ صحیح نہج پر چلائی جائے تو یہ رائے عامہ کی راہنمائی اور ہدایت کا فرض انجام دے سکتی ہے ۔قائد اعظم کے ان الفاظ سے مراد آزادیٔ اظہار مادر پدر آزاد نہ ہو بلکہ سچائی اور اصلاح کے پہلوئوں کو نمایاں رکھنا ہے اور اس فرمان کی روشنی میں وطن عزیز کے صحافیوں اور اخبار نویسوں کا یہ اولین فریضہ بنتا ہے کہ وہ اپنے قارئین کو پوری طرح مسائل سے باخبر رکھنے کے ساتھ ان مسائل کی تعبیر و تشریح کرتے ہوئے ان کے حل کے ضمن میں ضروری مدد فراہم کریں تا کہ غربت و افلاس اور ناداری جیسے سماجی و معاشی مسائل اور برائیوں کا جڑ سے خاتمہ ممکن بنایا جا سکے ۔برصغیر کے مسلمانوں کی جدوجہد آزادی میں اسلامی صحافت کے کردار کو کون بھول سکتا ہے ۔ خاندان مغلیہ کے زوال کے بعد جب مسلمانوں کے وجود کو مرہٹوں ،سکھوں ، جاٹوں اور انگریزوں سے خطرات درپیش ہوئے تو شاہ ولی اﷲ نے خطوط کی ترسیل سے مسلمان حکومتوں سے رابطے قائم کیے اور اپنے قلم کی مدد سے پیش آمدہ خطرات سے کافی حد تک مسلمانوں کو سہارا فراہم کیا ۔تحریک پاکستان کی کامیابی میں اسلامی صحافت کا نمایاں حصہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور اسلامی صحافت کی نشوونما میں قائد اعظم کا کردار نہایت نمایاں نظر آتا ہے ۔قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی ذاتی دشواریاں ان کے راہ عمل میں حائل نہ ہو سکیں ۔قائد اعظم کی انتھک کوشش سے کئی نئے اخبار جاری ہوئے جنہوں نے تحریک پاکستان کا پیغام عوام تک پہنچایا اور پوری ملت اسلامیہ مسلم لیگ کے جھنڈے تلے جمع ہو گئی ۔وطن عزیز میں صحافت کی ترقی قائد اعظم کی ہی مرہون منت ہے ۔ ماضی میں صحافتی حوالے سے کتنے نام ہیں جنہوں نے اپنے اخبارات اور رسائل کے ذریعے نئی نسل کی نشوونما کی اور قومی ترقی کی راہ میں اہم کردار ادا کیا ۔سر سید احمد خان کے تہذیب الاخلاق کو کون بھول سکتا ہے ۔جب 1857ء کے انقلاب کے بعد اسلامی صحافت کا سورج غروب ہو گیا تو اس کا نئی بنیادوں پر استوار کرنے کا کریڈٹ سرسید احمد خان کو ہی جاتا ہے ۔انہوں نے تہذیب الاخلاق کے ذریعے قوم کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور اس میں بڑی حد تک کامیاب رہے ۔ان کے اخبار ” سائنٹیفک سوسائٹی” نے مسلمانوں کی رائے عامہ کی ترجمانی کے فرائض انجام دئیے ۔یہی اثر تھا کہ برصغیر کے طول و عرض میں مسلمانوں کے اخبار و رسائل جاری ہوئے ۔لاہور کا ”پہلا اخبار”اور”وطن ” نمایاں تھے ۔ابوالکلام آزاد اور ظفر علی خان جیسی شخصیات نے اسلامی صحافت کو عظمت و رفعت عطا کی ۔تحریک خلافت کے بعد مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی جنگ میں لاہور سے انقلاب اور سیاست ،دہلی سے ہمدرد ،وحدت او رالامان ، لکھنو میں حق اور ہمدم اور کلکتہ سے عصر جدید نے علیحدگی کی تحریک میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے اسے کامیابی سے ہمکنار کیا ۔اس دور میں مسلمانوں کی سب سے بڑی پریشانی ان کا انگریزی کا کوئی معیاری اخبار نہ ہونا تھا ۔انگریزی میں مسلمانوں کے پاس دو تین ہفت روزہ انگریزی اخبار موجود تھے ۔انگریزی میں لاہور کا مسلم آئوٹ لک 1932ء میں بند ہو گیا ۔مسلمانوں کا یہی کل اثاثہ تھا ،اس کے مقابلے میں کانگریس اور دوسرے غیر مسلم عناصر کے کئی کثیر الاشاعت اخبار تھے جن میں ہندوستان ٹائمز ،نیشنل کال ٹریپیون ،ہندو اور کرانیکل نمایا ں تھے ۔ان اخبارات کا مقصد اور منشور صرف اور صرف مسلم لیگ کا پروپیگنڈہ اور مخالفانہ کردار ادا کرنا تھا ۔دوسرے بڑے بڑے اینگلو انڈین اخبار جیسے سول اینڈ ملٹری گزٹ ِسٹیٹس مینِ،ٹائمز آف انڈیا موجود تھے لیکن یہ اخبار مسلمانوں کا نقطہ نظر پیش کرنے میں لیت و لعت سے کام لیتے ۔ملک کے دو بڑے خبر رساں اداروں ایسوسی ایٹڈ پریس اور یونائیٹڈ پریس مکمل طور پر ہندوئوں کی اجارہ داری اور تسلط میں تھے ۔صوبائی خود مختاری کی آمد پر صحافت کو مسلمانوں نے مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا ۔چنانچہ کلکتہ سے سٹار آف انڈیا کے نام سے ایک انگریزی روزنامے کا اجراء کیا ۔لاہور سے برکت علی مرحوم نے منٹو ٹائمز جاری کیا ۔جب 1940ء میں قراداد لاہور پاس کی گئی تو ہندو پریس نے اسے طنزاً پاکستان کی قرار داد کا نام دیا جس کے جواب میں قائد اعظم نے اسلامی صحافت کو استحکام بخشنے کیلئے عملی اقدام اٹھایا اور چندے کی مہم شروع کی ،جو سرمایہ فراہم ہوا اس سے ڈائون ٹرسٹ قائم کیا ۔قائد اعظم جانتے تھے کہ مسلمانوں کی آواز اس وقت تک موثر نہیں ہو سکتی جب تک ان کی کوئی خبر رساں ایجنسی نہ ہو ۔انہی کی کاوش سے بہار کے چند سرکردہ مسلمانوں نے اورینٹ پریس آف انڈیا کے نام سے ایک مسلم خبر رساں ایجنسی قائم کی جس کے دفاتر ہندوستان کے تمام بڑے شہروں میں قائم کئے گئے جس سے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی ہوئی اور ان کی سرگرمیاں منظم انداز میں منظر عام پر آنے لگیں ۔دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے زیر اہتمام روزنامہ ” منشور” جاری ہوا اور کراچی ،بمبئی اور الہٰ آباد سے بھی ہفت روزہ انگریزی اخبار شائع ہونا شروع ہوئے ۔اس دور میں لاہور سے نوائے وقت کا اجراء ہوا ۔یہی نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کی ایک پلیٹ فارم سے زوردار سنائی دینے لگی ۔12اکتوبر 1943ء کو ڈان کی پہلی سالگرہ پر قائد اعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ ”قوم کی ترقی اور بہبود کیلئے صحافت ایک اہم ضرورت ہے کیونکہ زندگی کی تمام سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کیلئے صحافت ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو قوم کی رہنمائی کرتا ہے ۔قائد اعظم کے اس فرمان کی روشنی میں قومی اور معاشرتی ترقی کیلئے کام کرنا اولین فریضہ ہے اور اس شعبے سے وابستہ افراد کو وطن عزیز میں موثر اسلامی اور بامقصد رویوں کو فروغ دینا قائد اعظم کے راہنما اصولوں کی پیروی کرنا ہے ۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *