بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 20°C
Monday, 28 September 2026 | پاکستان: 17 ر بیع الثانی 1448

پاکستان کی خارجہ پالیسی طویل المدت اثرات کی حامل

Monday, 28 September, 2026

یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان کی جانب سے دوٹو ک اور واشگاف الفاظ میں کہہ دیا گیا ہے کہ کہ مکہ دفاعی امن معاہدہ آپریشنل ہے پاکستان کی جانب اس بھرپور عزم کے اظہار کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہمارے بدخواہوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ مکہ امن معاہدہ اپنی افادیت کھو رہا ہے۔اس پس منظر میں وزیر اعظم شہبازشریف نے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرنے کیساتھ اپنے اس عزم کو بھر دہرایا کہ پاکستان سعودیہ عربیہ کے ساتھ کل بھی کھڑا تھا اور آج بھی کندھے کیساتھ کندھا ملائے موجود ہے۔ درحقیقت مکہ امن معاہدے کے قیام میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی اس دیرینہ خواہش کو کلیدی اہمیت حاصل ہے کہ مستقبل قریب میں مشرق وسطیٰ ہی نہیں دیگر خطوں کے مسلم ممالک بھی ایک دوسرے کے تجربات اور وسائل سے مستفید ہوسکیں۔ پاکستان کو بجا طور پر یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی واحدایٹمی قوت ہے ۔ ہمارا زمہ دار ریاست ہونے کا اس سے بڑھ کر ثبوت کیا ہوگا کہ بھارت کی تمام تر الزام تراشی کے باوجود بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے طرزعمل کو کوتائیوں اور غلطیوں سے پاک کہا جاتا ہے ، عالمی ادارہ آئی اے ای ا ے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو محفوظ قرار دیتا ہے ۔ مشرق وسطیٰ کے جاری بحران میں پاکستان کا قدم کاٹھ جہاں آپریشن بینان مرصوص میں اس کی تاریخی کامیابی کی وجہ سے بڑھا وہی ہمارا ایٹمی قوت کا حامل ہونا بھی بین الاقوامی سطح اہمیت بڑھا گیا۔ درپیش صورتحال میں پاکستان کی دیرینہ خواہش و کوشش یہی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کا سورج اس انداز میں طلوع ہوا کہ عملاً امت مسلمہ کے اتفاق واتحادکا خواب شرمندہ تعبیر ہوجائے ۔ادھر دفتر خارجہ کے ترجمان نے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اپنی برملا تشویش کا اظہار کیا۔ سجا د خان کا کہنا تھا کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیلئے پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس ضمن میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا بیان بھی کلید ی اہمیت کا حامل ہے ، عرب ٹی وی کو انٹرویو د یتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کیساتھ کھڑا ہے ۔ حرمین شریفین کی حفاظت کیلئے ہم وہاں موجود ہیں، ایک سوال کے جواب میں احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا دفاع کرنے کیلئے پاکستان کسی بھی حد تک جائیگا اس سوا ل پر کہ مکہ امن معاہد ے کے تحت کیسے کاروائی ہوگی پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ فوجی کاروائیاں اور سیکورٹی سے متعلق معلومات کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔مذید یہ کہ کسی بھی فوجی کاروائی کا فیصلہ تینوں ممالک نے مل کر کرنا ہے۔بلاشبہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا خواب بدستور چیلنج ہے۔پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کیلئے سنجیدہ کاوشوں کے باوجود معاملہ بدستور التوا کا شکا ر ہے ۔ آج ایران اور امریکہ کی جنگ خطے کے ساتھ بین لااقوامی سطح پر انتہائی مضر اثرا ت مرتب کررہی ہے۔ افسوس کہ آبنائے ہرمز سے خام تیل کی آمدروفت میں رکاوٹ نے عالمی معیشت کو مشکل صورت حال سے دوچار کردیا ہے ۔ ایک طرف امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعات کا پر امن حل ممکن نہیں ہوسکا جبکہ دوسری جانب حوثی قبائل کی جانب سے ایسا کھیل کھیلا جارہا ہے جسے کسی طور پر مثبت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ باغیوں کی جانب سے مکہ پر مبینہ ڈرون حملہ حالات کی سنگینی کو ظاہر کرنے کیلئے بہت کافی ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ حوثی ایران کے قریب ہیں یعنی تہران ان پر فیصلہ کن اثررسوخ رکھتا ہے۔ دوسری جانب تہران اور حوثی دونوں ہی ایک دوسر ے سے رابطوں سے انکاری ہیں، غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن نہیں کہ تہران کی بھرپور حمایت کے بغیر حوثی اتنی سرعت کیساتھ جنگی کامیابیاں حاصل کرلیں۔ پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی کے ا ولین مقاصد میں جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی تنازعات کے حل کیلئے زمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہے ۔ پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ ترقی کا دوسرا نام امن ہے ۔ سیاسی تنازعات کیلئے جنگ وجدل انسانیت کی تاریخ میں کبھی مثبت نتائج کا حامل نہیں ہوا ۔ وزیر اعظم شبہازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے تعمیری کردار کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ بدستور امریکہ اور ایران میں رابطہ اور سہولت کاری کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے ۔ پاکستان تسلسل کے ساتھ فریقین کو یہ باور کروا رہا ہے کہ وہ اسلام آباد معاہدہ کی ان شرائط پر فوری عمل کریں جن پراتفاق ہوگیا تھا۔ تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے جنگ چاہے 10 دن ہو یا پھر 10 سال کی اس کا خاتمہ بہرکیف بات چیت کے زریعہ ہی ممکن ہوا۔ وقت آگیا ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں حالات کی نزاک کو سمجھیں ۔ دونوں فریقین کے لازم ہے کہ وہ اسلام آباد مذاکرت کو بنیاد بنا آگے بڑھیں تاکہ مشرق وسطیٰ ہی نہیں اقوام عالم بھی جار ی جنگ کے مضر اثرات سے نکل سکے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *