بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 14.8°C
Thursday, 29 October 2026 | پاکستان: 19 جمادی الاول 1448

وارث شاہ عادتاں ایویں جاندیاں نیں

Thursday, 29 October, 2026

(گزشتہ سے پیوستہ)
ایسے حالات میں حکومت کے لیے دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ احتجاج کو صرف امن و امان کا مسئلہ نہ سمجھے۔ ریاستی نظم و ضبط برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ضرور ہے، لیکن عوامی شکایات سننا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ حکومت ہر مطالبہ تسلیم نہیں کر سکتی اور نہ ہی ہر مخالفت کے سامنے اصلاحات سے دست بردار ہو سکتی ہے، مگر انتخابی کامیابی کو لامحدود اختیار کا اجازت نامہ بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔ پائیدار اصلاحات وہی ہوتی ہیں جن کے مقاصد عوام کو سمجھائے جائیں، ان کے اثرات منصفانہ انداز میں تقسیم ہوں اور متاثرہ طبقات کو یہ احساس ہو کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے۔ محض انتظامی قوت سے خاموشی تو پیدا کی جا سکتی ہے، اعتماد نہیں۔فرانس کی داخلی سیاست کو اس کی خارجہ پالیسی سے الگ کرکے بھی مکمل طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ پیرس نے کئی مواقع پر تزویراتی خود مختاری کو اہمیت دی ہے اور بعض عالمی معاملات میں ایسے مقف اختیار کیے ہیں جو اس کے اتحادیوں کی ترجیحات سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں رہے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات، مشرقِ وسطی کی صورتِ حال اور ایران کے بارے میں پالیسی، فرانس کے قومی مفادات اور سفارتی روایات کے تناظر میں تشکیل پاتی ہیں۔ ایک آزاد خارجہ پالیسی کسی ملک کے عالمی وقار میں اضافہ کر سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ اتحادیوں کے اختلافات اور تزویراتی دبا کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔ بعض تجزیوں میں یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ ایران کے حوالے سے فرانس کے بعض مقف یا فیصلوں کے باعث اسے سیاسی نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم، ایسے دعووں کو ٹھوس شواہد کے بغیر حقیقت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ سفارتی اختلاف اور داخلی احتجاج کا ایک ہی وقت میں سامنے آنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ دونوں کے درمیان کوئی براہِ راست تعلق موجود ہے۔ فرانس کی معاشی مشکلات، سماجی بے چینی اور سیاسی اختلافات کی اپنی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔ اس لیے بیرونی قوتوں کے ممکنہ کردار کا جائزہ لیتے ہوئے داخلی اسباب کو نظرانداز کرنا درست نہیں ہوگا۔ دنیا میں ریاستیں ایک دوسرے کے اختلافات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ضرور کرتی ہیں، لیکن ہر عوامی تحریک کو بیرونی سازش قرار دینا بھی حقیقت سے فرار کے مترادف ہے۔آج کا عالمی نظام بھی تبدیلی کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے۔ پرانے اتحاد دبا کا شکار ہیں، علاقائی تنازعات سفارتی ترجیحات بدل رہے ہیں اور معاشی روابط کے ساتھ عالمی طاقتوں کے درمیان رقابت بھی بڑھ رہی ہے۔ ایسے ماحول میں کسی ملک کے لیے اپنی خارجہ پالیسی میں خود مختاری برقرار رکھنا آسان نہیں۔ تاہم، بین الاقوامی سطح پر آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت صرف سفارتی مہارت یا عسکری و معاشی قوت سے حاصل نہیں ہوتی؛ اس کے لیے اندرونِ ملک سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد بھی ناگزیر ہیں۔ جو حکومت اپنے شہریوں کے جائز مسائل حل کرنے میں ناکام رہے، اس کیلئے بیرونی دبائو کا مقابلہ کرنا بھی زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔ فرانس کی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ عوامی احتجاج کو محض شور و غوغا سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہر مظاہرہ انقلاب کی تمہید نہیں ہوتا، لیکن ہر بڑے احتجاج کے پیچھے موجود شکایات کو سمجھنا ضروری ہے۔ حکومتیں قانون نافذ کر سکتی ہیں، اداروں کو متحرک رکھ سکتی ہیں اور ریاستی نظم و ضبط قائم کر سکتی ہیں، مگر عوام کے دلوں میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے انصاف، شفافیت اور جواب دہی کی ضرورت ہوتی ہے۔انقلابِ فرانس کو ہر دور کے ہر احتجاج پر منطبق کرنا درست نہیں، لیکن اس کی تاریخی یاد ایک بنیادی حقیقت کی طرف ضرور متوجہ کرتی ہے؛ عوامی رضامندی کبھی دائمی ضمانت نہیں ہوتی۔ جب حکومتیں عوام کے مسائل سے بے نیاز ہو جائیں، جب معاشی بوجھ کی تقسیم غیر منصفانہ محسوس ہونے لگے اور جب اختلافِ رائے کو سننے کے بجائے دبانے کی کوشش کی جائے تو سڑکیں عوامی عدالت کا روپ اختیار کر لیتی ہیں۔ وہاں اٹھنے والی آوازیں ہمیشہ حکومت گرانے کے لیے نہیں ہوتیں؛ بعض اوقات وہ حکمرانوں کو اپنی سمت درست کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔ فرانس کی احتجاجی روایت کا اصل سبق یہی ہے کہ اقتدار کی قوت ریاست کو چلا سکتی ہے، لیکن اسے پائیدار جواز عوامی اعتماد ہی عطا کرتا ہے۔ جو جمہوریت اس حقیقت کو فراموش کر دے، وہ دیر تک عوامی بے چینی سے آنکھیں نہیں چرا سکتی۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *