پاکستان اس وقت ایک اہم آبادیاتی موڑ پر کھڑا ہے۔ ملک کی تقریبا 70 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جو دنیا کی نوجوان ترین آبادیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اگر اس عظیم انسانی سرمایہ کو درست سمت اور مواقع فراہم کیے جائیں تو یہ آنے والی دہائیوں میں پاکستان کی معاشی ترقی کا محرک بن سکتا ہے۔ اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے موجودہ مالی سال کا وفاقی بجٹ نوجوانوں کی ترقی پر غیر معمولی توجہ کے ساتھ پیش کیا ہے، جس میں تعلیم، روزگار، کاروباری مواقع اور سماجی شمولیت کیلئے تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری مختص کی گئی ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں یہ بجٹ محض مالی دستاویز نہیں بلکہ ایک طویل المدتی قومی حکمتِ عملی کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد پاکستان کی نوجوان آبادی کو ایک ممکنہ چیلنج سے معاشی ترقی کے حقیقی محرک میں تبدیل کرنا ہے۔اس سال کے بجٹ کا مرکزی نقطہ وزیر اعظم یوتھ پروگرام کیلئے 40.58 ارب روپے کی براہِ راست رقم مختص کرنا ہے، جبکہ مختلف وزارتوں کے ذریعے نوجوانوں کیلئے مزید 21 ارب روپے کے منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ پاکستان کی تاریخ میں نوجوانوں کیلئے سب سے بڑی سرکاری سرمایہ کاری ہے۔ حکومت کا مقف ہے کہ یہ اخراجات نہیں بلکہ مستقبل میں سرمایہ کاری ہیں، کیونکہ ہر دی گئی اسکالرشپ، ہر فراہم کی گئی مہارت اور ہر کامیاب کاروبار ملک کی طویل المدتی خوشحالی میں اضافہ کرے گا۔وزیر اعظم کے وژن کے مطابق اس بجٹ کا بنیادی فلسفہ “پیداواری روزگارہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو صرف ملازمت کے متلاشی نہیں بلکہ ملازمتیں پیدا کرنے والے کاروباری افراد بنانا ہے۔ یہی سوچ کاروباری قرضوں، ڈیجیٹل مہارتوں اور جدت طرازی کے منصوبوں میں نمایاں نظر آتی ہے۔وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے تحت سب سے بڑی رقم، یعنی 22.4 ارب روپے، وزیر اعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کیلئے مختص کی گئی ہے۔ یہ اسکیم نوجوانوں کو بلاسود یا کم شرحِ منافع پر قرض فراہم کرتی ہے تاکہ وہ کاروبار شروع کر سکیں، زرعی منصوبوں کو وسعت دے سکیں اور اسٹارٹ اپس قائم کر سکیں۔موجودہ مالی سال میں اس پروگرام کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، زراعت، ٹیکنالوجی اور جدت پر مبنی شعبوں کو فروغ مل سکے۔ خواتین کی معاشی شمولیت کو یقینی بنانے کیلئے قرضوں میں 25 فیصد کوٹہ خواتین کیلئے مختص کیا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے 3 ارب روپے آئی ٹی اسٹارٹ اپس اور وینچر کیپیٹل کی معاونت کیلئے مختص کیے گئے ہیں، تاکہ نوجوان اختراع کاروں کو سرمایہ اور مواقع فراہم کیے جاسکیں۔عالمی معیشت میں کامیابی کے لیے مہارت، جدت اور لچک بنیادی عوامل بن چکے ہیں۔ اسی لیے حکومت نے 9.9 ارب روپے سے زائد رقم یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے مختص کی ہے۔ اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، بلاک چین، ڈیٹا سائنس اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز سمیت روایتی ہنر بھی سکھائے جائیں گے، جن کی مقامی اور عالمی منڈی میں طلب موجود ہے ۔ اس کا مقصد تعلیم اور روزگار کے درمیان موجود خلا کو کم کرنا اور نوجوانوں کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر روزگار کیلئے تیار کرنا ہے۔موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے ذریعے مزید مضبوط بنانا ہے، جس کا ہدف پاکستان کے 3 کروڑ 24 لاکھ نوجوانوں کو معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنا ہے۔ پالیسی کا ہدف 2030 تک نئے لیبر فورس میں شامل ہونیوالوں کیلئے مکمل روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت کو 35 فیصد تک بڑھانا ہے۔اسی طرح نیشنل ایڈولیسنٹ اینڈ یوتھ پالیسی نوجوانوں کی تعلیم، صحت، سماجی شمولیت اور مہارتوں کے فروغ کیلئے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ اس پالیسی کی تیاری میں 40 سے زائد شہروں میں 50 سے 60 ہزار نوجوانوں سے مشاورت کی گئی، جس سے اسے عوامی تائید اور نمائندگی حاصل ہوئی۔ڈیجیٹل تبدیلی حکومت کی نوجوان پالیسی کا ایک اہم ستون ہے۔ وزیر اعظم لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت اب تک 6 لاکھ لیپ ٹاپ طلبہ میں تقسیم کیے جا چکے ہیں، جن میں گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے طلبہ بھی شامل ہیں۔ چوتھے مرحلے میں مزید 1 لاکھ لیپ ٹاپ فراہم کیے جائیں گے۔ حکومت نے مستقبل میں ملک بھر میں وزیر اعظم کروم بکس تقسیم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں ڈیجیٹل سہولیات محدود ہیں۔ اس سلسلے کی ایک اور اہم کاوش پرائم منسٹر ڈیجیٹل یوتھ ہب ہے جو پاکستان کا پہلا قومی نوجوان پلیٹ فارم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پلیٹ فارم تعلیم، روزگار، کاروبار اور کھیل/ٹیکنالوجی کے مواقع کو ایک جگہ جمع کرتا ہے ۔روزگار کے علاوہ تعلیم کے شعبے میں بھی خاطر خواہ سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ پاکستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کیلئے 3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ باصلاحیت مگر معاشی طور پر کمزور طلبہ کو اعلی تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ مزید برآں دانش اسکول نیٹ ورک کی توسیع کیلئے 24.48 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کا مقصد پسماندہ علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے۔موجودہ مالی سال کے بجٹ میں نوجوانوں کی قومی زندگی میں فعال شمولیت کے لیے بھی اقدامات شامل ہیں۔ نیشنل یوتھ کونسل نوجوان قیادت کو پالیسی سازی میں حصہ لینے کا موقع فراہم کرتی ہے، جبکہ نیشنل والنٹیئر کور کیلئے 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ 20 لاکھ نوجوانوں کو موسمیاتی تبدیلی، آفات سے نمٹنے اور کمیونٹی سروس کے لیے تربیت دی جا سکے۔ماحولیاتی شعبے میں بھی گرین یوتھ موومنٹ کیلئے 5 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کے ذریعے ہزاروں نوجوان ماحولیاتی تحفظ کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں اور مستقبل کی سبز معیشت کیلئے تیار ہو رہے ہیں ۔ کھیلوں کے شعبے میں بھی نمایاں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ اب تک 3 لاکھ سے زائد نوجوان کھلاڑی ٹیلنٹ ہنٹ پروگراموں میں حصہ لے چکے ہیں، جبکہ معاونت یافتہ کھیلوں کی تعداد 12 سے بڑھا کر 23 کر دی گئی ہے۔ ٹیلنٹ ہنٹ یوتھ اسپورٹس لیگ اور جدید تربیتی مراکز کے قیام کیلئے 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ مزید برآں پاکستان کی پہلی نیشنل ای اسپورٹس پالیسی کی منظوری دی گئی ہے، جس کے تحت 30 کروڑ روپے ای اسپورٹس ایریناز اور ٹریننگ سینٹرز کے قیام کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔ نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہنے کیلئے 25 کروڑ روپے نیشنل انوویشن ایوارڈز اور 70 کروڑ روپے یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹرز کیلئے بھی مختص کیے گئے ہیں۔مجموعی طور پر یہ بجٹ نوجوانوں کی ترقی کیلئے ایک جامع اور ہمہ جہت حکمتِ عملی پیش کرتا ہے، جس میں کاروبار، روزگار، تعلیم، ٹیکنالوجی، کھیل، رضاکارانہ خدمات اور ماحولیاتی شعور جیسے تمام اہم شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ ان منصوبوں کی کامیابی کا انحصار مثر عملدرآمد، شفافیت اور تسلسل پر ہوگا، تاہم پالیسی ترجیحات کے اعتبار سے مالی سال کا یہ نوجوانوں کا بجٹ ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ پاکستان اپنی نوجوان نسل کو قومی ترقی کا محور سمجھتا ہے۔حکومت کا یہ یقین ہے کہ پاکستان کا معاشی مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہے، اور آج ان کی تعلیم، مہارت، روزگار اور ترقی میں کی جانے والی سرمایہ کاری ہی کل کے خوشحال پاکستان کی بنیاد بنے گی۔ جیسا کہ حکومتی وژن میں کہا گیا ہے: “جب پاکستان کے نوجوان کامیاب ہوں گے تو پاکستان بھی کامیاب ہوگا۔”






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں