بھارت کی ذلت کی کہانی پہلگام سے شروع ہوئی۔ جو ایک فالس فلیگ آپریشن تھا۔ چانکیہ حکمت عملی کا ایک انسانیت دشمن اظہار۔بھارت نے پہلگام حملے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی پاکستان کو اس کا ذمہ دار قرار دینا شروع کر دیا۔ اس وقت جائے وقوعہ سے تمام فرانزک شواہد اکٹھے ہوئے تھے نہ حملہ آوروں کی شناخت مکمل ہوئی تھی، نہ ان کے نیٹ ورک کا تعین کیا گیا تھا اور نہ ہی کسی آزاد تحقیقاتی ادارے نے اپنی رپورٹ جاری کی تھی۔ اس کے باوجود بھارتی حکومت اور میڈیا نے پاکستان کے خلاف ایسا بیانیہ تشکیل دینا شروع کر دیا جس میں الزام کو حقیقت کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔ بعد ازاں اسی بیانیے کو بنیاد بنا کر بھارت نے پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی جسے ”آپریشن سندور” کا نام دیا گیا۔
بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی ریاست پر دہشت گردی کی سرپرستی یا کسی دہشت گرد حملے میں ملوث ہونے کا الزام صرف سیاسی بیان سے ثابت نہیں ہوتا۔ ریاستی ذمہ داری کے تعین کے لیے قابل اعتماد شواہد، شفاف تحقیقات، فرانزک تجزیہ، انٹیلی جنس معلومات کی جانچ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ثبوت درکار ہوتے ہیں۔
پاکستان کا کردار انتہائی ذمہ دارانہ تھا۔پاکستان نے اس واقعے کے فورا بعد نہ صرف اس کی مذمت کی بلکہ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح طور پر اعلان کیا کہ اگر بھارت کے پاس کوئی ثبوت موجود ہے تو وہ دنیا کے سامنے پیش کرے۔ پاکستان نے اس سے بھی آگے بڑھ کر مشترکہ تحقیقات کی پیش کش بھی کی۔ پاکستان نے یہ بھی کہا کہ اگر بھارت کو پاکستان پر اعتماد نہیں تو کسی تیسرے غیر جانبدار ملک یا بین الاقوامی ادارے کے ذریعے تحقیقات کرا لی جائیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔ یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش کش تھی کیونکہ عموما جس ریاست پر الزام لگایا جا رہا ہو وہ آزاد تحقیقات کی بجائے دفاعی مؤقف اختیار کرتی ہے، جبکہ پاکستان نے خود غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
بھارت نے اس پیش کش کو قبول کیا نہ مشترکہ تحقیقاتی کمیشن بنایا گیا، نہ کسی تیسرے ملک کو شامل کیا گیا اور نہ ہی اقوام متحدہ یا کسی دوسرے بین الاقوامی ادارے سے رجوع کیا گیا۔ اس کے بجائے بھارت نے یکطرفہ طور پر اپنے نتائج اخذ کیے اور انہی نتائج کو بنیاد بنا کر فوجی کارروائی شروع کر دی۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا نے بھارت کے اس مؤقف کو قانونی طور پر تسلیم کیا؟
اس سوال کا جواب حقائق کی روشنی میں نفی میں ہے۔
فرانسیسی اخبار لی موند نے اپنی رپورٹ میں واضح لکھا کہ بھارت نے پاکستان پر الزام تو عائد کیا لیکن اس وقت تک کوئی عوامی ثبوت پیش نہیں کیا گیا تھا جو اسلام آباد کی براہ راست ذمہ داری ثابت کرتا۔ اسی طرح دی گارڈین، رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس اور بی بی سی سمیت متعدد عالمی اداروں نے اپنی ابتدائی رپورٹنگ میں یہی مؤقف اختیار کیا کہ بھارت پاکستان پر الزام لگا رہا ہے جبکہ پاکستان اس کی تردید کرتے ہوئے غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ان اداروں نے کسی مرحلے پر یہ نہیں لکھا کہ پاکستان کی ذمہ داری ثابت ہو چکی ہے۔
امریکی تھنک ٹینک اسٹمسن سینٹر سے وابستہ جنوبی ایشیا کے ماہر مائیکل کوگیل مین نے متعدد مواقع پر اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی بڑے دہشت گرد حملے کے بعد فوری عسکری ردعمل کی بجائے شواہد کی بنیاد پر فیصلہ ہونا چاہیے کیونکہ بھارت اور پاکستان دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور جلد بازی پورے خطے کو جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔اسی طرح انٹرنیشنل کرائسز گروپ نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں خبردار کیا کہ پہلگام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے اور اگر تحقیقات کی بجائے فوجی کارروائیوں کو ترجیح دی گئی تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔
برطانوی دفاعی تجزیہ کار مائیکل کلارک نے بھی مختلف انٹرویوز میں کہا کہ ایسے واقعات میں ثبوت سامنے لانا اور عالمی برادری کو مطمئن کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ صرف سیاسی دعوے بین الاقوامی سطح پر کافی نہیں ہوتے۔
صرف مغربی صحافی نہیں بلکہ بھارت کے اندر بھی اہل فکر و دانش نے بھارتی موقف تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ معروف بھارتی صحافی این رام نے بارہا زور دیا کہ قومی سلامتی کے معاملات میں بھی جمہوری احتساب اور شفافیت ضروری ہے۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ حکومت کن شواہد کی بنیاد پر اتنے بڑے فیصلے کر رہی ہے۔معروف بھارتی صحافی سدھارتھ وردراجن نے بھی سوال اٹھایا کہ اگر حکومت کے پاس مضبوط ثبوت موجود ہیں تو انہیں پارلیمنٹ، عدلیہ یا کم از کم عالمی
برادری کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے تاکہ الزام اور حقیقت کے درمیان فرق واضح ہو سکے۔
لیکن بھارت کے پاس ثبوت ہوتا تو پیش کرتا۔ تو کیا یہ ایک فالس فلیگ آپریشن تھا؟ حالات اس سوال کا جواب اثبات میں دیتے ہیں۔
بھارت کی تاریخ ہے فالس فلیگ واردات ڈالنے کی۔ سمجھوتہ ایکسپریس ہی کو دیکھ لیجیے۔فروری 2007 میں دہلی اور لاہور کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکے ہوئے جن میں68 افراد ہلاک ہوئے، جن کی اکثریت پاکستانی شہریوں پر مشتمل تھی۔ ابتدائی مراحل میں مختلف حلقوں میں شبہات پاکستان اور اسلامی تنظیموں کی طرف موڑے گئے۔ تاہم بعد ازاں بھارتی تحقیقاتی اداروں کی تحقیقات میں ہندو انتہا پسند عناصر کے نام سامنے آئے۔ اس مقدمے میں سوامی اسیما نند کا اعترافی بیان، متعدد گرفتاریاں اور قومی تحقیقاتی ایجنسی کی تحقیقات کئی برس تک قومی بحث کا موضوع رہیں۔اسی طرح مکہ مسجد دھماکے والا واقعہ بھی پاکستان کے اس موقف کو مضبوط کرتا ہے کہ یہ فالس فلیگ آپریشن تھا۔
2007 میں حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد میں دھماکہ ہوا۔ ابتدائی مرحلے میں مختلف مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا، لیکن بعد کی تحقیقات میں ہندو انتہا پسند نیٹ ورکس کی جانب توجہ مرکوز ہوئی۔
اسی نوعیت کا ایک اور مقدمہ اجمیر شریف درگاہ دھماکہ تھا۔
اس مقدمے میں بھی ابتدائی تفتیش اور بعد کی تحقیقات میں نمایاں فرق سامنے آیا۔
مالیگاؤں دھماکے کو ہی دیکھ لیجیے۔2008کے مالیگاؤں دھماکوں میں لیفٹیننٹ کرنل شری کانت پروہت اور سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر سمیت متعدد افراد کے نام سامنے آئے۔
پہلگام ایک جھوٹ تھا اور اس جھوٹ کی ہنڈیا ہندتووا کے چوراہے میں پھوٹ چکی ہے۔ پہلگام کے بعد بھارت نے جو فوجی کارروائی کی وہاں بھی بھارت منہ کی کھا چکا ہے۔ذلیل اور رسوا ہو چکا ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں