مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے بھیانک اور تباہ کن نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں پرامن سفارتکاری کے تمام دروازے رفتہ رفتہ بند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور خطہ ایک ہمہ گیر جنگ کی لپیٹ میں آتا محسوس ہو رہا ہے۔ ایران کے بنیادی ڈھانچے پر امریکی فضائی حملوں کا مسلسل ساتویں رات بھی جاری رہنا اور جواب میں ایران کی جانب سے کویت، بحرین اور اردن جیسے ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ تنازع اب محض ایک علامتی یا محدود نوعیت کی کشمکش نہیں رہا، بلکہ یہ ایک مکمل اور باقاعدہ علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کے واٹر پمپس، بجلی کی تنصیبات اور سٹریٹجک اہمیت کے حامل دو پلوں کو پہنچنے والا نقصان اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ اب معاشی اور عسکری دبا بڑھانے کیلئے شہری بنیادی ڈھانچے کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کسی بھی معاشرے کی زندگی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس قسم کے اقدامات نہ صرف انسانی بحران کو جنم دیتے ہیں بلکہ فریقین کے مابین مصالحت کے امکانات کو بھی یکسر ختم کر دیتے ہیں۔دوسری جانب ایران کی جوابی کارروائیوں نے اس جنگ کی شدت اور دائرہ کار کو مزید وسعت دے دی ہے۔ پنٹاگون اور امریکی سینٹرل کمان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اردن میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت، ایک کی گمشدگی اور چار دیگر کے شدید زخمی ہونے کی تصدیق اس حقیقت کو عیاں کرتی ہے کہ ایران اب امریکی عسکری طاقت کے سامنے دفاعی پوزیشن سے نکل کر انتہائی جارحانہ اور مہلک جوابی حکمت عملی اپنا چکا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کا یہ دعویٰ کہ پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں امریکی اڈے پر حملے کے دوران دو لڑاکا طیاروں اور تین دیگر طیاروں کو تباہ کر دیا ہے، اگر مکمل طور پر درست نہ بھی ہو تب بھی یہ امریکی فضائی دفاعی نظام کی افادیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ خطے میں موجود امریکی چھانیاں اب محفوظ نہیں رہیں اور ایران اپنی میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی ہدف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔اس سنگین عسکری تصادم کے اثرات اب خلیجی ممالک کی معیشت اور روزمرہ زندگی پر بھی براہِ راست مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ کویت سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایرانی حملوں کے نتیجے میں وہاں ایک اہم بجلی گھر اور واٹر پلانٹ میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی، جبکہ ایک تیل کی تنصیب کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن کی معطلی اور آگ بجھانے کے عمل کے دوران متعدد فائر فائٹرز کا زخمی ہونا اس بات کا غماز ہے کہ اس جنگ کی تپش اب ان ممالک تک پہنچ چکی ہے جو روایتی طور پر خود کو اس تنازع سے دور رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ تیل کی تنصیبات اور بین الاقوامی ہوائی اڈوں کو نقصان پہنچنے سے نہ صرف خطے کی معاشی سرگرمیاں مفلوج ہو کر رہ جائیں گی بلکہ عالمی سطح پر توانائی کا بحران بھی سنگین تر ہو سکتا ہے، کیونکہ خلیج کی تیل کی سپلائی لائنیں پوری دنیا کی معیشت کو متحرک رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔بحری تجارتی گزرگاہوں کی صورتحال بھی اس تنازع کے باعث انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ یمن کے ساحل کے قریب مسلح افراد کی جانب سے ایک اور بحری جہاز پر قبضہ کر لینا اس بات کی علامت ہے کہ بحیرہ احمر اور باب المندب جیسے حساس ترین سمندری راستے اب بین الاقوامی جہاز رانی کیلئے مکمل طور پر غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال عالمی تجارت کیلئے ایک بڑا دھچکا ہے جس سے اشیا کی نقل و حمل کی لاگت میں اضافہ ہوگا اور دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔ ان تمام بھیانک عسکری سرگرمیوں کے درمیان پانچ ماہ کے طویل تعطل کے بعد شیراز اور دبئی کے مابین پروازوں کی بحالی ایک غیر معمولی اور متضاد واقعہ معلوم ہوتی ہے، جو شاید یہ ظاہر کرتا ہے کہ شدید ترین کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے عوام اور معیشتیں کسی حد تک رابطے بحال رکھنے پر مجبور ہیں، تاہم یہ چھوٹی سی مثبت پیش رفت خطے پر چھائے ہوئے جنگ کے مہیب بادلوں کو چھپانے کیلئے کافی نہیں ہے۔سفارتی محاذ پر بھی صورتحال انتہائی مایوس کن اور تشویشناک رخ اختیار کر چکی ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا یہ اعلان کہ تہران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے تمام وعدوں پر عمل درآمد معطل کر دیا ہے، خطے میں امن اور ثالثی کی کوششوں کیلئے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایک ایسی پیشرفت تھی جس سے یہ امید وابستہ تھی کہ پاکستان اور دیگر علاقائی طاقتوں کے تعاون سے ایران اور عالمی قوتوں کے مابین کشیدگی کو کم کرنے کا کوئی راستہ نکل سکے گا لیکن اس کی معطلی سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ ایران اب کسی بھی ایسے معاہدے پر یقین رکھنے کیلئے تیار نہیں ہے جس میں امریکی اثر و رسوخ یا اس کی جانبداری شامل ہو۔ ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا حالیہ بیان اس سفارتی تعطل کی بنیادی وجہ کو مزید کھول کر بیان کرتا ہے۔ انہوں نے امریکہ پر معاہدوں کی بار بار خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ٹرمپ کے دستخط بے وقعت ہیں اور واشنگٹن نے اپنا حقیقی چہرہ بے نقاب کر دیا ہے جس سے اس کی مکاری اور بدنیتی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ رہبر اعلیٰ کا یہ کہنا کہ واشنگٹن کو ناقابل فراموش سبق سکھائیں گے، اس بات کا واضح اعلان ہے کہ ایران اب مذاکرات کی میز پر لوٹنے کے بجائے میدانِ جنگ میں ہی طاقت کا فیصلہ کرنے کا پختہ ارادہ کر چکا ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی معطلی پاکستان کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک امتحان ہے اور اب پاکستانی قیادت کو انتہائی دانشمندی اور غیر جانبداری کے ساتھ اس بحران میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے ۔ عالمی برادری، بالخصوص اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کو اب اپنی روایتی خاموشی اور بے حسی کو توڑنا ہوگا، عالمی طاقتوں کو سمجھنا ہوگا کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں بلکہ نئے اور زیادہ پیچیدہ مسائل کو جنم دیتی ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں، جنگ بندی کا اعلان کیا جائے اور طاقت کے استعمال کے بجائے اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت تمام تصفیہ طلب امور کو پُرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے، ورنہ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرے گی اور اس کے ہولناک نتائج آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑیں گے۔
یوم الحاق پاکستان اورتاریخی جدوجہد
یومِ الحاقِ پاکستان تاریخ کا وہ درخشاں اور ناقابلِ فراموش دن ہے جو تحریکِ آزادیِ کشمیر میں ایک منفرد اور دور رس اہمیت کا حامل ہے۔ ہر سال 19 جولائی کو دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری اس دن کو اس عزم کی تجدید کے ساتھ مناتے ہیں کہ ان کی منزل اور بقا ء پاکستان کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہ دن محض ایک سیاسی فیصلہ یا روایتی قرارداد نہیں تھا، بلکہ یہ کشمیر کے لاکھوں عوام کے دلوں کی دھڑکن اور ان کے اس گہرے نظریاتی، مذہبی اور ثقافتی رشتے کا منہ بولتا ثبوت تھا جو صدیوں سے برصغیر کے مسلمانوں اور کشمیریوں کے مابین قائم تھا۔ اس تاریخی دن کی اہمیت کو سمجھے بغیر مسئلہ کشمیر کی روح اور کشمیریوں کی بے مثال قربانیوں کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے ۔ تقسیمِ ہند کے وقت جب برصغیر کے مستقبل کا فیصلہ ہو رہا تھا تو کشمیری قیادت نے ڈوگرہ راج کے مظالم اور ہندو سازشوں کو بھانپ لیا تھا۔ 19 جولائی 1947 کو سرینگر میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کے ہنگامی اجلاس میں متفقہ طور پر “قراردادِ الحاقِ پاکستان” منظور کی گئی۔ جغرافیائی اور معاشی طور پر بھی کشمیر اور پاکستان ایک دوسرے کیلئے ناگزیر ہیں۔ کشمیر سے نکلنے والے دریا پاکستان کی زرخیزی اور بقا کی ضمانت ہیں، جبکہ کشمیر کے راستے اور تجارتی گزرگاہیں تاریخی طور پر پاکستان کے علاقوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی “شاہ رگ” قرار دیا تھا۔ کشمیری عوام نے 1947 میں اسی شاہ رگ کو اس کے اصل جسم سے ملانے کی بنیاد رکھی تھی۔یومِ الحاقِ پاکستان دراصل اس سچائی کا اعتراف ہے کہ کشمیر اور پاکستان دو الگ نام ضرور ہیں، لیکن ان کی روح، ان کا مقصد اور ان کی منزل ایک ہی ہے۔ جب تک مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ان کی خواہشات کے مطابق پاکستان کے ساتھ الحاق کا موقع نہیں مل جاتا خطے میں پائیدار امن کا خواب ادھورا رہیگا اور کشمیریوں کی یہ لازوال جدوجہدِ آزادی پوری قوت کے ساتھ جاری رہیگی۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں