بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Thursday, 08 October 2026 | پاکستان: 28 ر بیع الثانی 1448

فتنہ الہندوستان اور”را”کا مکروہ چہرہ

Thursday, 8 October, 2026

یہ امر توجہ کا حامل ہے کہ جنوبی ایشیا میں دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام اور سرحد پار تخریبی سرگرمیوں کا ذکر ہو تو بھارت کے خفیہ ادارے” را” کے کردار کو کسی بھی طور نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ پاکستان ایک عرصے سے عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کراتا آیا ہے کہ بھارتی ریاستی ادارے خطے میں اپنے سیاسی اور تزویراتی مفادات کیلئے خفیہ کارروائیوں کا سہارا لیتے رہے ہیں۔اسی ضمن میں مورار جی ڈیسائی کا نام بھارت کی تاریخ میں صرف ایک وزیر اعظم کے طور پر نہیں بلکہ را کے کردار پر سخت سوال اٹھانے والے حکمران کے طور پر بھی اہم ہے۔یہ بات اپنے آپ میں ایک خاص اہمیت کی حامل ہے کہ 24 مارچ 1977 کو جب انہوں نے بھارت کی وزارتِ عظمیٰ سنبھالی تو ان کی عمر 81 برس تھی۔ وہ بھارت کے پہلے غیر کانگریسی وزیر اعظم بھی تھے۔مورار جی ڈیسائی بھارت کی سیاسی تاریخ کی ایک منفرد شخصیت تھے۔ مورار جی ڈیسائی کا را کے بارے میں مؤقف انتہائی سخت تھا َ۔اقتدار میں آنے کے بعد ان کی حکومت نے را کی سرگرمیوں، بجٹ اور عملی دائر کار کو محدود کرنے کے اقدامات کیے۔ را کے بعض شعبے بند کیے گئے، اس کے بجٹ میں کمی کی گئی اور بیرونِ ملک خفیہ کارروائیوں کے دائرے کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔یہ اقدامات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ را کی سرگرمیوں پر اعتراض محض پاکستان کا مؤقف نہیں تھا بلکہ بھارت کے اندر بھی اس ادارے کے کردار اور اختیارات پر شدید تحفظات موجود رہے ہیں۔ مورار جی ڈیسائی کا دور اس تاریخی حقیقت کی اہم مثال ہے کہ بھارتی ریاستی نظام کے اندر سے بھی را کے کردار اور اس کی خفیہ سرگرمیوں پر سوال اٹھائے گئے اور عملی طور پر اس کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔یہ تاریخی حقیقت اس لیے اہم ہے کہ را کو محض پاکستان کی جانب سے متنازع قرار دینے کی کوشش درست تصویر پیش نہیں کرتی۔بلکہ خود بھارت کے سیاسی نظام میں بھی مختلف ادوار کے دوران اس ادارے کے اختیارات اور سرگرمیوں پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ تاہم آج کا اصل سوال یہ ہے کہ کیا را کا کردار صرف ماضی تک محدود تھا یا اس کے اثرات موجودہ دور میں بھی دکھائی دیتے ہیں؟مبصرین کے مطابق حالیہ برسوں کے واقعات اس سوال کو مزید اہم بنا دیتے ہیں۔ امریکہ میں سکھ رہنما گروپت ونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش اس سلسلے کی نمایاں مثال ہے۔ فروری 2026 میں بھارتی شہری نکھل گپتا نے نیویارک کی وفاقی عدالت میں پنوں کے قتل کی سازش سے متعلق الزامات میں جرم قبول کیا۔ امریکی استغاثہ کے مطابق گپتا نے بھارتی حکومتی اہلکار وکاش یادیو کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ بنایا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق یادیو کا تعلق بھارت کے کابینہ سیکریٹریٹ سے تھا، جس کے تحت بھارت کا بیرونی خفیہ ادارہ را کام کرتا ہے۔یہ معاملہ اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ یہاں محض سیاسی بیان یا کسی حکومت کا الزام زیر بحث نہیں بلکہ ایک امریکی عدالت میں ملزم کا اقرارِ جرم موجود ہے۔ امریکی تحقیقات کے مطابق قتل کیلئے ایک ایسے شخص کو رقم دینے کا انتظام کیا گیا جو دراصل امریکی قانون نافذ کرنے والے ادارے کا خفیہ اہلکار تھا۔ گپتا نے قتل کی سازش میں اپنے کردار کو عدالت کے سامنے تسلیم کیا۔ دوسری طرف بھارتی حکومت نے پنوں کیخلاف اس منصوبے سے لاتعلقی ظاہر کی ہے ۔ اسی تناظر میں سکھس فار جسٹس کا حوالہ بھی اہم ہے۔ اس تنظیم نے طویل عرصے سے بھارتی حکومت اور را پر بیرون ملک سکھ کارکنوں کو ہدف بنانے کے الزامات عائد کیے اور مختلف بین الاقوامی فورمز پر دستاویزی مواد اور قانونی شواہد پیش کیے۔ اس کے پیش کردہ مواد میں بھارتی خفیہ اہلکاروں، مبینہ قتل کی سازشوں اور بیرون ملک سکھ کارکنوں کی نگرانی سے متعلق دعوے شامل رہے ہیں۔ پاکستان بھی کئی برس سے بھارت پر پاکستان کے اندر تخریبی سرگرمیوں اور دہشت گردی کی معاونت کے ثبوت عالمی برادری کے سامنے لاتا رہا ہے۔ کلبھوشن یادیو کا معاملہ بھی پاکستان کے مؤقف میں اسی تناظر میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ افغانستان میں بھارتی اثرورسوخ، پاکستان کیخلاف مبینہ خفیہ نیٹ ورک، بلوچستان میں دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے پاس موجود اہم ثبوت اور اب امریکہ میں سامنے آنیوالی قتل کی سازش—یہ تمام معاملات”را”کی مکروہ سازشوں کو بے نقاب کرتے ہیں اور انہیں نظرانداز کرنا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا ۔ مورار جی ڈیسائی کے دور سے لیکر آج کے پنوں کیس تک را کا نام مختلف نوعیت کے تنازعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اس ادارے کے کردار پر خود بھارت کے اندر بھی سوال اٹھتے رہے ہیں، جبکہ موجودہ دور میں امریکی عدالتی کارروائی نے را سے منسلک بھارتی اہلکار کے حوالے سے ایک انتہائی سنگین معاملے کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔را کے کردار پر سوال اب محض سفارتی بیان بازی کا معاملہ نہیں رہا۔ پاکستان میں دہشت گردی، تخریب کاری اور عدم استحکام سے متعلق اس پر عائد الزامات ایک سنگین ریاستی سوال بن چکے ہیں۔ **اگر کسی خفیہ ادارے کی سرگرمیوں کا رخ کسی دوسرے ملک کو کمزور کرنے، بدامنی کو ہوا دینے اور دہشت گردی کی مبینہ پشت پناہی تک پہنچ جائے تو اسے انٹیلی جنس آپریشن کا نام دے کر بری الذمہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی کارروائیاں دراصل خفیہ جنگ کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ را جتنے پردوں کے پیچھے چھپے، سوال وہیں رہیں گے: پاکستان کے خلاف مبینہ خفیہ جنگ آخر کب تک جاری رہے گی، اور اس کی جواب دہی کب ہوگی؟

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *