محسن نقوی کی بات درست ہے،اسے درست تناظر میں سمجھنا چاہیے،مزید صوبوں کی بحث جاری ہے۔
ہم چاہیں تو اسے یوں بھی پڑھ سکتے ہیں کہ مزید انتظامی یونٹس کی بحث جاری ہے۔چھوٹے انتظامی یونٹس کیوں ضروری ہیں؟ اس سوال کا بہترین جواب وہ عام آدمی دے سکتا ہے جو بڑے شہروں سے کچھ فاصلے پر رہتا ہے۔ جو لوگ بڑے شہروں میں رہتے ہیں وہ شاید اس مسئلے کو اس طرح نہیں سمجھ سکتے جیسے دور دراز کا کوئی آدمی اس مسئلے کی اہمیت کو جان سکتا ہے۔ بڑے شہروں میں تو تعلیمی ادارے،ہسپتال اور ہائی کورٹس سمیت سب کچھ ہے۔ لیکن دور دراز علاقوں میں رہنے والا آدمی سوتیلے پن کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے۔
انصاف تو ہوتا ہے، عدالتیں بھی موجود ہوتی ہیں، لیکن ذرا تصور کیجیے کہ میانوالی کے کسی غریب آدمی کو انصاف کے حصول کے لیے ہائی کورٹ لاہور جانا پڑے تو اس کے لیے حصولِ انصاف کتنا مشکل ہو جائے گا۔ اور یہ تو صرف ایک مثال ہے۔ کسی کو ہسپتال کے لیے لاہور جانا ہے، کسی کو سرکاری کام کے لیے لاہور جانا ہے، کسی کو اپنے کسی عزیز یا عزیزہ کا تبادلہ کروانے لاہور جانا ہے، تو کسی کو کسی سرکاری محکمے کا کوئی کام پڑ گیا ہے، اس کے لیے لاہور جانا ہے۔
اس معاشی دبا ؤکے ماحول میں لاہور کے دو چکر بہت سارے لوگوں کی ماہانہ تنخواہ کھا سکتے ہیں۔
اور یہ مسئلے کا ایک پہلو ہے۔ مسئلے کا دوسرا پہلو ہمیں کراچی میں نظر آتا ہے جو شاید اس سے بھی سنگین ہے۔ مسئلے کا ایک اور پہلو ہم اسلام آباد میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔
باہر کے لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام آباد میں زندگی کی ہر سہولت دستیاب ہے، یہ بہت پرآسائش شہر ہے، لیکن کبھی کوئی اسلام آباد کے مقامی لوگوں سے جا کر پوچھے تو اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا کہ مقامی لوگوں کے وجود میں سوتیلے پن کا زہر کیسے اتر چکا ہے۔ ان کی کوئی مقامی حکومت نہیں ہے، ان کی تو کوئی صوبائی اسمبلی بھی نہیں ہے۔ افسر شاہی فیصلے کرتی ہے، اور افسر شاہی تک عام آدمی پہنچ ہی نہیں سکتا۔
پھر اس کو ایک اور زاویے سے بھی دیکھیں۔ ملک میں جب کبھی جمہوریت نہیں رہتی تو عوام اس سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
یہ اس لیے ہوتا ہے کہ جمہوریت کے ثمرات عام آدمی تک کبھی پہنچے ہی نہیں۔ تو پھر جب کبھی جمہوریت کا بوریا بستر لپیٹا جاتا ہے تو عام آدمی کو اس کی کوئی تکلیف ہی نہیں ہوتی۔ اگر جمہوریت کے ثمرات نیچے تک پہنچیں اور اگر جمہوری عمل میں عام لوگ شریک ہوں گے تو پھر وہ جمہوری عمل کے محافظ بھی بنیں گے، پھر جمہوری عمل کی پامالی پر انہیں تکلیف بھی محسوس ہوگی۔
موجودہ حالت میں تو جمہوریت بڑے شہروں کی چند شخصیات تک محدود ہو گئی ہے، اس لیے عام آدمی اس عمل سے لاتعلق ہو جاتا ہے۔
یہی معاملہ مخصوص نشستوں کا ہے۔ کہنے کو تو مخصوص نشستیں پورے ملک میں تقسیم ہوتی ہیں، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ یہ چند بڑے شہروں کے چند خاندانوں میں ہی تقسیم ہو جاتی ہیں۔ عام آدمی پھر جمہوری عمل سے لاتعلق رہتا ہے۔
جب عام آدمی جمہوری عمل سے لاتعلق رہتا ہے، جب اسے شراکتِ اقتدار کا احساس نہیں ہوتا، تو وہاں ایک خلا پیدا ہوتا ہے۔ اس خلا میں ملک دشمن قوتیں بھی آپریٹ کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ اس کی مثال ہم خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دیکھ چکے ہیں۔
اس لیے یہ ضروری ہے کہ ایک ایسا جمہوری ماڈل ہو جس میں دور دراز کے لوگوں تک بھی اختیار پہنچے۔ وہ اپنی قسمت کے فیصلے خود کریں، انہیں شراکتِ اقتدار کا احساس ہو۔
لاہور، کوئٹہ، پشاور اور کراچی سے دور کے اضلاع خود یہ فیصلہ کریں کہ ان کے مسائل کیا ہیں، انہیں اپنا بجٹ کہاں لگانا ہے، ان کی افسر شاہی کی مشینری ان کی دسترس میں ہو، ان کے حکمران ان کے لیے افسانوں اور ناولوں کے دور دراز کے کردار نہ ہوں بلکہ ان کے اپنے سامنے کے لوگ ہوں۔
اس لیے یہ بہت ضروری ہے۔
اس کی بنیاد کوئی لسانی یا علاقائی منافرت نہیں ہے۔ اس کی بنیاد خالصتا انتظامی ہے، اور یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔ بہت بڑے صوبے مینیج ایبل نہیں ہیں۔ ایک وزیر اعلی اور اس کی ٹیم کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں، وہ اتنے بڑے صوبوں کو ان کی موجودہ شکل میں گورن نہیں کر سکتے۔
نتیجہ یہ ہے کہ نچلی سطح پر کرپشن بھی بڑھ رہی ہے، کوئی چیک اینڈ بیلنس بھی نہیں ہے۔
تو گورننس کا ایک نیا ماڈل اگر متعارف کرایا جا رہا ہے تو میری رائے میں تو یہ ایک اچھا کام ہے۔
اور میں تو یہ تجویز بھی دوں گا کہ اس کی شروعات اسلام آباد سے کر لی جائے۔
اسلام آباد میں پہلے سے ہی چیف کمشنر کے پاس ایک وزیر اعلی کے اختیارات موجود ہیں، اور چیف کمشنر ظاہر ہے کہ منتخب آدمی نہیں ہے، لیکن اختیارات تو وزیر اعلی کے ہیں۔ تو جب اختیارات وزیر اعلی کے ہیں تو پھر یہاں اگر ایک صوبہ بن جائے اور ایک منتخب وزیر اعلی آ جائے تو اس میں کیا حرج ہے؟
ہائی کورٹس صرف صوبوں میں ہوتی ہیں، لیکن اسلام آباد میں ہائی کورٹ بھی موجود ہے، بار کونسل بھی اسلام آباد میں موجود ہے، تو اسلام آباد کو ایک صوبہ بنانے میں کیا امر مانع ہے؟
آئی جی بھی صرف صوبوں میں ہوتا ہے، اور اسلام آباد میں ایک آئی جی صاحب بھی ہیں، تو پھر اسلام آباد کو ایک صوبہ ہی بنا دیں۔
تو اسلام آباد سے اگر اس کا آغاز ہو جائے اور پھر اسے دھیرے دھیرے پھیلایا جائے، چھوٹے چھوٹے انتظامی یونٹس قائم ہوں، وہ اپنے مالی معاملات میں خود مختار ہوں، ایک ٹائٹ قسم کی گورننس آئے، جو اس طرح کی الجھی الجھی اور ڈھیلی ڈھالی نہ ہو، معاشرے کے اندر خلا بھر جائیں، لوگ جمہوری عمل کا بھی حصہ بنیں، لوگوں کو شراکتِ اقتدار کا بھی احساس ہو۔
لوگوں کو یہ احساس ہو کہ وہ اپنے حکمران خود ہیں، ان کے حکمران ان کی مرضی سے بنے ہیں، ان کے علاقوں کے جو مسائل ہیں، ان کو سمجھتے ہیں۔ لوگوں کے پاس اپنے وسائل ہوں اور لوگ اپنے وسائل کے مطابق اپنے اپنے مسائل کو حل کریں۔
اب وہ وقت نہیں رہا کہ اتنے بڑے صوبوں کو اتنی دور سے بیٹھ کر آپ چلا سکیں۔
وہ ایک زمانہ تھا جب ایک وائسرائے بیٹھ کر پورے ہندوستان کو چلایا کرتا تھا۔ پھر وہ زمانہ بھی نہ رہا، پھر بات آگے بڑھ گئی، پھر اللہ کا شکر ہے، ہم نے آزادی بھی حاصل کر لی۔
اب ایک آزاد قوم کے طور پر بدلتے حالات میں ہمیں بصیرت کے ساتھ نئے فیصلے لینے چاہئیں، اور اگر نئے صوبے بنانے کا فیصلہ بھی ان میں شامل ہو تو اسے نیک شگون ہی قرار دیا جائے گا۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں