حکومت کی جانب سے نوجوانوں کیلئے کئی منصوبوں پر کام جاری ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ کہ ملک کی تقریباً 70فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، یوں کہا جاسکتا ہے کہ پاکستانی نوجوان کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا محض سماجی ضرورت ہی نہیں بلکہ معیشت کے استحکام کیلئے بھی لازم ہے، اس پس منظر میں نوجوانوں کی جسمانی، ذہنی اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کیلئے کھیلوں کو بھی قومی ترقی کے اہم ستون کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت اب تک تین لاکھ سے زائد نوجوان مختلف کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ حکومت نے کھیلوں کے شعبے کو مزید وسعت دیتے ہوئے مختلف کھیلوں کی تعداد 12 سے بڑھا کر 23 کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ جدید تربیتی مراکز کے قیام پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ڈیجیٹل دنیا میں تیزی سے ابھرتی ہوئی ای اسپورٹس انڈسٹری کو بھی اہمیت دی جارہی ہے مثلا پاکستان کی پہلی قومی ای اسپورٹس پالیسی کی منظوری نوجوانوں کے لیے عالمی ڈیجیٹل انٹرٹینمنٹ اور گیمنگ انڈسٹری میں نئے مواقع پیدا کرے گی، ماہرین کے مطابق اس اقدام سے مستقبل میں روزگار اور سرمایہ کاری کے بے شمار امکانات پیدا ہوں گے۔ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے بھی طویل المدتی اثرات سامنے آسکتے ہیں۔ اس کا مقصد ان نوجوانوں کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنا ہے جو اس وقت نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، نہ کسی ملازمت میں ہیں اور نہ ہی کسی پیشہ ورانہ تربیت سے وابستہ ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ 2030 تک لیبر مارکیٹ میں آنے والے تمام نئے افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں ،نیشنل ایڈولیسنٹ اینڈ یوتھ پالیسی نوجوانوں کی تعلیم، صحت، ہنر، روزگار اور سماجی شمولیت کے لیے جامع فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ اس پالیسی کی تیاری کے دوران ملک کے 40 سے زائد شہروں میں تقریبا 50 سے 60 ہزار نوجوانوں سے مشاورت کی گئی، ماہرین کے مطابق مالی سال کا یوتھ بجٹ صرف اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل میں ایک بڑی سرمایہ کاری کی نوید ہے۔ لازم ہے کہ ان تمام منصوبوں پر شفافیت، میرٹ، مثر نگرانی اور بروقت عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ مختص کیے گئے وسائل اپنے حقیقی مستحقین تک پہنچ سکیں۔ سچ یہ ہے کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری اسی وقت دیرپا نتائج دے سکتی ہے جب سرکاری ادارے، نجی شعبہ، تعلیمی ادارے اور خود نوجوان مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر مزکورہ پروگرام اپنی اصل روح کے مطابق جاری رہے تو پاکستان اپنی نوجوان آبادی کو ایک بوجھ کے بجائے ایک عظیم قومی اثاثے میں تبدیل کر سکتا ہے۔ یوں یہی نوجوان مستقبل کے سائنس دان، صنعت کار، کسان، انجینئر، اساتذہ، صحافی، کھلاڑی اور قومی رہنما بن سکتے ہیں۔ یقینیا ہماریبنوجوانوں کی کامیابی درحقیقت پاکستان کی کامیابی ہے، مضبوط نوجوان ہی مضبوط معیشت، مضبوط معاشرہ اور مضبوط ریاست کی ضمانت ہوتے ہیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید مہارتیں، مالی وسائل اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں بلکہ پاکستان کو بھی ترقی، استحکام اور خوشحالی کی نئی منزلوں سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔ حکومتِ نے نوجوانوں کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کیلئے وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا ہے۔ بجٹ میں اس منصوبے کیلئے 22 ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو نوجوانوں میں کاروباری رجحان کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔اس اسکیم کے تحت نوجوانوں کو بلا سود یا انتہائی کم شرحِ منافع پر قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنے کاروبار کا باخوبی آغاز کر سکیں ،قرضوں کی تقسیم میں خواتین کیلئے 25 فیصد خصوصی کوٹہ مختص کیا گیا ہے تاکہ نوجوان خواتین بھی معاشی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے سکیں ۔ ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے حکومت نے نوجوانوں کی ٹیکنالوجی تک رسائی کو بھی اپنی ترجیح بنایا ہے۔ وزیراعظم یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت اب تک ملک بھر کے طلبہ میں چھ لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے جا چکے ہیں، جن میں گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے طلبہ بھی شامل ہیں۔ چوتھے مرحلے میں مزید ایک لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے جا رہے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں طلبہ کو جدید کروم بکس فراہم کرنے کا منصوبہ بھی زیرِ عمل ہے تاکہ دور دراز علاقوں کے نوجوان بھی ڈیجیٹل تعلیم سے مستفید ہو سکیں۔یاد رہے کہ ایک اہم منصوبہ پرائم منسٹر ڈیجیٹل یوتھ ہب ہے، جو پاکستان کا پہلا قومی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے۔ یہ پلیٹ فارم نوجوانوں کو تعلیم، روزگار، وظائف، انٹرن شپ، کاروبار، کھیل اور ٹیکنالوجی سمیت متعدد مواقع تک شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر رسائی فراہم کرتا ہے۔ حکومت اس بات پر بھی یقین رکھتی ہے کہ نوجوان صرف معاشی ترقی ہی نہیں بلکہ قومی تعمیر و ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت نیشنل یوتھ کونسل نوجوان قیادت کو قومی پالیسی سازی میں شریک کر رہی ہے، اسی طرح گرین یوتھ موومنٹ کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کو ماحولیات کے تحفظ، شجرکاری اور سبز معیشت سے متعلق سرگرمیوں میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ ہماری نئی نسل مستقبل کے ماحولیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے حکومت کے شانہ بشانہ آموجود ہو۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں