وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی،ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو لکھے گئے ایک خط میں جو میڈیا کے ایک حصے میں لیک ہو گیا تھا ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی اور مزید قرض لینے کے ذریعے مالیاتی استحکام حاصل کرنے کی حکمتِ عملی پر انتہائی سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے۔اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں جو ان کے تجزیے کی درستگی کو ثابت کرتے ہیں:پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے اخراجات کا بجٹ اس سال کل اخراجاتی حجم کا 5فیصد رکھا گیا تھا،جبکہ گزشتہ سال یہ تناسب 6.25 فیصد تھا ۔ تاہم ، دستاویزات میں اس بات کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ اس مختص رقم میں کتنی کٹوتی کی گئی جو کہ ایک معمول کی مشق ہے،خاص طور پر جب ملک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کے تحت ہو اور خسارے کو طے شدہ حد کے اندر رکھنے کا پابند ہو۔اس تناظر میں،وزیر کیلئے بہتر ہوگا کہ وہ اپنی جماعت کی کچھ بنیادی ترجیحات پر نظرِ ثانی کریں،خاص طور پر سڑکوں کی تعمیر کے معاملے پر۔سڑکوں کی تعمیر کو ملک کے اندر رابطے بحال کرنے کیلئے اہم اور ووٹ حاصل کرنے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے،لیکن اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ اس سے متعلقہ خریداری کے عمل کی سختی سے پیروی کی جائے تاکہ اقربا پروری اور بدعنوانی کے الزامات کو کم سے کم کیا جا سکے ۔ پانی ذخیرہ کرنے والے مراکز کی تعمیر کی اشد ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کو پانی کی شدید قلت کا شکار ملک قرار دیا گیا ہے؛ لہٰذا پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے محدود فنڈز کا زیادہ حصہ اس ذیلی شعبے میں خرچ کرنے کی ضرورت ہے ۔ نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی کے منفی رجحان کی وجہ سے تعطل کا شکار ہے ۔ یکم جولائی تا 11 ستمبر 2026 کے دوران قرضوں کا بہا منفی 364.5 ملین روپے رہا،جبکہ یکم جولائی تا 12 ستمبر 2025 کے دوران یہ منفی 170 ملین روپے تھا۔یہ درست ہے کہ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق،بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کے شعبے نے مالی سال 27 کے جولائی میں 3 فیصد کی شرحِ نمو ظاہر کی ہے۔تاہم مختلف پیداواری یونٹس،خاص طور پر ٹیکسٹائل کے شعبے نے اس اعداد و شمار پر سوال اٹھائے ہیں۔’بزنس ریکارڈر’کے ایک سروے میں ٹیکسٹائل سیکٹر نے 150 یونٹس کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا،جبکہ دیگر اہم صنعتی ذیلی شعبوں نے پیداواری لاگت میں اضافے کی شکایت کی ہے۔اس لاگت میں 11.5 فیصد کی پالیسی شرح بھی شامل ہے جو خطے کی اوسط شرح سے دوگنا ہے؛اس شرح نے ان کی مصنوعات کو خطے میں غیر مسابقتی بنا دیا ہے،کیونکہ طویل اور غیر محفوظ سرحدیں ایک بار پھر اسمگلنگ کا گڑھ بن چکی ہیں۔قرضوں کے حصول میں اضافے پر اقبال کا خدشہ بھی بجا ہے؛ قرضوں کے انتظام کی پالیسی کا مرکز قلیل مدتی ٹریژری بلز پر انحصار کم کر کے درمیانی اور طویل مدتی بلز کی طرف منتقل ہونا ہے،جو زیادہ منافع تو دیتے ہیں لیکن ان کی اصل ادائیگی کی مدت مستقبل میں کافی آگے جا کر آتی ہے۔مزید برآں، حال ہی میں 3 ارب ڈالر مالیت کے یورو بانڈز کا دو حصوں میں کامیاب اجرا کیا گیا:اس میں 1.75 ارب ڈالر کے بانڈز ساڑھے پانچ سالہ مدت اور 7.5 فیصد کوپن ریٹ کے ساتھ،جبکہ باقی 1.25 ارب ڈالر کے بانڈز دس سالہ مدت اور 7.9 فیصد کوپن ریٹ کے ساتھ جاری کیے گئے۔یہ شرحیں ادائیگی کی آخری تاریخ قریب آنے پر سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہیں،خاص طور پر اگر ملک معاشی عروج و زوال کے چکر میں پھنسا رہے اور بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کے سہارے پورا کیا جاتا رہے۔قرضوں کے انتظام کے دفتر کے مطابق،جون 2026 کے اختتام تک کل عوامی قرضہ 86.7 ٹریلین روپے تھا،جس میں 59.4 ٹریلین روپے کا ملکی اور 27.3 ٹریلین روپے کا بیرونی قرضہ شامل تھا۔موجودہ سال کے لیے قرضوں کا بجٹ تخمینہ کم رکھا گیا ہے؛تاہم،یہ ضروری نہیں کہ سال کے اختتام پر زمینی حقائق کی عکاسی کرے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ سال کے بجٹ میں خالص بیرونی وسائل کا تخمینہ 105,523 ملین روپے ظاہر کیا گیا تھا،جبکہ سال کے نظرثانی شدہ تخمینے میں یہ رقم بڑھ کر 1,534,027 ملین روپے تک پہنچ گئی تھی۔موجودہ سال کے لیے مختص بجٹ کی رقم 8 لاکھ 13 ہزار 57 ملین روپے ہے۔وزیر نے عالمی بینک کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ مشرقِ وسطی،شمالی افریقہ اور افغانستان پر مشتمل خطے میں ہر دو میں سے ایک غریب شخص پاکستان میں رہتا ہے۔سیاسی نقطہ نظر سے شاید ان کا سب سے اہم پیش کردہ نکتہ یہ انتباہ تھا کہ حکومت کو اگلے انتخابی عمل کے آغاز سے قبل اپنی معاشی ترقی کی رفتار میں تبدیلی لانی چاہیے؛تاکہ وہ ووٹرز کے سامنے محض یہ کہنے کے بجائے کہ”ہمیں ورثے میں معاشی بحران ملا ہے،”ٹھوس نتائج پیش کر سکے۔ان کا استدلال ایک ایسے فورم کے قیام کی ضرورت پر زور دیتا ہے جہاں وزارتِ خزانہ مالی سال دوہزاراٹھائیس۔انتیس تک کیلئے اپنے بنیادی تخمینے پیش کرنے کی پابند ہو؛ان تخمینوں میں ترقی کی متوقع رفتار، معیشت کی ممکنہ صورتحال اور آئی ایم ایف کے بعد کے دور کے لئے درمیانی مدت کا ایک قابلِ اعتبار منظرنامہ شامل ہونا چاہیے ۔ تاہم آئی ایم ایف اور وزارتِ خزانہ دونوں ہی اپنے معمول کے فرائض کے حصے کے طور پر پہلے سے ہی اس قسم کی پیش گوئیوں اور تخمینوں کا عمل سرانجام دیتے رہے ہیں۔ایک زیادہ موثر تجویز یہ ہو سکتی تھی کہ وزیرِ منصوبہ بندی،وزارتِ خزانہ پر زور دیتے کہ وہ آئی ایم ایف کے عملے کے ساتھ مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کیلئے کوئی جدید اور ادارے کے اندر تیار کردہ حل وضع کرے۔اس حکمتِ عملی میں رواں سال اور آئندہ دو سالوں کے دوران جاری اخراجات میں 2 سے 3 ٹریلین روپے کی بھاری کٹوتی شامل ہونی چاہیے، تاکہ معیشت کو تیز رفتار اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے ضروری تحریک فراہم کی جا سکے۔
‘ایل نینو’ کے دور رس اثرات
بحر الکاہل میں شدت اختیار کرنے والا غیر معمولی’ایل نینو’ کا رجحان سال 2026 کو ریکارڈ پر گرم ترین سال بنا سکتا ہے، اور 2027 اس سے بھی زیادہ گرم ہو سکتا ہے۔یورپی یونین کی ‘کوپرنیکس کلائمیٹ سروس’ کے مطابق،ستمبر میں بحر الکاہل کے ایک خطے میں سمندری درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔امریکی ماہرینِ موسمیات کو توقع ہے کہ یہ رجحان جو دنیا بھر میں موسم کے انداز کو تبدیل کرتا ہے اگلے سال کے اوائل تک برقرار رہے گا۔پاکستان کے لئے،اس کے اثرات کئی موسموں پر محیط ہو سکتے ہیں۔ایل نینو ان مغربی موسمیاتی نظاموں پر اثر انداز ہو سکتا ہے جو شمالی پہاڑوں میں موسمِ سرما کی بارش اور برف باری کا باعث بنتے ہیں،جبکہ اس کا تعلق اکثر جنوبی ایشیا میں کمزور مون سون سے بھی جوڑا جاتا ہے۔آنیوالے موسمِ سرما کی برف باری اہم ہوگی:پہاڑوں میں جمع ہونے والی برف درجہ حرارت بڑھنے پر دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاں میں پانی کی فراہمی میں مدد دیتی ہے۔اگر موسمِ سرما میں برف باری کی جگہ شدید بارش ہو جائے،تو گرم مہینوں کے لیے پانی کا ذخیرہ کم ہو سکتا ہے۔برف کا کم ذخیرہ بہار اور موسمِ گرما میں کھیتوں کو دستیاب پانی کی مقدار کو کم کر سکتا ہے۔2027 میں کمزور مون سون آبی ذخائر اور آبپاشی کی فراہمی پر اضافی دبا ڈالے گا۔ساتھ ہی،زیادہ گرم سال کا مطلب پانی اور بجلی کی طلب میں اضافہ بھی ہوگا۔بہت کچھ اس بات پر منحصر ہوگا کہ یہ تبدیلیاں ملک کی پانی کی فراہمی اور فصلوں کو کیسے متاثر کرتی ہیں۔ گندم کے کاشتکار موسمِ سرما کی بارش اور آبپاشی پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ چاول اور کپاس کے کسانوں کا انحصار بڑی حد تک موسمِ گرما میں پانی کی فراہمی پر ہوتا ہے۔غلط وقت پر پانی کی کمی پیداوار میں کمی لا سکتی ہے،دیہی آمدنی کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔اس سے گھریلو اخراجات کے بوجھ تلے دبے خاندان متاثر ہوں گے اور اگر پیداوار کم رہی تو درآمدی بل میں بھی اضافہ ہوگا۔لہٰذاپاکستان کو اس بات کا مکمل جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ایل نینو کے آنے والے مہینوں پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں