بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Thursday, 08 October 2026 | پاکستان: 28 ر بیع الثانی 1448

چمکتی اسکرینوں کے اسیر: ایک خاموش وبا کی کہانی

Thursday, 8 October, 2026

پاکستان کی کسی یونیورسٹی کی کینٹین میں چلے جائیے، کسی اسکول کی راہداری سے گزریے یا کسی ہاسٹل کے کمرے میں جھانک لیجیے؛ منظر تقریباً ایک سا دکھائی دے گا: جھکے ہوئے سر، متحرک انگوٹھے اور ایک ننھی سی روشن اسکرین میں گم آنکھیں۔ اسمارٹ فون ہمارے طلبہ کا محض ایک آلہ نہیں رہا، وہ ان کا ہم نشین، رازدار اور بعض اوقات ان کی تنہائی کا واحد ساتھی بن چکا ہے۔ ہم اس منظر کے اتنے عادی ہو گئے ہیں کہ اب ہمیں یہ سوال بھی بے معنی سا لگتا ہے کہ آخر یہ ننھی سی اسکرین ہماری نئی نسل کے ساتھ کر کیا رہی ہے۔شاید اس سوال کا ایک جواب اس لفظ میں چھپا ہے جسے ہم عموماً استعمال نہیں کرتے،نیوفیلیا ۔ نیوفائل وہ شخص ہے جسے نئی چیزوں سے محبت ہو۔ نفسیات کی دنیا میں نئی چیزوں کی جستجو بذاتِ خود کوئی بیماری نہیں؛یہی تجسس انسان کو دریافت، تحقیق اور تخلیق کی طرف لے جاتا ہے۔ مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں نیا پن خود مقصد بن جائے؛ جہاں انسان کسی اطلاع، ویڈیو، رجحان یا پیغام کی طرف اسلئے لپکے کہ وہ مفید ہے، نہیں بلکہ اس لیے کہ وہ نیا ہے۔ اسمارٹ فون اس خواہش کیلئے شاید دنیا کی سب سے کامل مشین ہے۔ ہر چند سیکنڈ بعد ایک نئی تصویر، نیا پیغام، نئی ویڈیو، نیا رجحاناور یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ہمارے طلبہ میں اس کیفیت کی نشانیاں اب چھپی نہیں رہیں۔ وہ بے چین ہیں۔ایک کتاب،ایک لیکچر یا ایک خیال کیساتھ چند منٹ خاموشی سے بیٹھنا بھی دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ انگلی بے اختیار فون کی طرف بڑھتی ہے۔ انہیں ہر وقت یہ اندیشہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں دنیا میں کچھ ایسا نہ ہو جائے جس سے وہ بے خبر رہ جائیں۔ توجہ مختصر ہو گئی ہے، انتظار ناقابلِ برداشت اور گہرائی بوریت کا دوسرا نام بنتی جا رہی ہے۔ بہت سے نوجوانوں کیلئے اپنی شناخت اب کتابوں، کردار، علم یا عمل سے زیادہ فالوورز، لائکس اور اس تصویر سے بنتی ہے جو وہ دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔یہ تجسس نہیں۔تجسس پوچھتا ہے: “کیا یہ سچ ہے؟”نیوفیلیا صرف پوچھتی ہے: “اب آگے کیا ہے؟”اس خاموش لت کا پہلا اور شاید سب سے بڑا شکار تعلیم ہے۔حقیقی علم یکسوئی مانگتا ہے۔ ایک خیال کو سمجھنے، پرکھنے اور ذہن میں جگہ دینے کیلئے وقت درکار ہوتا ہے۔ ایک طالب علم جو ہر چند منٹ بعد اپنا فون دیکھتا ہے، اسے وہی سبق سمجھنے میں کہیں زیادہ وقت لگ سکتا ہے اور جو کچھ سمجھ میں آتا ہے وہ بھی اکثر سطحی رہ جاتا ہے۔ پوری کتاب پڑھنے کا صبر کم ہوتا جا رہا ہے۔ معلومات اور طالب علم کے اپنے ذہن کے درمیان ہونے والی وہ کشمکش کم ہوتی جا رہی ہے جس سے حقیقی علم جنم لیتا ہے۔کلاس روم میں استاد بول رہا ہوتا ہے اور میز کے نیچے ایک اور دنیا آباد ہوتی ہے۔ استاد سامنے موجود ہے، مگر ذہن کسی اور جگہ سفر کر رہا ہے۔ملک بھر کے اساتذہ ایک ہی شکایت دہرا رہے ہیں: طلبہ جسمانی طور پر کلاس میں موجود ہوتے ہیں، مگر ذہنی طور پر وہاں نہیں ہوتے۔جب ذہن مسلسل ٹکڑوں میں معلومات وصول کرنے کا عادی ہو جائے تو امتحانی نتائج ہی متاثر نہیں ہوتے؛ تحقیق کا معیار، تحریر کی روانی، استدلال کی قوت اور ایک مکمل خیال کو مربوط انداز میں بیان کرنے کی صلاحیت بھی کمزور پڑنے لگتی ہے۔ رات گئے تک اسکرولنگ نے نیند کو زندگی کے حاشیے پر دھکیل دیا ہے۔ نوجوان فون کو اپنے ساتھ بستر تک لے جاتے ہیں اور صبح آنکھ کھلتے ہی ہاتھ سب سے پہلے اسی کی طرف بڑھتا ہے۔وہ طویل گفتگوئیں کہاں گئیں جو کبھی دوستی کی پہچان تھیں؟ اب کئی رشتے چند ایموجیز، مختصر پیغامات اور ایک دوسرے کی پوسٹ پر کیے گئے ردِعمل تک محدود ہوتے جا رہے ہیں۔وہ وقت جو کھیل میں گزر سکتا تھا، کتاب میں ڈھل سکتا تھا، عبادت میں صرف ہو سکتا تھا، کسی ہنر کو سیکھنے میں لگ سکتا تھا یا کسی ضرورت مند کے کام آ سکتا تھا، وہ جانے کب اور کیسے اسکرین کی روشنی میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر شخص اپنی زندگی کا بہترین منظر دکھاتا ہے۔ اپنی تھکن، ناکامی، تنہائی اور شکست نہیں؛ صرف کامیابی، مسکراہٹ، سفر، جشن اور خوب صورتی۔ ایک نوجوان جب اپنی پوری، حقیقی اور معمولی زندگی کا موازنہ کسی دوسرے کی چنی ہوئی، سنواری ہوئی اور مصنوعی طور پر خوب صورت بنائی گئی زندگی سے کرتا ہے تو اسے اپنی زندگی اچانک کم تر محسوس ہونے لگتی ہے۔اور یوں اسکرین صرف وقت نہیں کھاتی، خود اعتمادی بھی کھانے لگتی ہے۔اس عادت کی قیمت جسم بھی ادا کرتا ہے۔ طویل اسکرین ٹائم آنکھوں میں تھکن، خشکی اور سر درد کا باعث بن سکتا ہے۔ ذہنی صحت بھی اس مسلسل شور سے متاثر ہوتی ہے۔ اسکرین روشن رہتی ہے، مگر اندر کہیں اندھیرا بڑھتا رہتا ہے ۔ اس مسئلے کے مقابلے میں والدین دفاع کی پہلی صف ہیں، مگر اس جنگ کا آغاز بچوں سے نہیں، بڑوں سے ہونا چاہیے۔جس بچے کو ماں یا باپ خود ہر وقت فون میں مصروف رہ کر فون سے دور رہنے کا حکم دے، اس حکم میں تاثیر کہاں سے آئے گی؟ بچوں کو مہنگے اسمارٹ فون دینے میں جلدی نہ کی جائے، اور جب فون دیا جائے تو حدود غصے اور سزا کے ذریعے نہیں بلکہ باہمی گفتگو سے طے کی جائیں ۔ ضبط، جب سمجھ کے ساتھ آئے، تو زیادہ دیر قائم رہتا ہے۔بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ بہت سی ایپس اس طرح بنائی جاتی ہیں کہ ہماری توجہ زیادہ سے زیادہ دیر تک انکے پاس رہے۔ انہیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ آن لائن نظر آنے والی زندگی اکثر مکمل زندگی نہیں ہوتی، بلکہ اس کا منتخب اور سنوارا ہوا حصہ ہوتی ہے۔اور سب سے بڑھ کر، بچوں سے فون صرف چھیننا کافی نہیں۔انہیں اس سے بہتر متبادل دینا ہوگا: کھیل، کتابیں، باغ، سفر، گھر کی ذمہ داریاں، ہنر، تخلیق، گفتگواور سب سے بڑھ کر والدین کی اپنی رفاقت۔اس مسئلے کا حل صرف گھر کی چار دیواری میں نہیں۔سکولوں اور یونیورسٹیوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ڈیجیٹل لٹریسی کو محض ایک اضافی مضمون نہیں بلکہ بنیادی تعلیم کا حصہ بنانا چاہیے۔ طلبہ کو سمجھنا چاہیے کہ الگورتھمز کیسے کام کرتے ہیں، اشتہارات کس طرح ان کے رویوں کو متاثر کرتے ہیں، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کس طرح ان کی توجہ کو ایک قابلِ فروخت شے میں تبدیل کرتے ہیں۔کلاس رومز اور لائبریریوں میں مخصوص فون فری زونز بنائے جا سکتے ہیں۔ ایسے اسائنمنٹس دیے جانے چاہییں جن میں نقل یا فوری سرچ کے بجائے سوچ، تحقیق اور گہرائی درکار ہوطویل مضامین، پریزنٹیشنز، اصل منصوبے اور تخلیقی کام۔ذہنی صحت کیلئے کونسلنگ کی سہولیات بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ اساتذہ کو یہ تربیت ملنی چاہیے کہ ٹیکنالوجی کو تدریس کا آلہ بنائیں، خود تدریس کی جگہ نہ لینے دیں۔ انہیں اپنے طلبہ کے سامنے یکسو مطالعے اور سنجیدہ سوچ کی مثال بھی بننا ہوگااور شاید یونیورسٹیوں کو اپنے اندر بھی جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ہر نئے تعلیمی فیشن، ہر نئے بزورِ زبان مقبول نظریے اور ہر نئے ٹرینڈکے پیچھے بھاگنا بھی تو تعلیمی لباس میں نیوفیلیا ہی ہے۔یہ کہنا درست نہیں کہ اسمارٹ فون دشمن ہے۔ اسی چھوٹی سی اسکرین نے علم کے ایسے دروازے کھول دیے ہیں جن کا پچھلی نسلیں صرف خواب دیکھ سکتی تھیں۔ ایک طالب علم دنیا کی بہترین کتابوں تک پہنچ سکتا ہے ، کسی استاد سے سیکھ سکتا ہے، نئی مہارت حاصل کر سکتا ہے، اپنا کاروبار شروع کر سکتا ہے اور دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود مواقع تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں یا ٹیکنالوجی ہمیں استعمال کر رہی ہے؟نیوفیلیا کا علاج نئی چیزوں سے نفرت یعنی نیوفوبیا، نہیں۔ علاج امتیاز، شعور اور انتخاب ہے۔ ہمیں نئی چیز سے بھاگنا نہیں؛ ہمیں یہ سیکھنا ہے کہ ہر نئی چیز ہمارے وقت، توجہ اور زندگی کی مستحق نہیں ہوتی۔ہر نوٹیفکیشن ضروری نہیں۔ہر وائرل چیز قابلِ قدر نہیں۔ہر نئی چیز بہتر نہیں ہوتی ۔ اور ہر خاموش لمحہ ضائع نہیں ہوتا ۔ پاکستان اس خاموش وبا کو نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔قوموں کا مستقبل صرف پارلیمانوں، صنعتوں اور بازاروں میں نہیں بنتا؛ وہ کلاس رومز میں تشکیل پاتا ہے۔ اگر ہماری نئی نسل مسلسل منتشر ذہن، کمزور توجہ، بے خواب راتوں اور بے قراری کیساتھ بڑی ہوگی تو وہ ان عظیم مسائل کا سامنا کیسے کرے گی جن کے حل کیلئے صبر، گہرائی، تخیل اور طویل جدوجہد درکار ہے؟تعمیر ہمیشہ یکسوئی مانگتی ہے۔کتاب لکھنے کیلئے یکسوئی چاہیے۔تحقیق کیلئے یکسوئی چاہیے ۔ ایک قوم بنانے کیلئے بھی یکسوئی چاہیے۔شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے گھروں، کلاس رومز اور اپنے اندر ایک سادہ سا سوال دوبارہ زندہ کریں:میں اپنے فون کو استعمال کر رہا ہوں،یا میرا فون مجھے استعمال کر رہا ہے؟

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *