بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Thursday, 01 October 2026 | پاکستان: 21 ر بیع الثانی 1448
والدین اپنے بیٹوں کو ’انکار کو قبول‘ کرنا سکھائیں، دیا مرزا

والدین اپنے بیٹوں کو ’انکار کو قبول‘ کرنا سکھائیں، دیا مرزا

Thursday, 1 October, 2026

دہلی:این سی آر اور بہار میں حال ہی میں پیش آنے والے مبینہ زیادتی اور جنسی حملے کے واقعات نے بھارت میں خواتین کی حفاظت کے حوالے سے بحث کو ایک بار پھر ہوا دی ہے، جنسی تشدد پر جاری اس بحث کے درمیان، اداکارہ دیا مرزا نے اپنے بیٹے کی پرورش دیکھ بھال، ہمدردی اور احترام کے ساتھ کرنے کے حوالے سے ایک پیغام شیئر کیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لڑکوں کو رضامندی کو سمجھنا، حدود کا احترام کرنا اور سب سے اہم بات یہ کہ ‘انکار’ کو قبول کرنا سکھایا جائے۔دیا نے انسٹاگرام پر طویل پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے اپنے بیٹے کو حدود کا احترام کرنے اور رضامندی کو سمجھنے کی تعلیم دینے کے بارے میں ایک پیغام شیئر کیا۔

انہوں نے لکھا کہ میں ہر روز اپنے بیٹے کو سب کے ساتھ دیکھ بھال، احترام، ہمدردی اور مہربانی کا رویہ اپنانے کی اہمیت سکھانے کی کوشش کرتی ہوں۔ اس کا مطلب ہے اسے یہ سمجھنے میں مدد دینا کہ انکار پر کیسے ردعمل ظاہر کیا جائے، حدود کا احترام کیسے کیا جائے، اور ان باریک اشاروں کو کیسے پہچانا اور ان کا احترام کیا جائے جن کے ذریعے کوئی شخص اپنی بے چینی یا ناگواری کا اظہار کر سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ وہ یہ سمجھے کہ رضامندی کا مطلب محض ‘نہ’ کا نہ ہونا نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی ‘ہاں’ کا ہونا ہے جو خوشی اور اطمینان کے ساتھ کہی گئی ہو اسے یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ کوئی بھی شخص اسے اپنی توجہ، محبت یا قربت دینے کا پابند نہیں ہے اور یہ کہ انکار نہ تو کوئی توہین ہے اور نہ ہی ایسی کوئی چیز جسے چیلنج کیا جائے، جس پر سودے بازی کی جائے یا جسے ذاتی حیثیت میں لیا جائے۔

دیا مرزا نے لکھا کہ آج ہر اس والدین کو اس بات کی کوشش کرنی چاہیے جو بیٹے کی پرورش کر رہے ہیں تبھی ہم ایک ایسی دنیا تعمیر کر سکتے ہیں جو ہماری لڑکیوں کے لیے زیادہ محفوظ، منصفانہ اور صحت مند ہو۔دیا نے 14 مئی 2021 کو اپنے شوہر ویبھو ریکھی کے ساتھ اپنے بیٹے ‘اویان آزاد ریکھی’ کا خیرمقدم کیا تھا اور ان کا بیٹا اب پانچ سال کا ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *