بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Thursday, 08 October 2026 | پاکستان: 28 ر بیع الثانی 1448

پرچون فروشوں کیلئے ٹیکس چوری کے نفاذ میں اصلاحات

Thursday, 8 October, 2026

فیڈرل بورڈ آف ریونیوکا ملک بھر میں مارکیٹوں اور انفرادی دکانوں کی ‘میپنگ ‘شروع کرنے کا فیصلہ،پرچون فروشوں کیلئے حکومت کی ‘آسان ٹیکس اسکیم’پر ملنے والے مایوس کن ردعمل کے بعد ایک منطقی پیشرفت ہے۔اس سکیم کے تحت پرچون فروشوں کی جانب سے جمع کرائے گئے 1016 گوشواروںمیں سے صرف 91 نئے فائلرزتھے۔ایف بی آر کے فیلڈ افسران تاجر نمائندوں کے ہمراہ مارکیٹوں کا دورہ کریں گے،انفرادی دکانوں کی نشاندہی کریں گے اور رجسٹریشن اور گوشوارے جمع کرانے کے بارے میں آگاہی فراہم کریں گے۔اس کام کی وسعت کا اندازہ ملک میں موجود تقریبا 43 لاکھ کمرشل واپڈا بجلی کے میٹروں اور ٹیکس گوشوارے جمع کرانیوالے صرف 6 لاکھ کے قریب کمرشل میٹر ہولڈرز کے درمیان فرق سے لگایا جا سکتا ہے ۔ ‘آسان ٹیکس اسکیم’ پرچون کے شعبے کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کیلئے یکے بعد دیگرے آنیوالی حکومتوں کی جانب سے کی جانے والی متعدد کوششوں میں سے ایک ہے۔تاہم اس بار ایک اہم فرق موجود ہے۔حکومت نے اس کام کو نسبتا زیادہ منظم اور مشاورتی انداز میں آگے بڑھایا ہے اور اسکیم کی تشکیل و نفاذ میں تاجر تنظیموں اور مارکیٹ کے نمائندوں کو شامل کیا ہے۔اس نے پرچون فروشوں کو باضابطہ ٹیکس نظام میں شامل ہونے کا نسبتاً آسان راستہ فراہم کیا،جس سے طریقہ کار کا بوجھ کم ہوا اور بہت سے چھوٹے تاجروں کیلئے فوری ٹیکس کی ذمہ داری بھی محدود رہی۔اس کے باوجود،اس اسکیم میں بہتری کی کافی گنجائش موجود تھی۔آمدنی پر ٹیکس لگانے کے اصول کا سختی سے اطلاق کرنے کے بجائے’ٹرن اوورپر ٹیکس لگا کر،اس نے منصفانہ ٹیکس نظام کے ایک بنیادی اصول سے انحراف کیا۔اس کے باوجوداگر اس کا فوری مقصد کاروباروں کو دستاویزی شکل دینا،پرچون فروشوں کو رجسٹر کرنا اور گوشوارے جمع کرانے کا کلچر قائم کرنا تھاتو یہ ایک مفید نقطہ آغاز ثابت ہو سکتا تھا۔تاہم ایسا لگتا ہے کہ اب تک اس موقع کو بڑی حد تک ضائع کر دیا گیا ہے ۔ ایف بی آر کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس سکیم کے تحت تقریبا 1 لاکھ 90 ہزار ریٹیلرزنے رجسٹریشن کروائی ہے۔اس شعبے کے حجم کے مقابلے میں یہ تعداد اب بھی کم ہے اور یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اسکیم کیلئے رجسٹریشن کروانا، ٹیکس گوشوارے جمع کروانے اور واجب الادا ٹیکس کی ادائیگی کرنے کے مترادف نہیں ہے۔ایف بی آر اب 5 لاکھ سے 10 لاکھ ریٹیلرز کو ہدف بنانے کا ارادہ رکھتا ہے،اور باقی ماندہ افراد کو نفاذِ قانون کے ذریعے ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا جائے گا۔لہٰذا،’میپنگ کا اقدام خوش آئند ہے،لیکن اسے محض کاغذی کارروائی یا دستاویزی مشق نہیں بننا چاہیے جس کا نتیجہ صرف فہرستوں اور ڈیٹا بیس کی تیاری تک محدود رہے ۔ جب حکومت کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ دکانیں کہاں واقع ہیں اور انہیں کون چلا رہا ہے،تو اسے اس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرنے کیلئے سیاسی عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔نان فائلرزکو ٹھوس نتائج کا سامنا کرنا چاہیے جبکہ رجسٹریشن اور قوانین کی پاسداری کیلئے تیار افراد کو عملی معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔اب تک اعلان کردہ جرمانے — گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ کے بعد پہلے مہینے میں 10 ہزار روپے، دوسرے مہینے میں 25 ہزار روپے اور تیسرے مہینے میں 50 ہزار روپے — بھاری فروخت کرنیوالے کاروبار کو باز رکھنے کیلئے ناکافی معلوم ہوتے ہیں ۔ اگر جرمانوں کے ذریعے رویے میں تبدیلی لانی ہے تو انہیں کافی حد تک مثر اور بھاری ہونا چاہیے ، ان کا مسلسل نفاذ ہونا چاہیے اور سب سے اہم بات یہ کہ ان کی واقعی وصولی بھی ہونی چاہیے۔اس سکیم کے تحت محصولات کے معمولی ہدف پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ریٹیلرز کی جانب سے ٹیکس کی ممکنہ مجموعی ادائیگی،جو کچھ اندازوں کے مطابق 3 ٹریلین روپے تک ہو سکتی ہے کے مقابلے میں اس اسکیم کا محض 50 ارب روپے کا ہدف کوئی بھاری مطالبہ نہیں تھا ۔ محصولات کے لحاظ سے یہ رقم انتہائی معمولی حیثیت رکھتی ہے لیکن اس عمل کی اہمیت فوری وصولی کے ہدف سے کہیں بڑھ کر ہے۔اگر ریاست کسی ایسی اسکیم پر عمل درآمد نہیں کروا سکتی جسے خاص طور پر ٹیکس کے نظام میں شمولیت کو آسان بنانے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہوتو مستقبل میں ٹیکس اصلاحات کے اعتبار اور ساکھ کو ناگزیر طور پر نقصان پہنچے گا۔حکومت نے اب اس شعبے کی میپنگ کا دانشمندانہ قدم اٹھایا ہے ۔اگلا امتحان یہ ہے کہ آیا وہ اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچاتی ہے یا نہیں ۔ ریٹیلرز نے بارہا سیاسی دبائو اور خلل ڈال کر ٹیکس کے نفاذ کی مزاحمت کرنے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔اس بار،ٹیکس کا ایک وسیع تر اور منصفانہ نظام تشکیل دینے کے ریاستی عزم پر وہ دبا دوبارہ حاوی نہیں ہونا چاہیے؛اس عمل میں ٹیکس کی ادائیگی کو کسی سودے بازی کے بجائے ایک لازمی ذمہ داری سمجھا جائے اور قوانین کا اطلاق بلا تفریق اور یکساں طور پر کیا جائے۔اصلاحات کی پوری کوشش کا انحصار بالآخر اسی بات پر ہوگا کہ آیا اس عزم کو برقرار رکھا جاتا ہے یا نہیں۔
غزہ کا کرب
اسرائیل پر حماس کے 7 اکتوبر کے حملوں کو تین سال گزر چکے ہیں لیکن غزہ کے عوام بدستور ایک ڈرانے خواب جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اسرائیل نے مقبوضہ پٹی کا محاصرہ مزید سخت کر دیا ہے جبکہ نام نہاد جنگ بندی بھی خونریزی روکنے میں ناکام رہی ہے۔مزید برآں،اس واقعے کے اثرات پورے مشرقِ وسطی میں محسوس کیے جا رہے ہیں کیونکہ اسرائیل نے خطے کی کئی ریاستوں کے خلاف جارحانہ کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں،اور امریکہ بھی ان میں سے کچھ مہم جوئیوں میں شریک ہے۔حماس کے حملوں سے قبل بھی غزہ کے عوام انتہائی کسمپرسی کی حالت میں رہ رہے تھے؛فلسطینی مزاحمتی گروپ کے اقدامات — جو درحقیقت اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کی ایک کوشش تھی — نے تل ابیب کو مقبوضہ علاقے پر مزید شدت کے ساتھ حملہ کرنے کا بہانہ فراہم کر دیا۔اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 74 ہزار سے زائد افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ کے عوام نسلوں تک ان زخموں کا بوجھ اٹھائے رکھیں گے۔امدادی تنظیمڈاکٹرز ودآئوٹ بارڈرزکا کہنا ہے کہ اسرائیلغزہ کا دم گھونٹ رہا ہے… اور اپنی نسل کشی کی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔زمینی صورتحال یہ ہے،جبکہ نام نہاد امن عمل تعطل کا شکار ہے کیونکہ اسرائیل اپنے قبضے کو ختم کرنے سے انکاری ہے، حالانکہ حماس اپنے ہتھیار حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کر چکی ہے ۔دریں اثنا، مغربی کنارے میں انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں پر دہشت کا راج قائم کر رکھا ہے۔مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے باہر بھی،اسرائیل نے لبنان اور شام کی مزید زمینوں پر قبضہ کر لیا ہے اور ساتھ ہی ایران اور یمن پر بھی حملے کیے ہیں۔7 اکتوبر کے واقعات سے ملنے والا سبق یہ ہے کہ جب کسی قوم کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جائے،انہیں ان کی آبائی زمین سے بے دخل کر دیا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جائے،تو وہ ہر ممکن ذریعے سے مزاحمت کرے گی۔اپنی عملداری میں رہنے والے فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کا رویہ مجرمانہ تھااور 7 اکتوبر کے حملوں پر اس کا ردعمل نسل کشی پر مبنی رہا ہے ۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن اس وقت تک بے معنی رہے گا جب تک کہ تمام مقبوضہ فلسطینی علاقے آزاد نہیں کرا لئے جاتے اور اسرائیل کو بے گناہوں کے قتلِ عام کا خمیازہ بھگتنے پر مجبور نہیں کیا جاتا ۔ صیہونیوں کی ہٹ دھرمی کے باعث دو ریاستی حلایک ناقابلِ حصول خواب بنا ہوا ہے جبکہ بورڈ آف پیس کی جانب سے بڑھا چڑھا کر پیش کیے جانے والے دیگر خیالی حل فلسطینی عوام کے ساتھ ایک ظالمانہ مذاق ہیں ۔ فلسطین کو انصاف ملے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔
صحت بخش خوراک کا فقدان
پاکستان میں غذائیت کے مسائل کا ذمہ دار عام طور پر غربت،ناقص غذائی عادات یا آگاہی کی کمی کو ٹھہرایا جاتا ہے لیکن ایف اے او کے مطابق،حقیقت یہ ہے کہ ملک میں ان بہت سی غذائی اشیا کی پیداوار ہی ناکافی ہے جو صحت بخش غذاء کیلئے ضروری ہیں۔ایک کامیاب غذائی پالیسی کا مرکز یہ سوال کم ہونا چاہیے کہ آیا کافی مقدار میں کیلوریز پیدا ہو رہی ہیںبلکہ اس بات پر زیادہ ہونا چاہیے کہ آیا عام خاندان صحت مند زندگی کیلئے درکار خوراک خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں اور اسے باقاعدگی سے حاصل کر سکتے ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *