بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 30°C
Wednesday, 23 September 2026 | پاکستان: 12 ر بیع الثانی 1448

مجبوری یا تہذیب

Friday, 17 November, 2023

بزدلی،مجبوری، بے بسی، بے حسی، لاچاری،غربت اورظلم و ناانصافی کبھی ہجرت کا باعث بنتی ہے توکبھی جیتے جاگتے انسان کوسنجیدگی کے لبادے میں شو کیس میں سجا ہوا تہذیب یافتہ کھلونا بنا دیتی ہے اور باشعور ہونے کا شائبہ پیدا کرتی ہے۔ احوال کچھ یوں ہے کہ بینکوں،پٹرول پمپس ، پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور ائرپورٹس کے ڈیپارچر کا ¶نٹر پر لگی لمبی لمبی قطاروں نے مہذب معاشرے کی ایسی شکل پیش جسے دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا بینکوں کے باہر لگی لائنوں کو دیکھ کر طمانیت ہوئی کہ ہماراے ملک کی معیشت کافی بہترہوگئی ہے کہ عام بندہ بھی اپنی تنخواہ یا بچت بینک میں جمع کروا رہا ہے پوچھنے پرپتہ چلاکہ یہ سب تو ملک کی غیر یقینی صورت حال کودیکھتے ہوئے اپنا پیسہ بینکوں سے نکلوا رہے ہیں ایسا ہی پٹرول پمپس پر پٹرول لینے لائنوں میں لگی ہوئی کاریں موٹر سائیکل اور بسوں کودیکھ کر را ز کھلا کہ پٹرول مہنگاہونے کے ڈر سے رات بارہ بجے تک پٹرول لینے کے چکر میں کھڑے ہیں مہذب نہیں مجبور ہیں ایسا ہی کچھ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے باہر لائنز میں لگے والدین اوربچوں کو دیکھ کر احساس ہواکہ ہمار ا تعلیمی تناسب کافی بہتر ہوگیاہے جو گورنمنٹ کے تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ اداروں کے باہر بھی اتنے لوگ لائنزمیں لگے ہوئے ہیں مگر پردہ اٹھا تو پتہ چلا تعلیم بیچی اور خریدی جارہی ہے دی نہیں جا رہی کیونکہ گورنمنٹ خود تعلیمی اداروں کی نجکاری کو رواج دے رہی ہے اس کے ساتھ ذہن میں دوکروڑبچے گھوم گئے جو سکول نہیں جار رہے ان کی تعداد بڑھتی ہوئی لاتعدادا میں تبدیل ہوگئی اورمیرے ذہن میں جنگلی جانوروں کی زندگی کا منظر گھوم گیااور ائرپورٹس کے ڈیپارچر کا ¶نٹر پر تہذیب یافتہ افرادکی لائنوں سے پتہ چلاکہ ملک کی غیریقینی صورت حال نے لوگوں کو ملک سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیاہے، ایسا ہی مطلق العنان بادشاہ کے دربار کا سماں دیکھا چہرے پر جلال لیے شاہی پروٹوکول میں گا ¶ں پہنے ہوئے قاضیوں کو پسند ناپسند اور مرضی کے فیصلے کرتے دیکھا گناہ گار و ں اور مجرموں کو جیل سے باہرپروٹوکول کے ساتھ گھومتے دیکھا تو بے گناہوں کوکال کوٹھڑیوں میں قیدپایا پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ عدالتیں ہیں یہاں آئنوں و قانو ن کو بے لباس کیاجاتاہے قانون کوانصاف کے نام پرسیاسی و ذاتی مخالفوں سے انتقام لیا جاتا ہے اور مجبورر رعایا کے کیسز کو اتنا لٹکایا جاتا ہے کہ یا تو تھک ہار کر خود ہی صلح کرلیتے ہیں یا پھر جھنجلاہٹ کا شکار ہوکر آپس میں لڑائی جھگڑا کرکے فوجداری کیسز میں الجھ کر پولیس کاشکاربن جاتے ہیں اور تھانوں میں بدکرداروں،مجرموں اور ٹا ¶ٹوں کو کرسیوں کی زینت بنے دیکھ کراداروں کا اچھا تاثر پیدا ہوا کہ ہماری پولیس بہت شائستہ ہوگئی ہے مگر ساتھ ہی بے گناہوں، باعزت اور سلجھے ہوئے افراد کو خوف سے تھر تھر کانپتے دیکھا تو ملک سے ہجرت کرنے والوں ائیر پورٹ کے ڈیپارچر کو ¶نٹر پر لگی لائنز کی وجہ بھی سامنے آگئی اسی طرح ریونیودفاتر میں جائیداد کی خریدوفروخت اور خریداروں کے چہروں پر فاتحانہ مسکراہٹ دیکھ کر ایک لمحے کومحسوس ہواکہ رئیل سٹیٹ کے کاروبار نے بام عروج پکڑا ہے مگرمہنگی جائیدادوں کو کوڑیوں کے مول خریدتے اوربے بسی و مایوسی کی حالت میں فروخت کنندہ تو دیکھا یہ عندیہ کھلا کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس نے یہ حال رچا یا ہے اور پھر ایرپورٹس کے ڈیپارچر کا ¶نٹر پر لگی لمبی لائنز بھی یاد آگئی،دو سیٹوں کےلئے ہاتھوں میں ڈگریاں پکڑے اعلیٰ تعلیم یافتہ بیس ہزار نوجوانوں کو لائنز میں لگے دیکھا تو ڈیپارچر کا ¶نٹر کا منطربھی نظروں کے آگے گھوم گیا اسی طرح بڑے بڑے آرائشی محلات شکل سے سلجھے ہوئے لوگوں کو آپس میں لاتوں اور گھونسوں سے لڑتے دیکھا تو میں سمجھایہ ریسلنگ حال ہے گر ایک سیانے نے بتایا کہ یہ اسمبلی حال ہے لڑنے پہلوان نہیں آپ کے منتخب کردہ نمائندے ہیں ملک ترقی کیوں نہیں کررہا مجھے اچھے سے سمجھ آگئی، مختلف چوراہوں میں چھالوں بھرے ہاتھ پژ مردہ اورامید و ناامید کی کشمکش میں ڈوبے ہوئے اد ادھر ادھر کسی نامعلوم کی تلاش میں گھومتی ہوئی نگاہیں لیے سینکڑوں کو افراد کو دیکھا تو سمجھا شاید یہ کسی موٹیویشنل سپیکر کے آنے کے انتظار میں کھڑے ہیں مگر پوچھنے پر پتہ چلا کہ مزدور ہیں گھر کا چولہا جلانے کےلئے خود کو دھوپ میں جلا رہے ہیں کسی سیٹھ یا بلڈرز کا مزدوری کے لیے راہ تک رہے ہیں ساتھ ہی لڑائی جھگڑے، چوری چکاری اور دو کروڑ بچوں کے سکول نہ جانے کی وجہ بھی سمجھ آگئی محل نما کوٹھیوں اور بڑے بڑے ہوٹلوں کے کوڑے دانوں میں پھینکی ہوئی انواع واقسام کی غذائی اشیاءکو چیتھڑوں میں لپٹی ہوئی انسان نما مخلوق کو اسے کھانے میں مصروف دیکھا تو مجھے پچھلی قوموں پر آنے والے عذا ب و آفات کی وجہ کے ساتھ ساتھ دنیا میں پیدا ہونے والی غذائی قلت کی وجہ بھی سمجھ آگئی اس منظر نے پھر نہ مجھے کچھ دیکھنے دیا نہ سوچنے دیا دل دھڑکن ہتوڑوں کی شکل اختیار کر گئی سانس بند ہونے لگی سر گھومنے لگا ٹانگیں کانپنی لگیں گماں تھا کہ میں گر جا ¶ں گا اتنے میں پاس سے ایک ملنگ کی آواز نے مجھے جھنجھوڑ دیا کہ بے حس، خودغرض، اور بزدل افراد کے معاشرے ایسے ہی ہوتے ہیں۔
٭٭٭٭

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *