بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Tuesday, 07 July 2026 | پاکستان: 22 محرم 1448

پاکستان کا آبی بحران ،وقت کےخلاف ایک دوڑ

Monday, 6 July, 2026

پانی ہمیشہ سے پاکستان کی تہذیب، معیشت اور غذائی تحفظ کی بنیاد رہا ہے۔ دریائے سندھ اور اسکے معاون دریاﺅں نے ایک خشک خطے کو دنیا کے سب سے بڑے مربوط نہری آبپاشی نظام میں تبدیل کر دیا۔ مگر آج پاکستان ایک ایسے غیر معمولی آبی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے جو اس کے مستقبل کےلئے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ بارشوں میں مسلسل کمی، موسمیاتی تبدیلی، زیرِ زمین پانی کی تیزی سے گرتی ہوئی سطح، آبادی میں بے پناہ اضافہ، بے ہنگم شہری پھیلاﺅ، ماحولیاتی تباہی اور ناقص حکومتی پالیسیاں مل کر ملک کو شدید آبی قلت کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ اگر فوری اور مثر اصلاحات نہ کی گئیں تو آنےوالے برسوں میں پانی کی قلت پاکستان کےلئے سب سے بڑا قومی سلامتی کا مسئلہ بن سکتی ہے ۔پاکستان میں بارش کے دو بنیادی ذرائع ہیں ۔ پہلا، موسمِ گرما کی مون سون ہوائیں جو بحیرہ عرب اور خلیجِ بنگال سے نمی لیکر آتی ہیں، اور دوسرا، موسمِ سرما کے مغربی ہوائی سلسلے جو بحیرہ روم کے خطے سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں ۔ سالانہ بارش کا تقریبا ساٹھ سے ستر فیصد حصہ مون سون سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ مغربی ہوائی سلسلے شمالی علاقوں اور بلوچستان کیلئے نہایت اہم ہیں۔ تاہم گزشتہ چند دہائیوں میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث دونوں نظام غیر یقینی کا شکار ہو چکے ہیں۔ بعض برس شدید سیلاب آتے ہیں تو بعض برس طویل خشک سالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس بے قاعدگی نے زیرِ زمین آبی ذخائر کی قدرتی بھرپائی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔بارشوں میں کمی کے اثرات پورے پاکستان میں نمایاں ہیں ۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے۔ قدرتی بارش اب اتنی نہیں رہی کہ زمین سے نکالے جانے والے پانی کی تلافی کر سکے۔ اس صورتحال کو شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال نے مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اگرچہ شمسی توانائی نے کسانوں کےلئے ڈیزل اور بجلی کے اخراجات کم کیے ہیں لیکن اس نے زیرِ زمین پانی نکالنے کی لاگت تقریبا ختم کر دی ہے ۔ نتیجتاً کسان مسلسل پانی نکال رہے ہیں، جس سے آبی ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ یہ اجتماعی وسائل کے بے دریغ استعمال کی ایک واضح مثال ہے، جہاں انفرادی فائدہ قومی نقصان میں تبدیل ہو جاتا ہے۔بلوچستان اس بحران کی ایک عبرتناک مثال ہے۔ سیلی نٹی کنٹرول اینڈ ریکلیمیشن پروگرام کے تحت ٹیوب ویلوں پر سبسڈی دی گئی تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ہو سکے ۔ ابتدا میں اس پالیسی سے زراعت کو فائدہ پہنچا لیکن مسلسل اور بے قابو زیرِ زمین پانی نکالنے اور بارشوں میں کمی کے باعث کئی اضلاع میں آبی ذخائر ختم ہونے لگے۔ صدیوں پرانے کاریز خشک ہو گئے، زرعی زمینیں بنجر ہونے لگیں اور متعدد علاقے شدید خشک سالی کا شکار ہو گئے۔ بلوچستان کا تجربہ واضح کرتا ہے کہ ایک بار زیرِ زمین پانی ختم ہو جائے تو اسے دوبارہ بحال ہونے میں کئی دہائیاں بلکہ بعض اوقات صدیوں لگ سکتی ہیں۔یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ پاکستان زیرِ زمین پانی کے بے تحاشا استعمال پر موثر قانون سازی کرے، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کےلئے جامع منصوبہ بندی اختیار کرے اور پانی کے ہر قطرے کو قومی اثاثہ سمجھ کر استعمال کرے۔ بصورتِ دیگر آنے والی نسلوں کو ایک ایسے پاکستان کا سامنا کرنا پڑے گا جہاں پانی کی قلت نہ صرف زراعت بلکہ معیشت، خوراک اور قومی سلامتی کےلئے بھی سنگین خطرہ بن جائے گی۔ پاکستان کو بیرونی سطح پر بھی آبی چیلنجز کا سامنا ہے۔ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ کئی دہائیوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاں کے پانی کی تقسیم کی بنیاد رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں مغربی دریاں پر بھارت کے پن بجلی منصوبوں اور بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی نے اس معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ اگر پاکستان کے حصے کے دریاں کے بہا میں کسی قسم کی رکاوٹ یا غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کے زراعت، توانائی اور غذائی تحفظ پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ اس لیے مضبوط آبی سفارت کاری کے ساتھ ساتھ اندرونِ ملک پانی کے دانشمندانہ استعمال کو بھی قومی ترجیح بنایا جانا چاہیے۔ بدقسمتی سے حکومتوں کی آبی پالیسیاں زیادہ تر وقتی، غیر مربوط اور سیاسی مصلحتوں کا شکار رہی ہیں۔ شہری علاقوں میں پانی کی فراہمی مثر میٹرنگ کے بغیر کی جاتی ہے، جس کے باعث بے دریغ استعمال کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ پاکستان کو چین کی طرز پر ڈیجیٹل پری پیڈ واٹر میٹرز متعارف کرانے چاہییں، جہاں صارفین پانی کا کریڈٹ پہلے خریدتے ہیں اور صرف اپنے استعمال کے مطابق ادائیگی کرتے ہیں۔ اس نظام سے پانی کا ضیاع کم ہوتا ہے، چوری اور غیر قانونی استعمال کی روک تھام ہوتی ہے، جبکہ واٹر سپلائی اداروں کی آمدنی میں اضافہ بھی ممکن ہوتا ہے۔ شجرکاری کو قومی بقا کا منصوبہ بنایا جانا چاہیے، نہ کہ محض موسمی مہم۔ پہاڑوں، میدانی علاقوں، دریاں کے کناروں، زرعی زمینوں اور شہروں میں بڑے پیمانے پر درخت لگانے سے درجہ حرارت میں کمی، مٹی کا تحفظ، زیرِ زمین پانی کی بحالی اور بارش کے قدرتی نظام کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسی طرح زرعی اراضی کو ہاسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل کرنے کے غیر منصوبہ بند رجحان کو بھی قانون سازی کے ذریعے محدود کرنا ہوگا۔ پانی کا بحران اب محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ پاکستان کی معیشت، زراعت، توانائی، خوراک، صحتِ عامہ اور قومی سلامتی سے براہِ راست وابستہ ہو چکا ہے۔ اگر ہم نے آج دانشمندانہ فیصلے نہ کیے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کرینگی۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے پانی کی حفاظت کرتی ہیں جبکہ پانی کو ضائع کرنے والی تہذیبیں بالآخر زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔پاکستان کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ سائنسی منصوبہ بندی، موثر قانون سازی، جدید ٹیکنالوجی، عوامی شعور اور مضبوط سیاسی عزم کے ذریعے اس بحران پر قابو پا لے ۔پانی کی حفاظت درحقیقت پاکستان کے مستقبل کی حفاظت ہے، اور آج بچایا گیا ہر قطرہ آنےوالی نسلوں کی زندگی کی ضمانت ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *