بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 15.2°C
Tuesday, 27 October 2026 | پاکستان: 17 جمادی الاول 1448

نئے صوبوں کی افادیت اور ورلڈ اکنامک فورم

Tuesday, 27 October, 2026

پاکستان میں جاری نئے صو بوں کی بحث کے حوالے سے ورلڈ اکنامک فورم نے رپورٹ شائع کی ہے جس میں بہتر حکمرانی میں چھوٹے صوبوں کی اہمیت اور افادیت کو تفصیل سے بیان کیا گیا ۔رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ چھوٹے صوبے بننے سے حکومت اورعوام کے درمیان فاصلے سمٹ جاتے ہیں جس سے، سرکاری خدمات کی فراہمی کا نظام بہتر ہوگا اور پورے ملک میں مالی اور سیاسی جوابدہی کا نظام مضبوط ہوگا۔ پاکستان اس وقت انتظامی طور پر ایک بڑے بحران کا شکار ہے کیونکہ 24 کروڑ سے زائد آبادی کو صرف چار صوبوں کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔اب یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ۔ پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت کیوں ہے ؟پاکستان کے چار صوبوں کی اوسط آبادی تقریبا ً6 کروڑ بنتی ہے ۔ ایک ایک صوبہ یورپ کے کئی ممالک سے بڑا ہے۔ اس بہت بڑی آبادی کا نتیجہ یہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت عام شہری سے بہت دور ہو گیا ہے۔مثال کے طور پر جنوبی پنجاب کے مسائل، غربت، زراعت اور پانی کے مسائل وسطی پنجاب سے بالکل مختلف ہیں لیکن دونوں کا فیصلہ لاہور سے ہوتا ہے جو راجن پور اور رحیم یار خان سے 400 سے 600 کلومیٹر دور ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا میں ملاکنڈ کے مسائل ڈیرہ اسماعیل خان سے بالکل مختلف ہیں لیکن دونوں کو پشاور سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ایک ہی صوبائی حکومت اتنے مختلف علاقوں کو مثر طریقے سے نہیں سنبھال سکتی۔ورلڈ اکنامک فورم نے اپنی رپورٹ میں دو اہم اعداد و شمار سے اس ناکامی کو واضح کیا ہے۔پہلا، انسانی ترقی کا بحران: پاکستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریبا 28 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ صرف تعلیم کا مسئلہ نہیں بلکہ حکمرانی کا مسئلہ ہے۔ جب حکومت عوام سے دور ہوگی تو اسکول، ہسپتال اور بنیادی سہولیات عوام تک نہیں پہنچیں گی۔دوسرا، مالیاتی کمزوری: پاکستان کے صوبے اپنی آمدن کے لحاظ سے انتہائی کمزور ہیں۔ صوبوں کی اپنی کمائی جی ڈی پی کے 0.9 فیصد سے بھی کم ہے۔ تمام صوبے وفاق سے ملنے والے این ایف سی ایوارڈ پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ صوبے خود ٹیکس اکٹھا نہیں کرتے، اس لیے وہ عوام کو جوابدہ بھی نہیں ہیں۔ وہ وفاق کا پیسہ خرچ کرتے ہیں اور کارکردگی نہیں دکھاتے۔یہی انتظامی کمزوری سیلاب، پانی کی قلت، شہروں کا بے ہنگم پھیلا اور نوجوانوں کے لیے روزگار جیسے بڑے چیلنجز سے نمٹنے میں بھی رکاوٹ ہے۔ 2022 کے سیلاب نے ثابت کیا کہ ایک بڑا صوبائی نظام دور دراز اضلاع تک بروقت امداد نہیں پہنچا سکتا۔ ان مسائل کا حل صرف مقامی حکومت، مقامی بجٹ اور مقامی منصوبہ بندی میں ہے۔ورلڈ اکنامک فورم کی تجاویز: تین ممکنہ ماڈلز:ورلڈ اکنامک فورم نے کوئی ایک ماڈل مسلط نہیں کیا بلکہ پاکستان کے لیے تین قابلِ عمل آپشنز پیش کیے ہیں۔ ان تمام آپشنز کے پیچھے ایک ہی سوچ ہے کہ ہر انتظامی یونٹ کی اوسط آبادی کو کم کر کے تقریبا ڈیڑھ کروڑ 1.5 کروڑ تک لایا جائے تاکہ حکومت کرنا آسان ہو۔پہلا آپشن: 16 صوبوں کا ما ڈل اس تجویز کے مطابق پاکستان کو 16 صوبوں میں تقسیم کیا جائے جس میں ہر صوبے کی اوسط آبادی ڈیڑھ کروڑ ہوگی۔ یہ ماڈل پاکستان کو بین الاقوامی معیار کے قریب لائے گا اور ہر صوبہ ثقافتی اور لسانی لحاظ سے زیادہ یکساں ہوگا۔دوسرا آپشن: یہ ماڈل آبادی اور جغرافیے کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ اس میں 23 سے 25 انتظامی اکائیاں تجویز کی گئی ہیں۔ یہ خاص طور پر بلوچستان جیسے بڑے صوبے کیلئے مفید ہوگا جہاں ایک ایک ضلع کئی ممالک سے بڑا ہے۔تیسرا آپشن: اس ماڈل میں موجودہ 30 سے زائد ڈویژنز کو ہی صوبے کا درجہ دینے کی تجویز ہے۔ انتظامی لحاظ سے یہ سب سے آسان ماڈل ہے کیونکہ ڈویژنل انفراسٹرکچر پہلے سے موجود ہے۔ چھوٹے صوبوں کے فوائد کیا ہوں گے:نئے صوبوں کا مطلب ملک کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ اختیار کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے۔ اس کے تین بڑے فائدے ہوں گے۔اول، بجٹ اور اختیار عوام کے قریب آئے گا۔ جب صوبائی دارالحکومت 600 کلومیٹر کے بجائے 100 کلومیٹر دور ہوگا تو ایک عام کسان، مزدور اور طالب علم بھی اپنے وزیر اعلی اور سیکرٹری سے مل سکے گا۔ فیصلہ سازی عوام کے قریب ہوگی۔دوم، مقامی منصوبہ بندی بہتر ہوگی۔ بہاولپور یا ملتان میں بیٹھنے والی جنوبی پنجاب کی حکومت کو چولستان کے پانی کے مسئلے کا بہتر ادراک ہوگا۔ ہزارہ میں بننے والی حکومت اپنی سیاحت اور جنگلات پر توجہ دے گی۔سوم، جوابدہی بڑھے گی۔ جب صوبہ چھوٹا ہوگا تو اس کی کارکردگی بھی واضح نظر آئے گی۔ عوام آسانی سے فیصلہ کر سکیں گے کہ حکومت نے کام کیا یا نہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم نے واضح کیا ہے کہ صرف نقشے پر لکیریں کھینچنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ اس اصلاح کو کامیاب بنانے کے لیے نئے صوبوں کو چار چیزیں یقینی طور پر دینا ہوں گی۔ یقینی مالی وسائل:این ایف سی کا نیا فارمولا جو نئے صوبوں کو مالی طور پر قابلِ عمل بنائے۔ٹیکس کے اختیارات: پراپرٹی ٹیکس، زرعی ٹیکس اور سروسز ٹیکس اکٹھا کرنے کا اختیار تاکہ وہ اپنے عوام کو جوابدہ ہوں۔مضبوط انتظامی صلاحیت:تربیت یافتہ افسران، ڈیجیٹل نظام اور جدید بیوروکریسی۔واضح ذمہ داریاں:آئین میں واضح تعریف کہ نئے صوبے کا کام کیا ہے تاکہ وفاق، صوبے اور لوکل گورنمنٹ میں کوئی ٹکرا نہ ہو۔ اس پورے منصوبے کا مقصد صرف انتظامی اکائیوں کی تعداد بڑھانا نہیں ہے۔ اصل مقصد بہتر حکمرانی، موثر عوامی خدمات اور مضبوط جوابدہی ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان جیسے بڑے ملک کے لیے نئے صوبے اب کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک انتظامی ضرورت بن چکے ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *