بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 16.4°C
Thursday, 15 October 2026 | پاکستان: 5 جمادی الاول 1448

مودی حکومت انسانی سمگلنگ روکنے میں ناکام

Thursday, 15 October, 2026

مودی حکومت کی جانب سے انسانی اسمگلنگ روکنے میں ناکامی پر امریکی محکمہ خارجہ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ نریندر مودی کی زیر قیادت ہندو انتہا پسند تنظیم بی جے پی کی حکومت کے کمزورکنٹرول کے باعث بھارتی انسانی اسمگلردنیا بھر کیلئے خطرے کی علامت بنتے جارہے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ نے انسانی اسمگلنگ روکنے میں بھارتی حکومت کی ناکامی کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کیلئے مقررہ کم از کم معیارات پرمکمل طورپرپورا نہیں اترتی ۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق بھارتی حکومت نے انسانی اسمگلروں کے خلاف کم سے کم مقدمات چلائے اور کم مجرموں کو سزائیں دلوائیں۔ بھارت میں انسانی اسمگلنگ کیخلاف بین الوزارتی کمیٹی اورقومی ایکشن پلان نہ ہونے سے ادارہ جاتی کوششیں متاثرہوئی ہیں۔بھارتی اسمگلرز اور جرائم پیشہ افراد عالمی سطح پرانسانی اسمگلنگ، جعلی ڈگری نیٹ ورکس اوردہشتگردی کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔گزشتہ ایک دہائی میں بھارت میں انسانوں کی سمگلنگ میں ملوث افراد میں سے ایک فیصد سے بھی کم ملزمان کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔ کئی معصوم افراد اب بھی ان سمگلروں کی مجرمانہ کارروائیوں کا شکار بن رہے ہیں۔انسانی سمگلنگ کے خلاف کام کرنے والے اداروںکا کہنا ہے کہ بھارت کو انسانی اسمگلرز کے خلاف سخت کارروائیاں کرنا ہوں گی تاکہ معصوم لوگوں کو اس کا نشانہ بنانے سے روکا جا سکے۔تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست مغربی بنگال اور آندھرا پردیش میں 2008ء سے 2018ء تک 429 افراد کو انسانی سمگلنگ کے 198 کیسز میں ملوث پایا گیا تھا۔ لیکن صرف تین ملزمان کو سزا سنائی گئی تھی۔ بھارت میں قانون کے کمزور نفاذ، وسائل کی کمی کا شکار پولیس اور عدالتی نظام کی سست روی کے باعث انسانی سمگلر آزاد ہیں اور مسلسل مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔غیر سرکاری تنظیم تفتیش کی ریسرچر سنگدھا سین کا کہنا ہے کہ سمگلرز جیل سے باہر ہیں اور کچھ بھی کر سکتے ہیں، وہ گواہان پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ان کے جرم کا شکار بننے والے متاثرہ افراد کو دھمکیاں دے کر چپ رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس طرح گرفتار ہونے والے مجرم بھی جیل سے باہر آجاتے ہیں۔بھارت میں انسانی سمگلنگ کے واقعات میں گزشتہ کچھ سالوں سے اضافہ ہو رہا ہے۔2016ء میں عدالتوں میں انسانی سمگلنگ کے 95 فیصد کیسز تاخیر کا شکار تھے اور صرف 54 فیصد کیسز کی باقاعدہ سماعتیں ہوئیں۔ہیلپ نامی ایک اور غیر سرکاری تنظیم کے آندھرا پردیش میں قائم شاخ کے سکریٹری رام موہن کا کہنا ہے کہ یہ ایک منظم جرم ہے لیکن پولیس کی تحقیقات ناکافی ہیں، مجرمان آزاد ہیں اور مختلف جرائم میں ملوث ہیں۔بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث امریکا، آسٹریلیا اور یورپ سمیت کئی ممالک سخت ایکشن لینے پر مجبور ہو گئے۔ ان ممالک نے ویزا قوانین مزید سخت کرنے، نگرانی بڑھانے اور اسمگلنگ نیٹ ورکس کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔دنیا بھر میں انسانی اسمگلنگ کے مکروہ دھندے میں بھارتی اسمگلرز ملوث نکلے، بھارتی اسمگلرز اور جرائم پیشہ افراد عالمی سطح پر انسانی اسمگلنگ، جعلی ڈگری نیٹ ورکس اور دہشتگردی کی واضح علامت بنتے جا رہے ہیں جبکہ امریکی محکمہ انصاف نے بھارتی اسمگلرز کی منظم جرائم پیشہ سرگرمیوں کا پردہ چاک کر دیا۔امریکی محکمہ انصاف کے مطابق انسانی اسمگلنگ کے جرم میں ملوث ایک اور بھارتی شہری کو امریکی عدالت سے سزا سنا دی گئی۔ بھارتی اسمگلر شیوم لنو درجنوں افراد کو غیر قانونی طور پر امریکا داخل کرانے میں ملوث رہ چکا ہے۔ بھارتی اسمگلر گذشتہ برس انسانی اسمگلنگ کے کئی غیرقانونی آپریشنز کا حصہ رہا، بھارتی شہریوں کی جانب سے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ گذشتہ دو سال کے دوران ایک لاکھ سے زائد بھارتی شہری امریکا میں غیرقانونی داخلے کے دوران گرفتار ہوئے۔ بھارتیوں کی غیرقانونی امیگریشن کا بڑھتا رجحان عالمی سیکیورٹی کیلئے خطرے کی گھنٹی بن چکا ہے، نااہل مودی کی ناقص اور ناکام پالیسیوں نے ہزاروں بھارتی شہریوں کو قانون شکن راستے اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ماہرین کا کہنا تھابھارتی شہریوں کی غیر قانونی امیگریشن، منشیات اسمگلنگ اور دہشتگردی سے جڑے نیٹ ورکس عالمی سلامتی کیلئے خطرہ بنتے کا رہے ہیں۔ بھارتی شہریوں کے میزبان ممالک میں بڑھتے جرائم نے مودی کے نام نہاد ترقی اور خوشحالی کے فریب زدہ بیانیے کی حقیقت دنیا کے سامنے رکھ دی۔ بھارت ہمیشہ سے منشیات کی اسمگلنگ کا مرکز رہا ہے مگر اسمگلنگ کے راستے اور طریقے مزید جدید ہو گئے۔اقوام متحدہ کی اینٹی ڈرگ ایجنسی یو این او ڈی سی کے مطابق “بھارت غیر قانونی منشیات اور کیمیکل کی اسمگلنگ کا بڑا مرکز، میانمار سے وسطی امریکہ اور افریقہ تک فراہمی جاری”۔حال ہی میں بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بھارت سے غیر قانونی افیون کی ترسیل ہزاروں زندگیاں تباہ کر کے صحت عامہ کے بحران کو بڑھا رہی ہیں، بھارت بین الاقوامی سطح پر وسطی افریقہ کو غیر قانونی منشیات فراہم کرتا ہے۔نائیجیریا کی منشیات کنٹرول ایجنسی (این ڈی ایل ای اے) نے 2023 میں بھارت سے سپلائی ہونیوالی 100 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی افیون ضبط کیں، نائیجیریا کی منشیات کنٹرول ایجنسی نے غیر قانونی (ٹراماڈول) ضبط کر لیے جو نشہ آور ادویات کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ نائیجیریا میں 40 لاکھ سے زائد افراد، بھارت سے اسمگلنگ افیون استعمال کر رہے ہیں،گھانا کا شہر تمالی بھی بھارت سے سمگل شدہ افیون کا سب سے بڑا شکار ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *