یورپی یونین کی جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس کے تحت جاری ہونیوالی 2023 تا 2025 کی کنٹری اسیسمنٹ رپورٹ ایک مرتبہ پھر پاکستان میں انسانی حقوق، مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق، لیبر قوانین، ماحولیات اور گورننس کے معاملات کو زیر بحث لاتی ہے۔ اگرچہ اس رپورٹ میں بعض شعبوں میں پاکستان کی قانون سازی اور اصلاحاتی اقدامات کو تسلیم کیا گیا ہے لیکن اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی سے متعلق تحفظات کو بھی نمایاں انداز میں دہرایا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تنقید مکمل طور پر حقائق پر مبنی ہے یا پھر اس میں دوہرے معیار کی جھلک بھی نظر آتی ہے؟جی ایس پی پلس ایک تجارتی سہولت ہے جس کے تحت ترقی پذیر ممالک کو یورپی منڈیوں تک خصوصی رسائی دی جاتی ہے تاہم اس کیلئے 27بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔پاکستان بھی اس پروگرام سے مستفید ہونے والے ممالک میں شامل ہے اس لیے یورپی یونین وقتا فوقتا اس کی پیش رفت کا جائزہ لیتی ہے۔ یہ جائزہ اپنی جگہ ایک معمول کا عمل ہے لیکن بعض اوقات اس میں پیش کیے گئے مشاہدات متوازن ہونے کے بجائے یکطرفہ محسوس ہوتے ہیں۔یورپی کمیشن کی تازہ رپورٹ میں ایک مرتبہ پھر مذہبی اقلیتوں کے حقوق کو بنیادی مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ بلاشبہ ہر ریاست پر لازم ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کے جان و مال اور مذہبی آزادی کا تحفظ کرے اور پاکستان بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی ایک یا چند واقعات کو پورے ملک کی مجموعی تصویر بنا کر پیش کرنا انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے جہاں تقریبا 97 فیصد آبادی مسلمان ہے مگر آئین غیر مسلم شہریوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، عبادت گاہیں قائم کرنے اور مذہبی رسومات ادا کرنے کی آزادی دیتا ہے۔ ملک بھر میں ہزاروں گرجا گھر، سینکڑوں ہندو مندر اور متعدد گوردوارے موجود ہیں جہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی مذہبی عبادات انجام دیتے ہیں۔ یہ حقیقت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ریاستی سطح پر مذہبی اقلیتوں کے وجود اور ان کی عبادت گاہوں کو تسلیم کیا گیا ہے۔پاکستان میں مسیحی، ہندو، سکھ، بہائی ، پارسی اور دیگر مذہبی برادریاں نہ صرف اپنی مذہبی تقریبات منعقد کرتی ہیں بلکہ قومی زندگی میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کیلئے مخصوص نشستیں موجود ہیں جبکہ سرکاری ملازمتوں اور دیگر شعبوں میں بھی ان کی نمائندگی کیلئے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں ۔ یقینا اس نظام میں بہتری کی گنجائش موجود ہے لیکن صرف خامیوں کو اجاگر کرنا اور مثبت پہلوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دینا ایک غیر متوازن طرز عمل محسوس ہوتا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ وہی یورپی ممالک جو پاکستان کو مذہبی آزادی کا درس دیتے ہیں خود اپنے ہاں مذہبی علامات اور اسلامی لباس پر مختلف پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔ اسی طرح بیلجیئم، ڈنمارک، آسٹریا ، سوئٹزرلینڈ اور نیدرلینڈز میں بھی مختلف نوعیت کی پابندیاں موجود ہیں۔ اگر مذہبی آزادی ایک عالمگیر اصول ہے تو پھر اس کا اطلاق ہر مذہب اور ہر ملک پر یکساں ہونا چاہیے۔گزشتہ چند برسوں میں یورپ میں اسلاموفوبیا کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مساجد پر حملے، قرآن کریم کی بے حرمتی، مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات اور امتیازی قوانین نے عالمی سطح پر کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان واقعات پر اگرچہ بعض یورپی حکومتوں نے تشویش کا اظہار کیا لیکن ان کا مکمل تدارک ابھی تک ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے حالات میں جب یورپی معاشرے خود مذہبی ہم آہنگی کے مسائل سے دوچار ہوں، تو پاکستان پر تنقید کرتے وقت خود احتسابی بھی ضروری دکھائی دیتی ہے۔پاکستان کے ناقدین کا ایک اور اعتراض یہ ہے کہ یہاں اقلیتوں کے خلاف پیش آنیوالے چند واقعات عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ کسی بھی شہری کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر ناانصافی قابل قبول نہیں ہونی چاہیے لیکن یہ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ انفرادی جرائم کو ریاستی پالیسی قرار نہ دیا جائے۔ دنیا کے تقریبا ہر ملک میں نفرت پر مبنی جرائم پیش آتے ہیں مگر انہیں پورے نظام کا آئینہ قرار دینا مناسب نہیں۔بعض مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بین الاقوامی رپورٹس اکثر ایسی غیر سرکاری تنظیموں کی معلومات پر انحصار کرتی ہیں جو مخصوص موضوعات پر کام کرتی ہیں اور بعض اوقات ان کی رپورٹس میں صرف منفی پہلو زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ اگر کسی ملک کا جائزہ لینا مقصود ہو تو ضروری ہے کہ حکومتی اقدامات، عدالتی فیصلے، آئینی اصلاحات، مقامی ماہرین اور مختلف سماجی طبقات کی آرا کو بھی یکساں اہمیت دی جائے تاکہ تصویر کا ہر رخ سامنے آسکے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں اقلیتوں کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ سپریم کورٹ کے اہم فیصلوں کے بعد قومی سطح پر اقلیتی حقوق کے تحفظ کیلئے مختلف ادارے فعال ہوئے، مذہبی عبادت گاہوں کی بحالی کے منصوبے شروع کئے گئے اور کئی تاریخی مندروں اور گوردواروں کی تزئین و آرائش بھی کی گئی۔ اگرچہ ان اقدامات کے نتائج پر مختلف آرا ہو سکتی ہیں لیکن انہیں مکمل طور پر نظر انداز کرنا مناسب تجزیہ نہیں ہوگا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی تسلیم کرنا ضروری ہے کہ پاکستان کو ابھی مزید بہتری کی ضرورت ہے ۔ قانون سازی کے ساتھ موثر عمل درآمد، فوری انصاف، مذہبی رواداری کے فروغ اور عوامی شعور میں اضافے کیلئے مسلسل کوششیں ناگزیر ہیں۔ یہی وہ پہلو ہیں جن پر پاکستان کو اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے تاکہ نہ صرف بین الاقوامی سطح پر اعتماد میں اضافہ ہو بلکہ اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق بھی مزید مضبوط ہوں۔ دوسری جانب یورپی یونین کو بھی چاہیے کہ وہ انسانی حقوق کے معاملات میں یکساں معیار اپنائے۔ اگر کسی ملک میں مسلمانوں کے مذہبی لباس، عبادات یا مذہبی علامات پر پابندیاں عائد ہوں، یا اسلاموفوبیا کے واقعات بڑھ رہے ہوں تو انہیں بھی اسی سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے جس سنجیدگی سے دیگر ممالک کے مسائل کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی ساکھ اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب انصاف کا معیار سب کیلئے برابر ہو۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان پر تنقید کرنا یا اس کی خامیوں کی نشاندہی کرنا اپنی جگہ ایک جائز عمل ہے لیکن یہ تنقید متوازن، شواہد پر مبنی اور غیر جانبدار ہونی چاہیے۔ اسی طرح پاکستان پر بھی لازم ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، قانون کی عمل داری اور مذہبی آزادی کے فروغ کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے۔ ایک منصفانہ عالمی نظام وہی ہوگا جہاں نہ کسی ملک کو بلاجواز ہدف بنایا جائے اور نہ ہی کسی ریاست کو صرف اس کی سیاسی یا جغرافیائی اہمیت کی بنیاد پر رعایت دی جائے۔ انسانی حقوق کا حقیقی احترام اسی وقت ممکن ہے جب اصول سب کیلئے یکساں ہوں خواہ وہ پاکستان ہو یا یورپی یونین کے رکن ممالک۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں