اس سچائی کو تاریخ کا کوئی بھی طالب علم جھٹلا نہیں سکتا کہ تقسیم ہند سے لیکر اب تک پاکستان اور بھارت کے تعلقات باجوہ دوستانہ نہ ہوسکے ،درحقیقت بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر رہی جس کو حل کرنے کیلئے بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہرلال نہرو کی جانب سے اقوام متحد میں یقین دہانی کروائی گی مگرافسوس کہ نئی دہلی وعدہ وفا نہ کرسکا، پاکستان کی تادم تحریر ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ دیگر مسائل کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو بھی باہمی گفت وشنید کے ذریعہ حل کرلیا جائے مگر اکھنڈ بھارت پر یقین رکھنے والے پڑوسی ملک نے پاکستان کے اخلاص کا کبھی مثبت جواب نہ دیا ، اس کے برعکس بھارت ہمیشہ پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کرنے کی پالیسی پر عمل کرتا رہا ، اپریل 2025 میں پہلگام میں دہشت گردی کے واقعہ کو بنیاد بنا کر بھارت نے جس طرح پاکستان کے اہم شہروں پر بمباری کی اس نے اسلام آباد کواپنا دفاعی حق بھرپور انداز میں اختیار کرنے پر مجبور کردیا ، ڈیفینس سیکورٹی ایشیا 2026 کی رپورٹ کے مطابق تین مئی 2025 کو لداخ میں بھارت نے عملا اپنا 900 سیکوئیر کلومیٹر علاقہ سرینڈرکردیا، 4مئی 2025 کے واقعات بارے دی آبزور ریسرچ فائونڈیشن کی رپورٹ کے مطابق پاک بھارت جنگ میں پاکستان کو خفیہ معلومات کے میدان میں بھارت پر واضح برتری حاصل رہی ، امریکی تجزیاتی اداروں کے مطابق پاکستان نے دوران جنگ ٹیکنالوجی کا استعمال اس قدر مہارت سے کیا کہ رافیل طیارے جن پر دشمن فخر کرتے ہوئے نہیں تھکتا تھا عملا جام ہوکر رہ گے ، اس کے برعکس پاک بھارت جنگ میں جے ایف 17اور جے 10سی طیاروں کی بین الاقوامی سطح پر مانگ میں بے پناہ اضافہ ہوا ، اس کا بڑا ثبوت یہ کہ پاکستان کے آرزبائیجان ، عراق اور بنگہ دیش سے جے ایف 17 اور جے 10 سی طیارے خریدنے کے حوالے سے معاملات طے پاچکے ، جنگ کے دوران پاکستان نے پی ایل 15 سمیت کئی ڈرون کامیابی کے ساتھ استعمال کئے۔ سفارتی محاذ پر بھارت کو نمایاں سبکی یہ ہوئی کہ یورپی یونین سمیت کسی نے بھی پاکستان کے جوابی حملوں کی مذمت نہ کی ،اس کے برعکس عالمی برداری نے پاکستان کے اس موقف کو سراہا جو اس نے پہلگام حملہ کے بعد اختتار کیا یعنی نئی دہلی دہشت گردی کی مذکورہ کاروائی کی کسی بھی دو یا تین ممالک سے تحقیقات کروالے پاکستان اس میں بھرپور تعاون کریگا مگر افسوس بھارت نے پاکستان کی مثبت اور ذمہ دارانہ پیشکش کا کوئی جواب نہ دیا۔ درحقیقت بھارت توقع کررہا تھا کہ جی 20 ممالک ہو یا پھر یورپی یونین، پہلگام حملہ کو بنیاد کر پاکستان کو ہی دہشت گردی کاروائی کا ۔ذمہ دار قرار دیا جائے گا مگرایسا نہ ہوسکا، بھارت کی جانب سے انڈس واٹر ٹریٹی کو یک طرف ختم کرنے کا اعلان بھی عالمی برداری پذائری حاصل نہ کرسکا ،اسکے برعکس بین الاقوامی قوانین کے ماہرین کی اکثریت اس ایک نقطہ پر متفق نظر آئی کہ بھارت یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو ختم نہیں کرسکتا، اس ضمن میں مودی سرکار کی بوکھلاہٹ یوں بھی ثابت کی جاسکتی ہے کہ بی جے پی سرکار نے سندھ طاس معاہدے کے علاوہ پاکستان کیساتھ کیے گے دیگر معاہدے ختم کرنے کی دھکمی بھی دے ڈالی، 5مئی 2025 کو بھارتی شکست پر مہرتصدیق یوں ثبت ہوئی کہ نئی دہلی کو جنگ رکوانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر واشنگٹن سے رابطہ کرنا پڑا، امریکی صدر کی جانب سے درجنوں بار کہا جاچکا کہ پاکستان نے بھارت کے کئی جنگی جہاز مار گرائے، مثلا پہلے ٹرمپ کہتے رہے کہ بھارت کے 5 جنگی جہاز مارگرائے گے ، پھر 7 کا ذکر کیا جبکہ حال ہی میں امریکی صدر نے پاکستان کی جانب سے 11بھارتی جہاز مار گرانے کا دعوی کیا ، ریکارڈ پر ہے کہ ٹرمپ نئی دہلی کی درخواست پر پاکستان کو بھارت پر حملہ روکنے کی بات ایک سے زائد مرتبہ کہہ چکے ، یقینا یہ سب کچھ مودی سرکار کیلئے کسی بڑی ہزیمت سے کم نہیں، آج امریکی صدر تواتر کیساتھ وزیر اعظم شبہازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اخلاص اور صلاحتیوں کی تعریف کرتے ہیں جو پاکستان کی غیر جانبدانہ اور زمہ دار خارجہ پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے ، بھارت کیلیے ایک اور مشکل یہ بھی ہوچکی کہ ٹرمپ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ثالثی کرنے پر تیار ہیں۔ واضح رہے کہ نئی دہلی کا سالوں سے نہیں دہائیوں سے یہ موقف چلا آرہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کا باہمی تنازعہ ہے لہٰذا اس کیلئے کسی تیسرے ملک کی ثالثی کی ضرورت نہیں، ایک اور پیش رفت یہ بھی ہوئی کہ مئی 2025میں ہونے والی پاک بھارت جنگ میں انڈین میڈیا کا بھرم بھی ختم ہوکررہ گیا، ریکارڈ پر ہے کہ بھارتی میڈیا چیخ چیخ کر یہ مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہا کہ انڈین فوج لاہور میں داخل ہوچکی ، یہاں تک کہا گیا کہ کراچی اب بھارت کے کنڑول میں ہے، یہی نہیں بلکہ یہ بہیودہ اعلانات بھی بھارتی ٹی وی چینل نشر کرتے رہے کہ پاک فوج کی قیادت کو گرفتار کرلیا گیا ، منہ سے جھاگ نکالتے بھارتی اینکر یہاں تک کہہ گے کہ بھارتی نیوی نے لاہور پورٹ کو نشانہ بنا ڈالا ۔ بلاشبہ معرکہ حق نے تاریخ رقم کردی ۔ اس مختصر لڑائی نے پاکستان صلاحیتوں کا لوہا یوں منوایا کہ بھارت کی سیاسی، عسکری اور سفارتی محاذ پر شکست روز روشن کی طرح نمایاں ہوگی۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں