بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 26.7°C
Tuesday, 16 June 2026 | پاکستان: 1 محرم 1448

فلسطین صرف عربوں کا نہیں مسلم امہ کا مسئلہ ہے

Monday, 30 October, 2023

جناب سراج الحق امیر جماعت اسلامی پاکستان نے اسلام آباد میں عظیم الشان غزہ مارچ سے خطاب میں کہا کہ غزہ میں جمعہ کے دن اذان دی گئی تو بمباری کی وجہ سے کوئی نہیں آسکا۔ مسجد میں شہیدوں کے خون کے علاوہ کوئی چیز نہیں تھی۔ یہ عربوں کا نہیں ہر مسلمان کا مسئلہ ہے۔ افسوس ہے کہ مسلم حکمرانوں نے کوئی فرض نہیں ادا کیا۔ امیر جماعت اسلامی نے واضح طورپر کہا کہامریکہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے تو ہم بھی فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جب تک اسرائیلی دہشتگردی ختم نہیں ہوتی ہم تحریک جاری رکھیں گے، 19 نومبر کو ہمارا ملین مارچ لاہور میں ہوگا۔ حماس نے امریکہ کو پیغام دیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے مقابلے میں ایمان کی طاقت زیادہ مضبوط ہے۔حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل حانیہ نے جماعت اسلامی کی غزہ مارچ سے ٹیلی فونک خطاب میں کہا میں فلسطین اور غزہ کے عوام کی جانب سے آپ کو سلام پیش کرتا ہوں۔ آپ کا یہ عظیم الشان اقصی مارچ جو جماعت اسلا می پاکستان کے امیر سراج الحق کی قیادت میں اسلام آباد میں منعقدہوا، یہ مارچ ایک جانب امریکہ کےلئے پیغام ہے جس نے غزہ کے عوام کے قتل عام کےلئے اسرائیل کی حمایت کا اعلان کیا اور غزہ کے بچوں، خواتین اور بوڑھوں کے قتل عام کےلئے ہر قسم کا اسلحہ اسرائیل کو فراہم کیا۔ دوسری جانب یہ اسرائیل کی ناجائز غاصب حکومت کےلئے پیغام ہے فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے اور ہم اس کی ایک انچ سے بھی دستبردارہونے کےلئے تیار نہیں۔ تیسری جانب غزہ کےلئے بالخصوص اور تمام فلسطینیوں کےلئے بالعموم یہ پیغام ہے کہ تم اس معرکے میں اکیلے نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے عوام تمہاری پشت پر کھڑی ہے۔ حماس کے مجاہدین اور فلسطین کے عوام نے طوفان الاقصی کے نام سے دشمن کے مقابل ایک طوفان برپا کردیا ہے جس نے دشمن کے تمام عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے جو وہ مسجد اقصی کو منہدم کرنے اور مسجد اقصی پرقبضہ کر نے کی کوشش کر رہے تھے، اور جو یہ سمجھتے تھے کہ غزہ کے عوام کو دائمی محاصرے میں اور فلسطینی عوام کو دائمی غلامی میں رکھیں گے۔ گذشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی اسرائیل اور امریکہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جب 120 ممالک نے غزہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ نے تسلیم کیا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی زمینوں پر قابض ہے۔ صیہونی ریاست نے جنرل اسمبلی کی جنگ بندی کی قراردار کی بھی پروا نہیں کی۔ پاکستان کے عوام نے اور بالخصوص جماعت اسلامی پاکستان نے ہمیشہ القدس اور فلسطین کے بارے میں کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور ہمیشہ دوٹوک موقف کا اظہار کیا۔ میں آپ کے اس عظیم الشان مظاہرے کے توسط سے پوری پاکستانی قوم کو سلام پیش کرتا ہوں اور فلسطینی عوام کی جانب سے احترام پیش کرتا ہوں۔گزشتہ 56 سالوں سے فلسطینیوں کی سر زمین پر اسرائیلیوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ اس مرتبہ ہسپتالوں، سکولوں، سول آبادی پر بمباری کی گئی۔ افسوس کا مقام ہے کہ مسلمان حکمرانوں نے امریکہ کی طرف دیکھنا شروع کیا ہے۔ ہمارے حکمرانوں میں دم خم نہیں ہے۔ حکمران اللہ کی غلامی یا امریکی غلامی دونوں میں سے ایک کا انتخاب کریں۔فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی نہیں رکے گی۔ بدمعاش امریکہ کیلئے افغانستان کو قبرستان بنایا گیا۔ غزہ مارچ امریکا کے لیے پیغام ہے کہ اسرائیلی سفاکیت کا ساتھ نہ دے۔ فلسطین میں معصوموں کا قتل عام بند، جنگ زدہ علاقہ میں امدادی سامان پہنچایا جائے۔ عالمی برادری فوری سیز فائر کرائے۔ سینیٹر سراج الحق صاحب نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی لاہور میں فلسطین ملین مارچ کا انعقاد کرے گی۔اسلامی ممالک فلسطین پرفیصلہ کریں۔ خوفزدہ رہے تو امت آپ کو معاف نہیں کرے گی۔ تاریخ میں آپ کا احتساب ہوگا۔ آج اگر عملی اقدام نہ اٹھائے گئے تو میر جعفر میر صادق تصور کیے جاو ¿ گے۔ اہل فلسطین سے اظہار یکجہتی کےلئے ہونے والے تاریخی مارچ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جن میں بچے، خواتین بھی شامل تھیں۔ جناب سراج الحق نے کہا کہ انسانوں کا سمندر امریکا کےلئے ایک پیغام ہے۔ امریکا اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے تو ہم غزہ کے مظلوموں کے ساتھ ہیں۔ ہم نے امریکی سفارتخانہ کے سامنے غزہ مارچ کا اعلان کیا تو حکمران خوفزدہ ہو گئے، اسے روکنے کےلئے ہمارے کارکنوں پر تشدد کیا۔ حکمرانوں سے پوچھنا چاہتا ہوں آپ کس کو خوش کرنا چاہتے ہیں؟ جب اسلام آباد میں کارکنوں پر لاٹھیاں برسائی جارہی تھیں تو ترکیہ میں طیب اردوغان لاکھوں لوگوں سے خطاب کررہے تھے۔ غزہ میں کھانا، دوائی، پانی اور کپڑے پہنچانے کا کام الخدمت ترکی کے ساتھ مل کر کر رہی ہے۔ الخدمت فاو ¿نڈیشن کے تحت غزہ متاثرین کےلئے امدادی سامان کی پہلی کھیپ روانہ کر دی گئی۔ اس امدادی سامان میں غذائی اجناس، ڈیلیوری کٹس، بے بی کٹس، ادویات، ہائی جین کٹس، مچھر دانیاں اور ضرورت کی دیگر اشیاءموجود ہیں۔ الخدمت کا بین الاقوامی رفاہی اداروں کے اشتراک سے 7 اکتوبر سے ہی غزہ میں ریلیف آپریشن جاری ہے۔الخدمت فاو ¿نڈیشن بین الاقوامی اداروں کے ذریعے امدادی سامان رفح بارڈر پر پہنچا چکی ہے جہاں رفح بارڈر کچھ وقت کے لیے بھی کھلا تو امدادی سامان کے ٹرک متاثرہ علاقوں تک پہنچ جائیں گے۔ غزہ اِس وقت شدید انسانی بحران کا شکار ہے جہاں پانی، خوراک اور طبی امداد کی اشد ضرورت ہے۔ الخدمت فاو ¿نڈیشن کے تحت اب تک 15 کروڑ کا امدادی سامان فراہم کیا جا چکا ہے اور مزید 50 کروڑ روپے بھی غزہ متاثرین کےلئے مختص کر دئیے گئے ہیں۔ الخدمت کی خدمات کو ملک و بیرون ممالک قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جب بھی مصیبت کی گھڑی میں الخدمت نے اپیل کی، درد دل رکھنے والے خواتین و حضرات نے دل کھول کر عطیات دیے۔ ہمیں امید ہے کہ پاکستانی قوم فلسطینیوں کی مدد کو آگے بڑھے گی۔ دیگر این جی اوز ادارے ہمارے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیں تو ہم ایک دوسرے کے دست و بازو بن کر نازک ترین حالات میں فلسطینی متاثرہ عوام کی خدمت کر سکتے ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *