کل جماعتی حریت کانفرنس نے خبردار کیا ہے کہ مودی حکومت بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے منظم ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے کہا کہ اس حربے کا مقصد کشمیری عوام کی منفرد شناخت اور ثقافت کو نقصان پہنچانا ہے۔بی جے پی حکومت اور آر ایس ایس استعماری آباد کاروں کو سہولت فراہم کر رہی ہے اور مسلم اکثریتی علاقے کو اقلیتی خطے میں تبدیل کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما مسرور عباس انصاری نے سری نگر شہر سے گزرنے والے عاشورہ کے جلوس کے روایتی راستے پر دہائیوں سے عائد پابندی پر شدید تنقید کی۔ عزاداروں کو اپنے مذہبی حقوق پْرامن طریقے سے ادا کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں اگلی مردم شماری 2021ء سے 2026ء تک ملتوی کردی ہے۔ اسی عرصہ میں آبادی کا تناسب بدلنے کی تیز تر کوششیں کی جائیں گی اور کشمیر کے مْسلم تشخص کو مسخ کرنے کی غرض سے ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ متنازعہ علاقے کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنا جنیوا کنونشن4کے آرٹیکل 49کی خلاف ورزی ہے۔ ڈیموگرافی تبدیل کرنے کا مقصد کسی بھی ممکنہ رائے شماری کے نتائج کو ثبوتاژ کرنا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر رقبہ کے لحاظ سے تین حصوں پر مشتمل ہے جس میں 58 فیصد رَقبہ لَداخ، 26 فیصدجموں اور 16 فیصدوادی کشمیر کا ہے۔ ریاست کی 55 فیصد آبادی مقبوضہ وادی کشمیر، 43فیصد جموں اور 2فیصد لَداخ میں رہتی ہے۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق آبادی کا 68 فیصد حصہ مسلمانوں، 28 فیصد ہندوؤں، اور 4 فیصد سِکھ اوربْدھ مت کے پیروکاروں پر مشتمل ہے ۔ مودی سرکار کا مشن آبادی کے اس تناسب کو تیزی سے تبدیل کرنا اور مسلمانوں کو اقلیت بنانا ہے۔اس گھناؤنے منصوبے پربھارت کو اندرونی اور بیرونی مذمت کا سامنا ہے۔ حال ہی میں برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان نے بھی اس عمل کی مذمت کی اور کشمیر میں ممکنہ ریفرنڈم کا نتیجہ تبدیل کرنے کی سازش قرار دیدیا۔ مودی نے منصوبے کی تکمیل کیلئے کشمیر میں بیرونی ہندوؤں کی آباد کاری کا ریلہ چھوڑ دیا اور نئے ڈومیسائل لاء کے تحت ساڑھے 18 لاکھ سے زائد لوگوں کو کشمیر کا ڈومیسائل دے دیا گیا جبکہ لاکھوں مزید غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل دینے کا سلسلہ بھی جا ری ہے۔ اس سلسلے میں گورکھا کمیونٹی کے 6600 ریٹائرڈ فوجیوں کو بھی ڈومیسائل دے دیا گیا۔اب ڈومیسائل جاری کرنے کا اختیار تحصیلدار کو حاصل ہے اور ہزاروں باہر سے آئے مزدوربھی ڈومیسائل حاصل کر سکیں گے۔ اس حوالے سے 10 ہزار سے زائد مزدوروں کو بہار سے کشمیر میں منتقل کر دیا گیا۔ 4ـ5 لاکھ کشمیری پنڈتوں کیلئے اسرائیل کی طرز پر الگ کالونیاں بنائی جا رہی ہیں۔اسی طرح شہریت کے امتیازی قانون سے لاکھوں مسلمانوں کو ہندوستا ن میں ریاستی تحفظ سے محروم کر دیا گیاہے۔ آرٹیکل 35ـA کے خاتمے کے بعد اب غیر کشمیریوں پر مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خرید نے پر کوئی رکاوٹ نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں اونے پونے داموں جائیداد خریدنے کی دوڑ میں ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ بھارتی فوج بھی شامل ہے۔ سیکیورٹی فورسز کیلئے اب زمین حاصل کرنے کیلئے خصوصی سر ٹیفیکیٹ کی شرط ختم کردی گئی ہے۔ صرف بارہ مْولا میں فوجی کیمپ کیلئے 129کنال اراضی ہتھیا نے کا عمل جاری۔ایک تو بھارتی افواج پہلے ہی کشمیر میں 53,353 ہیکٹرز اراضی پر قابض ہیں اور اب دہلی سرکار نے مسلح افواج کو سٹریٹجک ایریاز کے قیام کی اجازت دے دی ہے جو سینکڑوں ایکڑز پر محیط ہونگے۔ اس کے ساتھ ساتھ کنٹرول آف بلڈنگ آپریشن ایکٹ 1988ء اور جموں وکشمیر ڈویلپمنٹ ایکٹ 1970ء تبدیل کر کے مسلح افواج اور کنٹونمنٹ بورڈ ز کو تعمیرات کی کْھلی ڈھیل دے دی ہے۔ اسرائیل کی طرز پر پورے مقبوضہ کشمیر کو گیریڑن سٹی بنانے کی سازش کھل کر سامنے آگئی۔محبوبہ مْفتی نے بھی جنوری 2018ء میں بھارتی فوج کی قبضہ گیری کے خلاف آواز اْٹھائی تھی کہ زمین کی خریداری کی اجازت دے کر مقبوضہ کشمیر پر ہندو سر مایہ داروں کے قبضے کا راستہ ہموار کر دیا گیا۔مودی سرکار نے 20 ہزار کنال زمین کوڑیوں کے دام ہندو سرمایہ داروں کیلئے ہتھیا لی ہے اور مقامی لوگوں کی زمینیں ضبط اور نیلام کی جا رہی ہیں۔ جموں و کشمیر گلوبل انوسٹرز سمٹ میں 43 کمپنیوں کی 137000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری دراصل مقبوضہ وادی کی اراضی اور وسائل کے استحصال کا منصوبہ ہے۔بھارتی حکومت 2 لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی بیرونی سرمایہ کاروں کیلئے بھی خرید نے جا رہی ہے ان میں 15000 ایکڑ دریاؤں سے ملحقہ اراضی شامل ہے۔24جولائی 2020 کو بھارتی حکومت نے35 مختلف جگہوں پر (488 ہیکٹر / 1205ایکٹر) ریاستی اراضی کو صنعتوں کیلئے منظور کر دی۔ قبضہ گیری کی ہمہ گیر مہم سے کشمیر کے وجود کو خطرہ ہے اور ان کارستانیوں سے مقبوضہ کشمیر میں معاشی و معاشرتی بدحالی میں اضافہ ہوا ہے۔ اگست 2019ئ کے اقدام کے بعد صرف ایک سال میں کشمیری معیشت کو5.3 بلین ڈالر کا نقصان پہنچا۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں