افغانستان ایک بار پھر ایسے دوراہے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں طالبان کی عسکری برتری اور عوامی قبولیت کے درمیان خلیج مسلسل وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ اگست 2021میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے ملک میں امن، استحکام اور بدعنوانی کے خاتمے کے دعوے کیے تھے، لیکن تین برس گزرنے کے باوجود افغانستان داخلی بے چینی،معاشی بحران، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بین الاقوامی تنہائی سے باہر نہیں نکل سکا۔ اسی ماحول میں طالبان مخالف مزاحمت ایک مرتبہ پھر منظم ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جس نے حالیہ ہفتوں میں بدخشان سمیت مختلف شمالی علاقوں میں اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف طالبان کے لیے ایک نیا چیلنج بن رہی ہے بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے حوالے سے بھی نئے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔طالبان حکومت کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ صرف معاشی مشکلات نہیں بلکہ حکمرانی کا وہ انداز ہے جس میں سیاسی شمولیت، نسلی نمائندگی اور بنیادی شہری آزادیوں کے لیے بہت کم گنجائش موجود ہے۔ خواتین کی تعلیم اور ملازمتوں پر پابندیاں، میڈیا پر سخت کنٹرول، سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیاں اور اظہارِ رائے کی محدود آزادی نے افغان معاشرے کے مختلف طبقات میں مایوسی کو بڑھایا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے متعدد مرتبہ اس امر پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں کہ افغانستان میں لاکھوں افراد انسانی امداد کے محتاج ہیں جبکہ لاکھوں لڑکیاں ثانوی اور اعلی تعلیم سے محروم ہیں۔ ایسے حالات میں عوامی بے چینی کا مختلف شکلوں میں سامنے آنا ایک غیر معمولی امر نہیں۔اسی پس منظر میں طالبان مخالف مزاحمتی سرگرمیوں کا پھیلا قابلِ توجہ ہے۔ اگرچہ پنجشیر اور اندراب ماضی سے ہی مزاحمت کی علامت سمجھے جاتے رہے ہیں، لیکن اب بدخشاں جیسے صوبوں میں بھی طالبان مخالف کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔میڈیا رہورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں ضلع یفتل میں طالبان مخالف گروپ”سپاہیانِ میہن”کی کارروائی نے خاصی توجہ حاصل کی، جس میں دعوی کیا گیا کہ ضلعی مراکز اور بعض سرکاری تنصیبات پر قبضہ کیا گیا، جبکہ اسلحہ اور سرکاری سامان بھی حاصل کیا گیا۔بدخشاں کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ وہاں طالبان مخالف کارروائیاں ہو رہی ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ یہ صوبہ جغرافیائی لحاظ سے انتہائی حساس مقام رکھتا ہے۔ تاجکستان، چین اور پاکستان کے قریب واقع یہ خطہ وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک اہم راہداری سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہاں عدم استحکام بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف افغانستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہمسایہ ممالک بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بدخشان میں پیدا ہونے والی ہر نئی صورت حال کو علاقائی سلامتی کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔طالبان کی داخلی مشکلات میں نسلی عدم توازن کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ افغانستان ایک کثیر النسلی ملک ہے جہاں پشتون، تاجک، ازبک، ہزارہ اور دیگر قومیتیں آباد ہیں۔ ناقدین کا مقف ہے کہ ریاستی ڈھانچے اور اہم فیصلوں میں تمام نسلی گروہوں کی متوازن نمائندگی نہ ہونے سے احساسِ محرومی بڑھا ہے۔ یہی محرومی بعض علاقوں میں طالبان مخالف جذبات کو تقویت دینے کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر کسی بھی حکومت کو مختلف قومیتوں کی اعتماد سازی حاصل نہ ہو تو طویل المدتی استحکام برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی معاشی صورت حال بھی عوامی بے چینی میں اضافہ کر رہی ہے۔ بین الاقوامی پابندیوں، بیرونی امداد میں کمی، منجمد مالی وسائل اور محدود معاشی سرگرمیوں نے عام افغان شہری کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ بے روزگاری، غربت اور بنیادی سہولیات کی کمی نوجوانوں میں مایوسی پیدا کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں اگر کوئی مزاحمتی گروہ خود کو متبادل قوت کے طور پر پیش کرتا ہے تو اسے مقامی سطح پر محدود یا وسیع حمایت ملنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، اگرچہ اس حمایت کی نوعیت اور حجم ہر علاقے میں مختلف ہو سکتا ہے۔افغانستان کے بارے میں ایک اور مستقل بین الاقوامی تشویش دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی ہے۔ مختلف عالمی رپورٹس میں اس خدشے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ ملک میں متعدد شدت پسند گروہ سرگرم ہیں، جو نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ طالبان بارہا یہ مقف اختیار کرتے ہیں کہ وہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، تاہم بین الاقوامی ادارے اس حوالے سے مزید مثر اقدامات اور شفافیت کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اگر داخلی مزاحمت اور شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیاں ایک ساتھ بڑھتی ہیں تو افغانستان کی سکیورٹی صورت حال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔موجودہ حالات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ طالبان مخالف مزاحمت اب صرف عسکری کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی بیانیے کی صورت میں بھی ابھر رہی ہے۔ سوشل میڈیا اور جلاوطن افغان سیاسی شخصیات کے ذریعے طالبان کی پالیسیوں پر مسلسل تنقید کی جا رہی ہے۔ خواتین کی تعلیم، انسانی حقوق، آزاد میڈیا اور جامع حکومت کے مطالبات اب بھی عالمی سفارتی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ یہی عوامل طالبان حکومت کی بین الاقوامی قبولیت میں بڑی رکاوٹ سمجھے جاتے ہیں۔اگر مختلف صوبوں میں مزاحمتی سرگرمیوں کا سلسلہ برقرار رہتا ہے تو طالبان کو اپنی سکیورٹی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔ صرف عسکری طاقت کے ذریعے دیرپا استحکام حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے، خصوصا ایسے ملک میں جہاں گزشتہ چار دہائیوں سے مسلسل جنگ اور سیاسی عدم استحکام نے ریاستی ڈھانچے کو کمزور کر رکھا ہو۔ پائیدار امن کے لیے سیاسی مفاہمت، تمام نسلی و سماجی طبقات کی شمولیت، انسانی حقوق کا احترام اور معاشی بحالی ناگزیر عناصر ہیں۔افغانستان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ وہاں طاقت کے ذریعے قائم ہونے والا کوئی بھی نظام اس وقت تک مکمل استحکام حاصل نہیں کر سکا جب تک اسے وسیع عوامی تائید، سیاسی شمولیت اور علاقائی تعاون میسر نہ آیا۔ موجودہ حالات میں بھی اگر طالبان داخلی اختلافات، معاشی مسائل، انسانی حقوق سے متعلق عالمی خدشات اور مختلف علاقوں میں بڑھتی مزاحمتی سرگرمیوں کا مثر سیاسی حل تلاش کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو افغانستان ایک مرتبہ پھر طویل داخلی کشیدگی کے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔ اس کا اثر صرف افغان عوام تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورا خطہ اس کے سیاسی، معاشی اور سلامتی سے متعلق نتائج محسوس کرے گا۔ اس لیے افغانستان کا مستقبل صرف عسکری میدان میں نہیں بلکہ بہتر حکمرانی، سیاسی شمولیت اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے، کیونکہ یہی وہ عوامل ہیں جو کسی بھی ریاست کو دیرپا استحکام فراہم کرتے ہیں۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں