بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 23.6°C
Wednesday, 02 September 2026 | پاکستان: 21 ر بیع الاول 1448

پاکستانی معیشت کا پہیہ رواں

Wednesday, 2 September, 2026

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا لندن میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کے موقع پر کہنا تھا کہ پاکستان ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں قومی زندگی کے مختلف شعبوں میں استحکام، بہتری اور آگے بڑھنے کی امید نمایاں ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ معاشی مشکلات، سیاسی بے یقینی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود پاکستان نے اپنے سفر کو رکنے نہیں دیا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کی مثبت پیش رفت کو تسلیم کرتے ہوئے قومی اتحاد، معاشی نظم و ضبط اور مستقل مزاجی کے ساتھ ترقی کے سفر کو مزید آگے بڑھایا جائے۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا یہ بھی کہنا کہ معیشت کا پہیہ چل پڑا ہے، فی کس آمدنی اور معیار زندگی میں بہتری آئے گی، پاکستان عالمی سطح پر اہم مقام حاصل کر چکا ہے اور ملک کو ایک سیکیورٹی پرووائیڈر کے طور پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔جو دراصل پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے ایک مثبت اور پرامید سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔نائب وزیر اعظم وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے خیالات کی عکاسی کی جائے تو ہمارا یہ کہنا درست تصور ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران معاشی دبا، مہنگائی، توانائی کے مسائل اور مالی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ عام آدمی کی زندگی پر ان مشکلات کے اثرات بھی مرتب ہوئے۔ ایسے حالات میں معیشت کی بحالی اور استحکام صرف حکومتی کامیابی نہیں بلکہ پوری قوم کیلئے ایک اہم ضرورت ہے۔ جب معیشت کا پہیہ چلتا ہے تو اس کے اثرات صنعت، تجارت، زراعت، روزگار اور عام شہری کی زندگی تک پہنچتے ہیں ۔ ایک مضبوط معیشت کا اصل مقصد صرف بڑے معاشی اعداد و شمار میں بہتری نہیں بلکہ عام شہری کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا ہوتا ہے۔ فی کس آمدنی میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع، کاروباری سرگرمیوں میں وسعت، مہنگائی پر قابو اور بنیادی سہولتوں کی بہتر فراہمی وہ عوامل ہیں جو معیار زندگی کو بلند کرتے ہیں۔ اگر معاشی استحکام کے فوائد عام آدمی تک پہنچتے ہیں تو یہی حقیقی ترقی تصور کی جاتی ہے۔اسحاق ڈار کے خطاب کا ایک اہم پہلو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے کردار سے متعلق بھی ہے۔ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی پاکستانی کمیونٹی پاکستان کا ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ برطانیہ، یورپ، مشرق وسطی، امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک میں پاکستانی اپنی محنت، قابلیت اور کاروباری صلاحیتوں کے ذریعے نہ صرف اپنی پہچان بنا رہے ہیں بلکہ پاکستان کی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر پاکستان کیلئے معاشی سہارا رہی ہیں۔ تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کے کردار کو صرف ترسیلات تک محدود نہ سمجھا جائے۔ ان کے پاس جدید کاروباری تجربہ، عالمی مارکیٹوں تک رسائی، سرمایہ کاری کی صلاحیت اور جدید ٹیکنالوجی کا علم موجود ہے۔ اگر حکومت ایک موثر اور قابلِ اعتماد پالیسی کے ذریعے اوورسیز پاکستانیوں کو سرمایہ کاری کے بہتر مواقع فراہم کرے تو وہ پاکستان کی معاشی ترقی میں ایک نئے باب کا آغاز کر سکتے ہیں۔پاکستان کی عالمی اہمیت بھی تیزی سے نمایاں ہو رہی ہے۔ پاکستان جغرافیائی اعتبار سے دنیا کے ایک انتہائی اہم خطے میں واقع ہے۔ چین، وسطی ایشیا، مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان پاکستان کا محل وقوع اسے تجارت، توانائی اور علاقائی روابط کے لیے خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ یہی جغرافیائی حیثیت پاکستان کو عالمی سیاست اور معیشت میں ایک منفرد مقام فراہم کرتی ہے۔پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کیلئے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں پوری دنیا کے سامنے ہیں۔ پاکستانی افواج، قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور عوام نے ملکی سلامتی کیلئے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ اسی پس منظر میں پاکستان کا ایک سیکیورٹی پرووائیڈر کے طور پر سامنے آنا ایک اہم پیش رفت ہے ۔ پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف ملکی سرحدوں کے دفاع کی ذمہ داری احسن طریقے سے انجام دے رہی ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں بھی پاکستانی امن دستوں کی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا جاتا رہا ہے۔ قدرتی آفات ،انسانی بحرانوں اور علاقائی سلامتی کے معاملات میں پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور ذمہ دارانہ کردار ملک کی بین الاقوامی ساکھ کو مضبوط بناتا ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بھی معاشی سفارتکاری کو مرکزی اہمیت دینا وقت کی ضرورت ہے۔ آج کی دنیا میں سفارتکاری صرف سیاسی تعلقات کا نام نہیں رہی بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، توانائی اور مارکیٹوں تک رسائی بھی جدید خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہیں۔زراعت بھی پاکستان کی معیشت کی بنیاد ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، بہتر بیج، پانی کے موثر استعمال اور زرعی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن کے ذریعے پاکستان اپنی زرعی پیداوار اور برآمدات میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے ۔ اسی طرح آئی ٹی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور فری لانسنگ کے شعبے پاکستان کے نوجوانوں کیلئے غیر معمولی امکانات رکھتے ہیں ۔ پاکستان کے پاس قدرتی وسائل، نوجوان افرادی قوت، مضبوط دفاعی صلاحیت، اسٹریٹجک محل وقوع اور بیرون ملک ایک وسیع پاکستانی کمیونٹی موجود ہے۔ اگر ان تمام صلاحیتوں کو ایک مربوط قومی حکمت عملی کے تحت استعمال کیا جائے تو پاکستان کیلئے ترقی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا لندن میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب دراصل امید، اعتماد اور قومی صلاحیتوں پر یقین کا پیغام ہے۔ معیشت کی بحالی کا سفر یقینا محنت، صبر اور مستقل مزاجی کا تقاضا کرتا ہے لیکن اگر قومی سمت درست رہے تو پاکستان کیلئے بہتر معاشی مستقبل کوئی دور کا خواب نہیں۔آج پاکستان کو مایوسی نہیں بلکہ اعتماد کی ضرورت ہے۔ ہمیں اختلاف رائے کے باوجود قومی مفاد پر متحد ہونا ہوگا ۔ حکومت، سیاسی قیادت، اداروں، تاجروں، صنعت کاروں، نوجوانوں اور اوورسیز پاکستانیوں کو اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی ۔ معیشت کا پہیہ چل پڑنے کا اصل فائدہ تب ہوگا جب اس کی رفتار عام پاکستانی کی زندگی میں بہتری، نوجوان کیلئے روزگار، مزدور کیلئے بہتر اجرت، کسان کیلئے مناسب معاوضے اور متوسط طبقے کیلئے آسانیوں کی صورت میں نظر آئے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *