ہر دور میں چند ایسی شخصیات جنم لیتی ہیں جنکے افکار اپنے پیشے کی حدود سے نکل کر قومی اور عالمی مباحث کا حصہ بن جاتے ہیں۔ سونم وانگ چک ایسی ہی ایک شخصیت ہیں۔ لداخ سے تعلق رکھنے والے یہ عالمی شہرت یافتہ انجینئر، موجد اور ماہرِ تعلیم گزشتہ تقریبا چار دہائیوں سے روایتی نظامِ تعلیم پر سوال اٹھاتے ہوئے ایسے تعلیمی ماڈل کی وکالت کر رہے ہیں جو رٹے بازی کے بجائے تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ اور عملی حکمت کو اہمیت دیتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ان کا کردار کلاس روم سے آگے بڑھ کر عوامی سطح تک پہنچ چکا ہے۔ تعلیمی اصلاحات، ماحولیاتی تحفظ اور لداخ کے مستقبل سے متعلق ان کی پرامن تحریکوں نے ملک بھر میں توجہ حاصل کی ہے اور اساتذہ، طلبہ اور پالیسی سازوں کے درمیان نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بھارت میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات کے بعد وانگچک نے احتساب اور شفافیت کا مطالبہ کیا، جس سے یہ سوال دوبارہ ابھرا کہ کیا صرف امتحان پر مبنی نظام واقعی لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کی صحیح رہنمائی کر سکتا ہے؟ سیاسی اختلافات سے قطع نظر، ان کی جدوجہد نے یہ بنیادی سوال اٹھایا ہے کہ کیا تعلیم کا مقصد صرف امتحان پاس کروانا ہے یا ایسے شہری تیار کرنا ہے جو معاشرے کے حقیقی مسائل حل کر سکیں؟پرچہ لیک ہونے کے خلاف سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال بھی کی۔ ان کی اس پرامن تحریک میں مختلف طبقہ ہائے فکر، بالخصوص نوجوان نسل ,کانگریس، اور کاکروچ جنتا پارٹی کے حامیوں کی بڑی تعداد اور والدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور تعلیم و امتحانات کے نظام میں بنیادی اصلاحات کے مطالبے کی حمایت کی۔سونم وانگ چک لداخ کے ایک دور افتادہ گاؤں میں پیدا ہوئے، جہاں برف پوش پہاڑوں کی خوبصورتی کیساتھ سخت موسمی حالات بھی زندگی کا حصہ تھے۔ جنوبی ایشیا کے لاکھوں دیہی طلبہ کی طرح انہوں نے بھی ایسے نظامِ تعلیم کا سامنا کیا جو تنوع کو تسلیم کرنے کے بجائے یکسانیت مسلط کرتا تھا۔انہوں نے ان مشکلات کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ اپنی طاقت بنا لیا۔ ان کا یقین تھا کہ جن بچوں کو “کمزور طالب علم” قرار دیا جاتا ہے، ان میں ذہانت کی کمی نہیں ہوتی بلکہ نظامِ تعلیم ان کی زبان، ثقافت اور سیکھنے کے مختلف انداز کو سمجھنے میں ناکام رہتا ہے۔ 1988 میں اپنے ہم خیال ساتھیوں کے ساتھ مل کر انہوں نے SECMOL(Students’ Educational and Cultural Movement of Ladakh) کی بنیاد رکھی، جو آج دنیا بھر میں تجرباتی اور عملی تعلیم کا ایک مثالی ادارہ سمجھا جاتا ہے ۔SECMOL کو کبھی بھی ایک اور امتحان پر مبنی ادارہ بنانے کا مقصد نہیں تھا۔ اس کے برعکس، اس نے ایسے بنیادی سوالات کے عملی جواب تلاش کیے جن کا سامنا ترقی پذیر ممالک کے تعلیمی نظام آج بھی کر رہے ہیں۔ کیا ذہین طلبہ صرف اس لیے ناکام ہو جاتے ہیں کہ امتحانی نظام ان کی صلاحیتوں کی درست پیمائش نہیں کرتا؟ SECMOLمیں ان سوالات کے عملی جواب دیے گئے۔ وہ طلبہ جو روایتی اسکولوں میں ناکام سمجھے جاتے تھے، یہاں ایک ایسا ماحول پاتے جہاں ناکامی کو بدنامی نہیں سمجھا جاتا تھا۔
جب دنیا میں “Experiential Learning” کا تصور ابھی نئی بحث تھا، سونم وانگچک اسے لداخ میں کامیابی سے نافذ کر چکے تھے۔ ان کا فلسفہ جان ڈیوی اور پالو فریرے جیسے ماہرینِ تعلیم کے نظریات سے ہم آہنگ ہے، لیکن ان کی اصل انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے ان نظریات کو لداخ کے مخصوص سماجی، ثقافتی اور موسمی حالات کے مطابق ڈھال دیا۔وہ اکثر کہتے ہیں کہ اگر بچوں کو ایسی مثالوں سے پڑھایا جائے جن کا ان کی روزمرہ زندگی سے کوئی تعلق نہ ہو تو تعلیم بوجھ بن جاتی ہے۔ ہمالیہ میں پلنے والا بچہ اپنے ماحول سے جڑی مثالوں کے ذریعے زیادہ مثر انداز میں سیکھ سکتا ہے۔ مقامی زبان، ثقافت اور روایتی علم کا احترام تعلیم کو بامعنی بناتا ہے۔ اسی تعلیمی فلسفے کے تحت بہت سے ایسے طلبہ، جو روایتی امتحانات میں ناکام رہے تھے، بعد ازاں کامیاب انجینئر، کاروباری شخصیات، اساتذہ، سرکاری افسران اور سماجی رہنما بنے۔ ان کی کامیابیاں اس تصور کو چیلنج کرتی ہیں کہ صرف امتحانی نمبر ہی مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ آئس اسٹوپا صرف ایک انجینئرنگ منصوبہ نہیں بلکہ اس فلسفے کی علامت ہے کہ جب جدید سائنس مقامی دانش اور عوامی شمولیت کے ساتھ ملتی ہے تو دیرپا حل پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ مہنگی درآمد شدہ ٹیکنالوجی کے بجائے مقامی وسائل اور ماحول دوست طریقوں کو ترجیح دی ہے۔ گزشتہ برسوں میں وانگچک لداخ کے آئینی مستقبل اور ہمالیائی ماحول کے تحفظ کے ایک اہم عوامی ترجمان کے طور پر بھی سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ پرامن احتجاج، مکالمے اور جمہوری طریقوں سے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیات اور مقامی آبادی کے مفادات کو ترجیح دی جائے۔جنریشن زیڈ کے لیے سونم وانگچک محض ایک ماہرِ تعلیم نہیں بلکہ ایک ایسے رہنما ہیں جو سوشل میڈیا کی چمک دمک، صارفیت اور سخت مسابقت کے دور میں سادگی، مقصدیت اور خدمت کا پیغام دیتے ہیں۔ وہ یہ بھی سکھاتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کا مقصد صرف منافع کمانا نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت ہونا چاہیے، اور جدت ہمیشہ مقامی مسائل کو سمجھنے سے جنم لیتی ہے۔ وانگچک کے اٹھائے گئے سوالات صرف لداخ یا بھارت تک محدود نہیں بلکہ پاکستان اور پورے گلوبل ساتھ کے لیے بھی نہایت اہم ہیں، جہاں لاکھوں طلبہ ایسے نظامِ تعلیم میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو رٹے بازی کو فروغ دیتا ہے جبکہ تخلیقی اور تنقیدی سوچ کو نظر انداز کرتا ہے۔ مصنوعی ذہانت، آٹومیشن اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اس دور میں تعلیم کو ایسے شہری تیار کرنے ہوں گے جو اخلاقی، تخلیقی، باصلاحیت اور بدلتے حالات سے ہم آہنگ ہوں۔تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو پرانے نظام کو برقرار رکھنے کے بجائے بہتر مستقبل کا تصور پیش کرتے ہیں۔ سونم وانگچک نے اپنی پوری زندگی اس بات کو ثابت کرنے میں صرف کی ہے کہ تعلیم خوف نہیں بلکہ آزادی دے، صرف سند نہیں بلکہ بصیرت دے، اور محرومی نہیں بلکہ بااختیار بنائے۔ SECMOL، پائیدار اختراعات اور عوامی جدوجہد کے ذریعے انہوں نے ثابت کیا ہے کہ جب تعلیم تجسس، مقامی علم اور انسانی وقار پر استوار ہو تو وہ سماجی تبدیلی کی طاقت بن جاتی ہے۔ایک لحاظ سے سونم وانگچک نے تعلیمی پالیسی سازوں کو بھی ایک کڑا امتحان دے دیا ہے۔ امتحانی شفافیت پر ہونے والی بحث نے یہ واضح کر دیا ہے کہ صرف پرچوں کی حفاظت کافی نہیں، بلکہ اصل ضرورت ایسے تعلیمی نظام کی تشکیل ہے جو رٹے بازی کے بجائے فہم، اطاعت کے بجائے خود اعتمادی اور تکرار کے بجائے جدت کو فروغ دے۔ بھارت میں تعلیمی اور امتحانی نظام کی اصلاح کیلئے ان کے مطالبات نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کے سامنے ایک ایسا “اوپن بک امتحان” رکھ دیا ہے جس کا فیصلہ آنے والے برسوں میں تاریخ خود کرے گی کہ آیا وہ اس امتحان میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں