بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 23.7°C
Wednesday, 02 September 2026 | پاکستان: 21 ر بیع الاول 1448

کم استعمال ہونیوالے سرحدی راستے

Wednesday, 2 September, 2026

اے ڈی بی کی جانب سے حال ہی میں منظور کردہ 400 ملین ڈالر کی’بلڈ’سہولت ایک ایسے مسئلے پر خوش آئند سرمایہ کاری ہے جسے وسطی ایشیا کے علاقائی اقتصادی تعاون کے رکن ممالک سمیت پاکستان نے طویل عرصے سے نظر انداز کر رکھا ہے:یعنی سرحدی گزرگاہوں کی خستہ حالی۔یہ سہولت راہداریوں پر واقع گزرگاہوں کو جدید بنائے گی اور فرسودہ بنیادی ڈھانچے اور روایتی طریقہ کار کی جگہ ڈیجیٹل کلیئرنس،بہتر سہولیات اور مربوط سرحدی انتظام کا نظام لائے گی۔اس کا مقصد درست ہے۔موثر سرحدی نظام سامان اور لوگوں کی نقل و حمل کے وقت اور لاگت کو کم کر سکتا ہے اور افغانستان اور وسطی ایشیا کیلئے تجارتی اور ٹرانزٹ روٹ کے طور پر پاکستان کی پوزیشن کو مضبوط بنا سکتا ہے جیسا کہ اے ڈی بی کی نائب صدر لیا گوٹریز نے نشاندہی کی،سرحدیں محض چیک پوائنٹس نہیں بلکہ روزگار اور علاقائی منڈیوں تک رسائی کے دروازے ہونے چاہئیںلیکن بنیادی ڈھانچہ مسئلے کا صرف ایک پہلو ہے۔پاکستان کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی سرحدوں کے آر پار ہونیوالی علاقائی تجارت بہت ہی کم ہے۔مثال کے طور پر،وسطی ایشیا کی پانچ ریاستوں کے ساتھ تجارت مالی سال 26 میں نصف سے بھی کم ہو کر تقریباً 444 ملین ڈالر سے 219 ملین ڈالر پر آ گئی۔یہاں تک کہ اس سے پہلے کی سطح بھی اس ملک کیلئے بہت معمولی تھی جو علاقائی تجارت اور ٹرانزٹ کا مرکز بننے کا خواہشمند ہے۔یہ صورتحال پورے خطے میں نظر آتی ہے۔افغانستان کے ساتھ تجارت سرحدوں کی بندش اور خراب تعلقات کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔ایران کے ساتھ تجارت نہ ہونے کے برابر اور غیر رسمی ہے جس کی وجہ تہران پر عائد امریکی پابندیاں ہیں۔بھارت کے ساتھ تجارت 2019 سے بڑی حد تک معطل ہے۔چین اس معاملے میں واحد استثنیٰ ہے۔اس صورتحال کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان رابطوںمیں تو سرمایہ کاری کر رہا ہے لیکن اپنے اردگرد کی منڈیوں کے ساتھ معاشی طور پر اس کا رابطہ کمزور ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ اے ڈی بی اسکینرز،کسٹمز سسٹمز اور سرحدی بنیادی ڈھانچے کیلئے مالی معاونت تو کر سکتا ہے لیکن وہ تنازعات حل نہیں کر سکتا، دوطرفہ تعلقات بہتر نہیں بنا سکتا اور نہ ہی پابندیاں ختم کر سکتا ہے۔جب سرحد ہی بند ہو تو جدید گزرگاہ بے کار ہو جاتی ہے ۔ یہ’بلڈپروگرام کی مخالفت میں کوئی دلیل نہیں ہے۔یہ دلیل اس غلط فہمی کیخلاف ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی فراہمی ہی علاقائی تجارتی پالیسی ہے۔پاکستان کو اس سہولت کا استعمال اپنی سرحدوں کو تیز تر،کم خرچ اور زیادہ قابلِ پیشگوئی بنانے کیلئے کرنا چاہیے اور ساتھ ہی ان رکاوٹوں کو بھی دور کرنا چاہیے جن کی وجہ سے ان کا استعمال کم رہتا ہے۔اسلام آباد کو اس بات کا ایماندارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کون سی رکاوٹیں ناگزیر ہیں اور کون سی خود ساختہ۔سیاسی اور سیکورٹی خدشات علاقائی تجارت کو محدود کر سکتے ہیں لیکن طویل بندشیں،غیر متوقع تجارتی پالیسیاں اور بیوروکریٹک رکاوٹیں انتخاب ہیں۔پاکستان کو بہتر سرحدوں کی ضرورت ہے لیکن جب تک یہ مزید تجارت کیلئے حالات پیدا نہیں کرتا،یہ صرف ان منڈیوں کیلئے گیٹ وے بنائے گا جہاں تک وہ نہیں پہنچ سکتا۔
سندھ طاس معاہدہ پرعالمی عدالت کا فیصلہ، اہم کامیابی
عالمی ثالثی عدالت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو نافذالعمل قرار دینا اور بھارت کے یکطرفہ طور پر معاہدہ ختم یا معطل کرنے کے دعوے کو مسترد کرنا پاکستان کیلئے ایک اہم سفارتی پیشرفت ہے۔یہ فیصلہ اس بنیادی اصول کی توثیق کرتا ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کو کسی ایک فریق کی خواہش پر یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے زرعی، معاشی اور ماحولیاتی مستقبل سے براہِ راست وابستہ ہے۔ بھارت کی جانب سے آبی منصوبوں ، ڈیموں اور دریاؤں کے بہاؤ میں خلل اور تبدیلیوں کے خدشات کے پیش نظر اس فیصلے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ تاہم اسے محض سفارتی کامیابی پر مطمئن ہو جانا دانشمندی نہیں ہوگی۔پاکستان کو اب اس فیصلے کو موثر سفارتی اور قانونی حکمتِ عملی میں تبدیل کرنا ہوگا۔بھارت کے زیرِ تعمیر اور مجوزہ آبی منصوبوں کی مسلسل نگرانی، تکنیکی شواہد کی تیاری اور بین الاقوامی فورمز پر بروقت مزید موثر آواز اٹھانا ناگزیر ہے۔ اسی طرح دوست ممالک اور عالمی اداروں کو اس معاملے کی قانونی اور انسانی اہمیت سے مسلسل آگاہ رکھنا چاہیے۔یہ فیصلہ پاکستان کو ایک مضبوط قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے، مگر اپنے آبی حقوق کا عملی تحفظ اسی وقت ممکن ہوگا جب اسلام آباد سفارتکاری، قانونی تیاری اور آبی ماہرین کی مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔
اختیارات اور سرپرستی کا نظام
ساہیوال کے ایک پولیس افسر کی پرتکلف الوداعی تقریب اور کراچی کے ڈی ایچ اے افسر کے رویے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے متعلق حالیہ اطلاعات، قانون نافذ کرنیوالے اداروں میں موجود ایک گہری خرابی کی عکاسی کرتی ہیں۔یہ واقعات مجموعی طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ کس طرح پولیس اہلکار اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہیں اور مراعات حاصل کرنے یا احتساب سے بچنے کیلئے مقامی سطح پر’سرپرستی کی سیاست کا سہارا لیتے ہیں۔یہ اس ادارہ جاتی کلچر کی واضح عکاسی ہے کہ اختیارات کے استعمال کو اکثر عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفاد کے حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔اگر جدید موبائل کیمرے اور سی سی ٹی وی ہر جگہ موجود نہ ہوتے تو اس خرابی کا بہت سا حصہ عوام کی نظروں سے پوشیدہ رہتا۔یہ حقیقت کہ بدسلوکی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے واقعات صرف تب ہی سامنے آتے ہیں جب وہ ویڈیو میں محفوظ ہو جائیں،اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ احتساب کا اندرونی نظام عملی طور پر نہ ہونے کے برابر ہے۔جب ریاست پروٹوکول کی خلاف ورزی کا پتہ لگانے کیلئے کسی شہری کی جانب سے کی جانیوالی حادثاتی ریکارڈنگ پر انحصار کرتی ہے،تو وہ درحقیقت یہ تسلیم کر رہی ہوتی ہے کہ اس کے اپنے نگرانی کے نظام ناکام ہوچکے ہیں۔اس قسم کے رویے ظاہر کرتے ہیں کہ پولیس فورس اکثر قانون کے بجائے مقامی بااثر شخصیات کے سامنے زیادہ جوابدہ ہوتی ہے۔سرپرستی کا یہ کلچر اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ افسر عوام کا خادم نہیں بلکہ کسی مخصوص مفاداتی گروہ کا نمائندہ بن کر کام کرے۔اس سے ایک ایسا تضاد پیدا ہوتا ہے جس میں قانون کا اطلاق امتیازی بنیادوں پر کیا جاتا ہے؛یعنی اس بات کو دیکھا جاتا ہے کہ بازپرس کس کی ہو رہی ہے اور بازپرس کرنیوالا کون ہے۔انتظامی اصلاحات کا مرکز شفافیت کو ادارہ جاتی شکل دینا ہونا چاہیے۔لازمی باڈی کیمروںاور آزادانہ نگرانی کرنے والی کمیٹیوں کا نفاذ شہریوں کی فراہم کردہ شہادتوں پر انحصار کو ختم کر دیگا۔سرپرستی کے کلچر سے نکل کر پیشہ ورانہ میرٹ کے کلچر کی طرف منتقلی ہی عوامی اعتماد کی بحالی کا واحد راستہ ہے ۔ ایک ایسا نظام قائم کرنا جس میں پولیس کا بیج اختیارات کے ناجائز استعمال کے لائسنس کے بجائے خدمت کی علامت ہو،ہی آگے بڑھنے کا واحد طریقہ ہے۔
آزاد کشمیر: نئی حکومت، نئی ذمہ داری
آزاد جموں و کشمیر میں ہنگامہ خیز اور سخت مقابلے والے انتخابی عمل(جو ووٹنگ کی تاریخی حد تک کم شرح سے متاثر رہا)کا اختتام مسلم لیگ(ن)کے افتخار علی گیلانی کے بطور وزیراعظم حلف اٹھانے پر ہوا۔نو منتخب وزیراعظم نے 30 ووٹ حاصل کیے جبکہ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ان کے واحد حریف نے 14ووٹ لیے جس سے قانون ساز اسمبلی میں مسلم لیگ(ن)کی فیصلہ کن اکثریت ثابت ہوتی ہے۔اگرچہ نئے وزیراعظم نے گڈ گورننس کو یقینی بنانے ،معیشت کو ڈیجیٹل کرنے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا ہے تاہم اب انہیں اور ان کی جماعت کو اپنے دعوئوں کو عملی جامہ پہنانا ہوگا۔آزاد جموں و کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار تین مراحل میں منعقد ہونیوالے ان انتخابات نے بلاشبہ تلخ اثرات چھوڑے ہیں اور ایک ایسے معاشرے میںجو روایتی طور پر ہم آہنگی کا حامل رہا ہے، تفریق اور تقسیم کو ہوا دی ہے ۔ گیلانی اور مسلم لیگ(ن)کیلئے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ کتنی تیزی اور باہمی تعاون کے ساتھ ناراض دھڑوں کو ساتھ لیکر حالات کی اصلاح اور کشیدگی کم کرنے کیلئے ضروری اقدامات اٹھاتے ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *