جنیوا میں تو اجتماع نہ ہو سکا، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اصل معاملہ معاہدے کا ہے اور معاہدہ ہو چکا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ و ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کے دستخط ہو چکے اور پاکستانی وزیراعظم نے بطور ثالث اس پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہی اصل بات ہے۔ باقی سب کچھ حاشیہ ہے۔
یہ وقت پاکستان کی تاریخ کے قیمتی ترین لمحات میں سے ایک ہے۔
معرکہ حق کے حوالے سے ایک تقریب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا تھا کہ معرکہ حق میں اللہ کی مدد اتری اور اللہ کی مدد ہم نے اترتے ہوئے دیکھی۔ افواجِ پاکستان کے سالار کی یہ بات ایک ایسی حقیقت ہے جس کا مشاہدہ آج پوری قوم کر رہی ہے۔
اس وقت شاید صرف سید عاصم منیر نے دیکھا تھا کہ اللہ کی مدد اتر رہی ہے اور شاید صرف ان کے جانبازوں نے اس مدد کو اترتے ہوئے دیکھا تھا۔ ہم نے تو صرف اسے محسوس کیا تھا، لیکن بعد میں حالات نے جو کروٹ لی، اس میں ہم جیسے لوگوں نے بھی نہ صرف اللہ کی مدد کو محسوس کیا بلکہ اسے اپنی آنکھوں سے اترتے ہوئے دیکھا۔
اللہ جب اپنے بندے پر مہربان ہو جاتا ہے تو پھر اس کے لیے راستے اسی طرح کھلتے ہیں۔ خلوص ہو، جذبہ ہو، نیک نیتی ہو، ملک کے لیے کچھ کرنے کی امنگ ہو، اور پھر ان جذبوں کو بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت حاصل ہو جائے تو پھر وہی ہوتا ہے جو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ پھر راستے اسی طرح کھلتے ہیں جیسے آج پاکستان کے لیے کھل رہے ہیں۔ پھر قیادت اسی طرح سرخرو ہوتی ہے جیسے آج پاکستان کی قیادت سرخرو ہوئی ہے۔
یہ پاکستان کے لیے ایک نہایت خوش کن موڑ ہے۔ ایک ایسا موڑ جس پر کھڑے ہو کر قوم اپنے مستقبل کو نئے اعتماد کے ساتھ دیکھ سکتی ہے۔
پاکستان نے اپنے معاشی مسائل کے باوجود بھارت کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد پاکستان نے دنیا کو کامیاب سفارت کاری کر کے دکھائی۔ پاکستان نے ایک ایسے بحران کو روکنے میں کردار ادا کیا جسے روکنے کے لیے کوئی اور ملک آگے آنے کو تیار نہیں تھا۔ اقوامِ متحدہ مو¿ثر کردار ادا نہ کر سکی۔ ویٹو پاور رکھنے والی بڑی قوتیں یا تو بے بس دکھائی دیں یا حالات کے سامنے ناتواں نظر آئیں، لیکن عملی میدان میں کوئی آگے نہ آیا۔
دعوے کیے جا رہے تھے کہ پوری تہذیب کو مٹا دیا جائے گا۔ ایسے ماحول میں پاکستان آگے بڑھا اور اللہ کے فضل و کرم سے اپنا کردار ادا کر کے دکھایا۔
یہ وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پاکستان کے ساتھ کمٹمنٹ تھی جسے اللہ تعالی نے قبولیت بخشی اور پاکستان کو عزت، وقار اور کامیابی سے نواز دیا۔
اس مبارک موقع پر پاکستانی قوم کو سب سے پہلے اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ کا شکر ادا کرنے کے بعد احسان مندی کی روایات کے تحت یہ بھی لازم ہے کہ قوم اپنی قیادت کا مشکور ہو۔
اس حوالے سے پاکستان کی قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد انتہائی خوش آئند اقدام ہے۔ بات کسی حکومت یا سیاسی جماعت کی نہیں ہوتی، بات ملک اور ریاست کی ہوتی ہے۔ جب پاکستان سرخرو ہوتا ہے تو پھر یہ سوال غیر اہم ہو جاتے ہیں کہ ہمارے سیاسی اختلافات کیا تھے یا ہمارے درمیان دیگر معاملات کیا
تھے۔ اہم صرف یہ ہوتا ہے کہ پاکستان سرخرو ہوا، ہماری ریاست سرخرو ہوئی اور قومی پرچم سر بلند ہوا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی ذمہ داریاں پوری محنت اور لگن کے ساتھ ادا کیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان سے محبت اور وابستگی کا حق ادا کر دیا۔ ان کی پوری ٹیم نے بھی وطن سے اپنی محبت کو عمل کے ذریعے ثابت کیا اور یوں اللہ تعالی نے پاکستان کو عزت، وقار اور کامیابی سے نواز دیا۔
احسان مندی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی قیادت کا شکریہ ادا کریں۔ اس ضمن میں پاکستان کی پارلیمان نے جو اقدام اٹھایا ہے، وہ درست اور قابلِ تحسین ہے اور اس کی تائید کی جانی چاہیے۔
پاکستان عسکری میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکا ہے اور سفارتی محاذ پر بھی اپنی اہمیت اور مو¿ثر حیثیت ثابت کر چکا ہے۔ ہم اللہ تعالی کے شکر گزار بندے بنتے ہوئے اس کی بے پایاں رحمتوں پر اس کے حضور سجدہ ریز ہیں اور اس کی عنایات کا تہہ دل سے شکر ادا کرتے ہیں۔
اب ہمیں آگے کی جانب دیکھنا ہے۔ اگلا ہدف پاکستان کو ایک مضبوط معاشی قوت بنانا ہے۔ معیشت کے میدان میں بھی ہمیں ایک نئے معرکہ حق کی ضرورت ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے اب تک پاکستان کے حوالے سے جو فیصلے کیے ہیں، ان کے نتائج حوصلہ افزا رہے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اسی عزم، بصیرت اور قومی جذبے کے ساتھ معاشی میدان میں بھی پیش رفت کی جائے۔
جس جذبے، استقامت اور قائدانہ صلاحیت کے ساتھ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معرکہ حق میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، قوم کو امید ہے کہ وہ قومی معیشت کے استحکام کے لیے بھی اسی جذبے کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں گے۔ پاکستان نے جس طرح عسکری اور سفارتی میدانوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں، اسی طرح وہ معاشی میدان میں بھی کامیابیوں کی نئی داستان رقم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں