بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 15.8°C
Thursday, 22 October 2026 | پاکستان: 12 جمادی الاول 1448

معذوری جسم میں ہوتی ہے، حوصلوں میں نہیں!

Thursday, 22 October, 2026

دنیا میں بعض لوگ آنکھیں رکھتے ہوئے بھی منزل نہیں دیکھ پاتے، جبکہ کچھ لوگ آنکھوں کی روشنی سے محروم ہونے کے باوجود تاریخ میں اپنا نام روشن کر دیتے ہیں۔ فرق آنکھوں کی بینائی کا نہیں، عزم، حوصلے، محنت اور مواقع کا ہوتا ہے۔ آج کے بعض بچے سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ناشکرے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ماں باپ پر بے جا تنقید کرتے ہیں کہ ہمیں اچھے اسکولوں میں نہیں پڑھایا گیا، غربت کی وجہ سے پڑھ نہیں سکے۔ دوسری طرف ایسے بچے بھی ہیں جو پیدائشی طور پر معذور ہوتے ہیں، لیکن اس معذوری کا نہ گلہ کرتے ہیں، نہ شکایت، بلکہ اپنے ماں باپ اور قوم کا نام روشن کرتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں دو نابینا بہن بھائیوں کی کہانی بھی ایسی ہی ایک مثال ہے، جو ہمارے معاشرے، تعلیمی نظام اور اداروں کے لیے ایک اہم پیغام رکھتی ہے۔ ان میں بھائی یوسف سلیم نے عدلیہ کا راستہ اختیار کیا اور آج جج ہیں، جبکہ ان کی بہن سائمہ سلیم نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے فارن سروس میں جگہ بنائی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ یہ دونوں بہن بھائی پیدائشی طور پر نابینا تھے۔ ان کا تعلق لاہور سے ہے۔ یوسف سلیم نے پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور ایل ایل بی میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ یہ کامیابی بذاتِ خود غیر معمولی تھی، لیکن ان کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوا جب بصارت سے محرومی کے باعث سول جج کے عہدے پر ان کی تقرری کا معاملہ سامنے آیا۔ ایک ایسے نوجوان کے لیے، جس نے قانون کی تعلیم میں اپنی صلاحیت ثابت کی ہو، محض نابینا ہونے کی بنیاد پر پیشہ ورانہ راستے میں رکاوٹ پیدا ہونا ایک اہم سوال تھا۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد اعلی عدالتی سطح پر توجہ دی گئی اور بالآخر یوسف سلیم نے 2018 میں سول جج کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ یہ صرف ایک شخص کی کامیابی نہیں تھی، بلکہ اس سوچ کی کامیابی تھی کہ قابلیت کو جسمانی معذوری کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ان کی بہن سائمہ سلیم نے بھی اپنی محنت اور تعلیمی صلاحیت سے ایک مثال قائم کی۔ انہوں نے 2007 کے سی ایس ایس امتحان میں چھٹی پوزیشن حاصل کی اور فارن سروس آف پاکستان میں شامل ہوئیں۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرنا ان کے سفر کا اہم حصہ رہا۔ ان کی کامیابی یہ ثابت کرتی ہے کہ سفارت کاری جیسے شعبے میں بھی بصارت سے محروم افراد اپنی قابلیت منوا سکتے ہیں۔ ذرا تصور کیجیے کہ ایک گھر میں دو بہن بھائی بصارت سے محروم ہوں، لیکن ایک عدلیہ میں پہنچے اور دوسری سفارت کاری کے ذریعے اقوام متحدہ میں ملک کی نمائندگی کرے۔ یہ محض ایک خاندان کی کہانی نہیں، بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے امید کا پیغام ہے جو اپنی جسمانی کمزوریوں یا معاشرتی رکاوٹوں کو اپنی منزل کے راستے میں حائل دیکھتے ہیں۔ دنیا میں ایسی مثالیں کم نہیں۔ اگر ہم پاکستان سے باہر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسانی عزم کی کہانیاں سرحدوں کی پابند نہیں۔ امریکہ کی ہیلن کیلر نابینا اور بہری بھی تھیں۔ اس کے باوجود انہوں نے اعلی تعلیم حاصل کی، کتابیں لکھیں اور معذور افراد کے حقوق کے لیے دنیا بھر میں آواز اٹھائی۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی علامت بن گئی کہ اگر کسی انسان کو مناسب تعلیم، رہنمائی اور مواقع میسر ہوں تو وہ انتہائی مشکل حالات میں بھی غیر معمولی کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔ برطانیہ کے معروف سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ ایک شدید اعصابی بیماری کے باعث جسمانی حرکت کی صلاحیت سے بتدریج محروم ہوتے گئے، مگر ان کی علمی جستجو جاری رہی۔ انہوں نے کائنات، بلیک ہولز اور طبیعیات کے پیچیدہ موضوعات پر اہم کام کیا اور دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔ اسی طرح اٹلی کے عالمی شہرت یافتہ گلوکار اینڈریا بوچیلی بھی بصارت سے محروم ہیں۔ انہوں نے اپنی آواز اور موسیقی کے ذریعے دنیا بھر میں سامعین کے دل جیتے۔ اسی طرح جرمنی کے عظیم موسیقار بیتھوون نے سماعت ختم ہونے کے باوجود موسیقی کی ایسی لازوال تخلیقات پیش کیں جو آج بھی دنیا بھر میں سنی جاتی ہیں۔ ان شخصیات کے حالات ایک جیسے نہیں تھے، ان کی مشکلات بھی مختلف تھیں، لیکن ان کی زندگیوں میں ایک مشترک پہلو ضرور نظر آتا ہے: انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو محدود نہیں ہونے دیا۔ ہمارے ملک میں خصوصی افراد کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اکثر والدین معاشرتی رویوں سے خوف زدہ رہتے ہیں، تعلیمی اداروں میں مناسب سہولتیں موجود نہیں ہوتیں اور ملازمت کے حصول میں بھی مختلف رکاوٹیں سامنے آتی ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ خصوصی افراد کے لیے معیاری تعلیم، بریل کتب، قابلِ رسائی امتحانی نظام، اسکرین ریڈر ٹیکنالوجی، مناسب دفتری سہولتیں اور شفاف بھرتی کے مواقع فراہم کریں۔ عدلیہ، سول سروس، سفارت کاری، تدریس اور دیگر شعبوں میں تقرری کے دوران اصل توجہ امیدوار کی متعلقہ قابلیت اور ملازمت کی ضروریات پر ہونی چاہیے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ معذوری کے حامل افراد کو محض ہمدردی کا مستحق نہ سمجھا جائے، بلکہ انہیں حقوق رکھنے والے، باصلاحیت اور خودمختار شہری تسلیم کیا جائے۔ ہمدردی وقتی سہارا دیتی ہے، مگر مساوی مواقع مستقل راستہ کھولتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر معذور شخص کی کامیابی کا راستہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ہر فرد کو اپنی صلاحیت، دلچسپی اور حالات کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ معاشرے کا فرض یہ نہیں کہ وہ ہر شخص سے غیر معمولی کارنامے کی توقع رکھے، بلکہ یہ ہے کہ کسی کو اس کی معذوری کے باعث بنیادی حقوق اور جائز مواقع سے محروم نہ کرے۔ یوسف سلیم اور سائمہ سلیم کی مثال ہمیں ایک بنیادی سوال کی طرف لے جاتی ہے: اگر ایک نابینا نوجوان قانون کی تعلیم میں گولڈ میڈل حاصل کر سکتا ہے، جج بن سکتا ہے اور ایک نابینا لڑکی سی ایس ایس پاس کرکے پاکستان کی سفارت کاری کا حصہ بن سکتی ہے، تو پھر ہم کسی شخص کی صلاحیت کا فیصلہ صرف اس کی جسمانی کیفیت دیکھ کر کیوں کرتے ہیں؟
اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب معاشرہ کسی انسان کی صلاحیت دیکھنے سے پہلے اس کی کمزوری دیکھتا ہے، جب ادارے راستے کھولنے کے بجائے دروازے بند کرتے ہیں اور جب ہم کسی بچے کو یہ بتانے کے بجائے کہ وہ کیا کر سکتا ہے، یہ بتانے لگتے ہیں کہ وہ کیا نہیں کر سکتا۔ زندگی میں کامیابی صرف جسمانی طاقت یا ظاہری آسودگی کا نام نہیں۔ یہ مسلسل کوشش، علم، کردار، حوصلے اور مواقع سے جنم لیتی ہے۔ یوسف سلیم اور سائمہ سلیم جیسے لوگ ہمیں بتاتے ہیں کہ انسان کی منزل کا تعین اس کی آنکھیں نہیں کرتیں، اس کے خواب کرتے ہیں۔ ہیلن کیلر، اسٹیفن ہاکنگ، اینڈریا بوچیلی اور بیتھوون کی زندگیاں بھی یہی پیغام دیتی ہیں کہ مشکلات انسان کے راستے کو دشوار ضرور بنا سکتی ہیں، مگر ہر مشکل کو ناکامی کا فیصلہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ یاد رکھیے، معذوری کسی انسان کی پوری پہچان نہیں ہوتی۔ کسی معاشرے کی اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے ہر شہری کو اپنی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع دے، کیونکہ جب مواقع کے دروازے کھلتے ہیں تو جسمانی محرومی راستے کی آخری دیوار نہیں رہتی اور انسان اپنی محنت سے وہ مقام حاصل کر سکتا ہے جس کا کبھی تصور بھی مشکل دکھائی دیتا تھا۔ میری نارمل بچوں سے گزارش ہے کہ شکایات کم کرنے کی عادت ڈالیں۔ آپ جس حال میں بھی ہیں، ماں باپ اور اساتذہ سے گلے شکوے اور شکایتیں نہ کیا کریں، بلکہ تھوڑے کو زیادہ سمجھ کر محنت سے اپنی منزل تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ کسی چیز کو اپنی مجبوری نہ سمجھیں۔ دنیا میں ہر چیز ممکن ہے، کوئی چیز ناممکن نہیں۔ ہر موقع پر عزم، حوصلے اور محنت سے مقابلہ کرنا سیکھیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *