بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Friday, 26 June 2026 | پاکستان: 11 محرم 1448

عظیم قربانی ۔۔۔!

Friday, 26 June, 2026

نواسہ رسول حضرت امام حسین نے اپنے اہلِ بیت اور وفادار ساتھیوں کے ساتھ میدان کربلا میں حق و صداقت، صبر و استقامت، قربانی اور وفا کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ کربلا کا واقعہ صرف ایک جنگ یا سیاسی اختلاف کا نام نہیں بلکہ یہ حق اور باطل، عدل اور ظلم، اصول اور مفاد، کردار اور اقتدار کے درمیان ایک عظیم معرکہ تھا جس میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی جان، اپنے اہلِ خانہ اور اپنے رفقا کی جانوں کی قربانی دیکر یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان باطل قوتوں کے سامنے سر تو کٹا سکتا ہے لیکن سر جھکا نہیں سکتا۔حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے، حضرت علی المرتضیٰ کے فرزند اور حضرت فاطم الزہرا کے لختِ جگر تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو بچپن ہی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے پناہ محبت اور شفقت حاصل رہی۔ متعدد احادیثِ مبارکہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن اور حضرت حسین فضیلت بیان فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جنتی نوجوانوں کا سردار قرار دیا اور ان سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے امت کو بھی ان سے محبت کی تلقین فرمائی۔ حضرت امام حسین نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی وہ علم، تقوی، شجاعت ، صداقت، ایثار اور عبادت کا مرکز تھا۔ آپ نے اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، والد حضرت علی المرتضی اور والدہ حضرت فاطمة الزہرا کی تربیت کے اثرات کو اپنی شخصیت میں سمو لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی پوری زندگی حق گوئی، عدل پسندی اور دین کی سربلندی کیلئے وقف رہی ۔ اسلام انسانیت کو عزت، آزادی اور انصاف کا درس دیتا ہے۔ انسان صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکے اور کسی ظالم، جابر یا باطل قوت کے سامنے سر تسلیمِ خم نہ کرے ۔ یہ تعلیم حضرت امام حسین کی زندگی کا محور بنی۔ جب ایسے حالات پیدا ہوئے جن میں دین کی حقیقی روح اور اسلامی اقدار کو خطرات لاحق ہونے لگے تو حضرت امام حسین نے خاموش رہنے کے بجائے حق کا علم بلند کیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ دنیا میں اکثر لوگ حالات کے دبائو، مفادات، خوف یا لالچ کے تحت خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ بہت سے افراد ظلم کو ظلم سمجھتے ہوئے بھی اس کے خلاف آواز بلند نہیں کرتے کیونکہ انہیں اپنی جان، مال یا منصب کا خوف ہوتا ہے لیکن حضرت امام حسین نے امت کو بتادیا کہ جب دین کے بنیادی اصولوں، عدل و انصاف اور حق و صداقت پر ضرب لگ رہی ہو تو خاموشی اختیار کرنا مناسب نہیں ہوتا۔ ایسے مواقع پر حق بات کہنا اور اصولوں کا دفاع کرنا ایک مومن کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔کربلا کا واقعہ محرم الحرام سن اکسٹھ ہجری میں پیش آیا۔ اس واقعے نے اسلامی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ حضرت امام حسین نے اپنے محدود وسائل اور قلیل تعداد کے باوجود حق کے موقف کو ترک نہیں کیا۔ آپ کے سامنے اقتدار یا دنیاوی مفاد کا سوال نہیں تھا بلکہ دین کی روح، اسلامی اقدار اور امت کی رہنمائی کا مسئلہ تھا۔ آپ جانتے تھے کہ یہ راستہ آسان نہیں،اس میں آزمائشیں، مصیبتیں اور قربانیاں ہیں لیکن آپ نے راہِ حق سے انحراف کو قبول نہیں کیا۔میدان کربلا میں حضرت امام حسینکے ساتھ موجود افراد تعداد میں بہت کم تھے لیکن ان کے ایمان، عزم اور استقامت کی قوت بے مثال تھی۔یہ وہ لوگ تھے جو جانتے تھے کہ ظاہری طور پر ان کے سامنے ایک بڑی طاقت موجود ہے مگر اس کے باوجود انہوں نے حق کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ کامیابی کا معیار صرف ظاہری فتح نہیں بلکہ اصولوں پر قائم رہنا بھی کامیابی ہے۔ حضرت امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی سب سے بڑی خصوصیت صبر و استقامت تھی۔ جب پانی بند کر دیا گیا، جب بھوک اور پیاس نے شدت اختیار کر لی جب بچوں کی معصوم آوازیں پیاس کی فریاد کرنے لگیں اور جب ہر طرف مشکلات کے بادل چھا گئے تب بھی ان کے قدم متزلزل نہ ہوئے ۔ انہوں نے حالات کی سنگینی کے باوجود اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھا اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔صبر کا مطلب کمزوری یا بے بسی نہیں ہوتا بلکہ صبر دراصل مشکلات کے باوجود حق پر ثابت قدم رہنے کا نام ہے۔ حضرت امام حسین نے صبر کی یہی عملی تفسیر پیش کی۔ آپ نے دنیا کو بتایا کہ حقیقی طاقت ہتھیاروں، لشکروں یا اقتدار میں نہیں بلکہ ایمان، یقین اور کردار میں ہوتی ہے ۔ قربانی کے بغیر کوئی عظیم مقصد حاصل نہیں ہوتا ۔ تاریخ کے تمام بڑے انقلاب قربانیوں کی بنیاد پر وجود میں آئے ہیں۔ حضرت امام حسین نے اپنی جان سمیت ہر چیز قربان کر کے انسانیت کو یہ بتایا کہ اگر مقصد بلند اور نیت خالص ہو تو قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی ۔ آج چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود دنیا حضرت امام حسین کے نام کو احترام اور عقیدت سے یاد کرتی ہے جبکہ ظلم و جبر کی علامتیں عبرت کا نشان بن چکی ہیں۔حضرت امام حسین کی قربانی صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کیلئے مشعلِ راہ ہے۔ دنیا کے مختلف مذاہب اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی کربلا کے پیغام کو عظمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ یہ واقعہ انسانی وقار، آزادی اور اصول پسندی کی اعلیٰ ترین مثال پیش کرتا ہے ۔عصر حاضر میں جب دنیا مختلف بحرانوں، ناانصافیوں، مفاد پرستی اور اخلاقی زوال کا شکار ہے، کربلا کا میسج پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ معاشروں میں جھوٹ، بدعنوانی، ظلم اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کیلئے حضرت امام حسین کی زندگی ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہے۔ حق پر قائم رہنے والا شخص وقتی طور پر مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے لیکن تاریخ میں عزت اور سربلندی اسی کا مقدر بنتی ہے۔ انسان کو اپنے ضمیر، اپنے ایمان اور اپنے اصولوں کا سودا نہیں کرنا چاہیے۔ دنیاوی مفادات عارضی ہوتے ہیں جبکہ حق اور سچائی دائمی اقدار ہیں۔ حضرت امام حسین نے ثابت کیا کہ ایمان کی طاقت ہر دنیاوی طاقت سے بڑی ہوتی ہے اور حق کی آواز کو ہمیشہ کیلئے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔نواسہ رسول حضرت امام حسین اور ان کے جانثار ساتھیوں نے باطل کے سامنے سرجھکانے کے بجائے شہادت کو ترجیح دی۔ انہوں نے صبر و استقامت، وفا و اخلاص اور قربانی و ایثار کی ایسی لازوال داستان رقم کی جو رہتی دنیا تک انسانیت کیلئے مشعلِ راہ رہے گی ۔ کربلا کا پیام آج بھی زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا کہ ظلم وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے لیکن حق کو شکست نہیں دے سکتا۔ عزت، وقار اور اصولوں کی حفاظت کیلئے اگر قربانی دینی پڑے تو اس سے دریغ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کو سلام پیش کرتی ہے جو حق کی خاطر ڈٹ کر کھڑے رہتے ہیں اور اپنے کردار سے آنیوالی نسلوں کیلئے روشنی کا چراغ بن جاتے ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *