بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 31.3°C
Saturday, 04 July 2026 | پاکستان: 19 محرم 1448

طالبان کی دوغلی سیاست

Saturday, 4 July, 2026

کراچی کے علاقہ صفورا میں رینجرز کیمپ پر حملہ کے جواب میں تین دہشت گرد ہلاک اور ایک کا زخمی حالت میں گرفتار ہونا یقینا افغان طالبان کے لیے دھچکا ہے ، دہشت گردی کی اس ناکام کاروائی کے نتیجے میں تین جوان شہید جبکہ 4 زخمی ہوئے، قابل زکر یہ رہا کہ جماعت الاحرار کے گرفتار ہونے والا افغان دہشت گرد نے پڑوسی ملک میں تربیت اور امداد ملنے کا اعتراف بیان بھی دے ڈالا ، ادھر سیکورٹی فورسز سے مقابلہ کرتے ہوئے باجوڈ میں خارجی کمانڈر خان فروش عرف زابل کو تین دہشت گرد ساتھیوں سمیت مارا گیا، پاکستان نے پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں بھی کاروائی کی جس میں 25 دہشت گرد مار گے اوربڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود تباہ کردیا گیا ، یاد رہے کہ کالعدم جماعت احرار کو پاکستان اور امریکہ سمیت مخلتف ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ، یہ تنظیم دوہزار چودہ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے الگ ہوکر الگ دھڑے کے طور پر سامنے آئی مگر 2020 میں دوبارہ کالعدم ٹی ٹی پی میں شامل ہوگی، وطن عزیز میں آپریشن عزم استحکام کے تحت انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کا سلسلہ جاری وساری ہے، افسوس خود کو کابل کا حکمران سمجھنے والے افغان طالبان اپنی قانونی ، اخلاقی اور مذہبی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مسلسل ناکام ہیں، جاری پالیسی کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اسلام آباد نے افغان طالبان کی مدد و اعانت میں کبھی کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ، تاریخ گواہ ہے کہ نائن الیون کے بعد پاکستان نے اقوام عالم کی مخالفت محض اس بنا پر مول لی کہ افغان طالبان برسر اقتدار آکر نہ صرف افغانوں کے مسائل حل کریں گے بلکہ ان کی جانب سے علاقائی اور عالمی سطح پر بھی زمہ دارنہ کردار ادا کیاجائے مگر افسوس باجوہ ایسا نہ ہوسکا، آج طالبان کی انتہاپسندانہ پالیسوں کا خمیازہ عام افغان شہری بھگت رہے ہیں بلکہ پاکستان سمیت علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بھی برملا تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے ، ماضی قریب میں اقوام متحدہ نے افغان سرزمین پر فعال دہشت گرد گروپوں کی موجودگی پر برملا تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے طالبان سے کاروائی کا مطالبہ کیا تھا ، جواب میں طالبان ایسے کسی بھی مسلح گروپوں کی موجودگی سے انکار کرتے چلے آرہے ہیں، مگر سچ یہ ہے کہ ایران اور وسط ایشیائی ریاستیں بھی طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی مدد واعانت سے خائف نظرآتی ہیں، اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ پانی اور مہاجرین پر افغان طالبان کا طرزعمل پیچیدہ مسائل اور تنازعات کا باعث بن رہا ہے، یورپی یونین سمیت بین الاقوامی برداری افغان طالبان کی خواتین بارے پالیساں سے تسلسل کے ساتھ اختلافات کر رہی ہیں۔ صنف نازک کی ملازمت اور سماج میں اس کی جائز حیثیت کو تسلیم کرنے میں پس وپیش سے کام لینا افغان طالبان کی پسماندہ سوچ کا ٹھوس ثبوت ہے ۔ افغانستان پر طالبان کا قبضہ نہ صرف وہاں کے عوام کی مشکلات بڑھا چکا بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر بھی انتہاپسندانہ سوچ کے فروغ کا سبب بن رہا ہے، افغان طالبان اعلانیہ خواتین کی تعلیم کے خلاف ہیں، یوں لڑکیوں کی ثانوی اور عالی تعلیم پر پابندیان عائد ہیں، افغان خواتین کی ملازمتوں پر پابندی سے ہزاروں خاندانوں کی مشکلات بڑھ چکیں،خواتین کے لیے سفر ،بازار جانا اور روزمرہ امور نمٹانا مشکل سے مشکل تر ہوچکا، ستم ظریفی یہ ہے کہ افغانستان پر قابض ٹولہ کو اس سے ہرگز کوئی سروکار نہیں کہ ان کی پالیسوں سے عام شہری کیوں اور کیسے متاثر ہورہے ہیں ، اس ضمن میں مختلف اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ آج کے افغانستان میں بے روزگاری تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچ چکی ، بہت سے سرکاری محکمے غیر فعال ہیں جبکہ بین الاقوامی امداد میں کٹوتی اور مالی پابندیوں سے ہزاروں خاندان متاثر ہوئے ہیں، افغانستان کا شعبہ صحت بھی زبوں حالی کا شکار ہے، لاتعداد بنیادی صحت کے مراکز یا تو بند ہوچکے یا پھر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، غربت اور بھوک کا عالم یہ ہے کہ کروڈوں افغان خطہ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، میڈیا میں ایسی خبریں بھی آچکیں کہ والدین حالات سے مجبور ہوکراپنے بچے بچیاں بیچنے پرمجبور ہیں، افغانستان میں اظہار خیال کی آزادی ناپید ہوکر رہ گی، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ادارے تسلسل کے ساتھ دہائی دے رہے کہ طالبان بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہیں، افغان طالبان کے اسی طرزعمل کی بدولت عالمی برداری ان کی حکومت تسلیم کرنے میں مسلسل ہچکچاہٹ کا شکار ہے ، اس پس منظر میں افغان طالبان کا بھارت کی پراکسی کا کردار ادا کرنا سمجھ میں آنے والی بات ہے، درحقیقت یہ کہنا کسی طور پر غلط نہ ہوگا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ہوں یا افغان طالبان دونوں ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں، افسوس چانکیہ سیاست کے پیروکار افغان طالبان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرکے داخلی عدم استحکام پیدا کرنے کے منصوبہ پر عمل پیرا ہیں،معاملہ کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ افغان سرزمین پر قائم دہشت گردوں کے ٹرینگ مرکز میں ایک طرف مذہب کے نام پر کشت وخون کرنے والے کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگ تریبت حاصل کررہے ہیں تو دوسری جانب بلوچستان کی نام نہاد آزادی کی جنگ کے دعویدار بی ایل کے ٹرینگ کیمپ فعال ہیں، یوں افغان طالبان کے طرز حکمرانی کو یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ
عجب تیری سیاست،عجب تیرا نظام
یزید سے بھی مراسم ، حسین کو بھی سلام

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *