جناب سراج الحق امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی سابق اتحادی حکومت نے جان بوجھ کر الیکشن میں تاخیر کا بندوبست کیا۔ حکومت کی رخصتی سے چند روز قبل مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلا کر ڈیجیٹل خانہ شماری کی منظوری دی گئی تاکہ الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیوں کی آڑ میں قومی انتخابات کو مقررہ آئینی مدت سے آگے لے جائے۔ الیکشن کمیشن آئین کی من مانی تشریح نہ کرے اور 90روز میں شفاف الیکشن کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔ آئین کے آرٹیکل 224کی پاسداری ہونی چاہیے۔ آئین کی خلاف ورزی ہوئی تو جماعت اسلامی مخالفت کرے گی۔ نگران حکومت کا اولین اور بنیادی فرض انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کا ہاتھ بٹانا ہے۔ ملک کا بنیادی مسئلہ قانون کی حکمرانی کا نہ ہونا ہے۔ پاکستان ایک جمہوری جدوجہد کے نتیجہ میں آزاد ہوا مگر بدقسمتی سے اوائل میں ہی جمہوریت کو پٹڑی سے اتار دیا گیا۔ جس ملک یا معاشرہ میں انصاف نہ ہو اس کا قائم رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ عوام آزمائے ہوئے ظالم جاگیرداروں اور کرپٹ سرمایہ داروں کی پارٹیوں کے بجائے جماعت اسلامی کی اہل اور ایماندار قیادت کا انتخاب کرے۔ اقتدار قوم کی امانت ہے، شفاف الیکشن کے ذریعے عوام کے حقیقی نمائندوں کو ملک چلانے کا موقع ملے گا تو استحکام آئے گا۔مشترکہ مفادات کونسل میں دی جانے والی مردم شماری کی منظوری کے بعد یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی ہے کہ قومی اسمبلی کی تحلیل کے باوجود عام انتخابات کا رواں سال میں انعقاد ممکن نہیں کیونکہ الیکشن کمیشن کو اس سلسلے میں اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کےلئے وقت درکار ہے۔ اس صورتحال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اتحادی حکومت نگران سیٹ اپ کو زیادہ وقت کےلئے چلانے کے حق میں ہے لیکن یہ معاملہ ملک اور عوام کے حق میں دکھائی نہیں دے رہا اس لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے اس کا کوئی قابلِ عمل حل نکالنا چاہیے ۔ اب نگران سیٹ اپ قائم ہو چکا ہے جس کی اصل آئینی ذمہ داری متعینہ آئینی مدت میں آزادانہ، غیرجانبدار، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد کروا کر اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کرنا ہے تاکہ آئین کے تقاضے پورے ہوں اور جمہوری نظام احسن طریقے سے چلتا رہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی پارٹی کی رکنیت سے مستعفی ہو چکے ہیں اور انھوں باور کرایا ہے کہ ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ان کی ذمہ داری ہے۔اگر حکومت بھی اسمبلی کی تحلیل کے بعد 60 یا 90 دن کی آئینی میعاد کے اندر انتخابات پر متفق ہو چکی ہے اور الیکشن کمیشن بھی اس کیلئے تیاری مکمل کر چکا ہے جس نے آزادانہ‘ منصفانہ اور شفاف انتخابات کیلئے آئین کے تحت حاصل اپنے اختیارات کو بروئے کار لا کر متعلقہ ریاستی‘ انتظامی اداروں بشمول عدلیہ اور فوج سے معاونت بھی طلب کرلی ہے تو اب حکومت، الیکشن کمیشن اور انتخابات میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کو مقررہ آئینی مدت کے اندر انتخابات کے عزم پر مکمل کاربند رہنا چاہیے اور جمہوری آئینی طریقے سے انتقال اقتدار کا پراسس مکمل ہونے دینا چاہیے۔ یقیناً اس سے ہی سسٹم کو بھی تقویت ملے گی اور عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آنیوالی سیاسی جماعت یا انتخابی اتحاد اس پوزیشن میں ہوگا کہ وہ راندہ درگاہ عوام کو انکے غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری کے مسائل میں مستقل ریلیف دینے کی ٹھوس پالیسی وضع کرے۔ اگر عوام کو جمہوریت کے ثمرات سے بدستور محروم رکھا گیا تو وہ سسٹم سے مزید بدگمان ہونگے اس لئے تمام فریقین کو آئین کے مطابق انتخابی پراسس کی تکمیل پر متفق ہو جانا چاہیے۔ گومگو کی صورتحال سے سیاسی اور اقتصادی استحکام کی منزل دور ہی ہوتی ہے۔ نگران سیٹ اپ کا مطمح نظر صرف شفاف انتخابات کا انعقاد ہونا چاہیے ۔ اس وقت ملک سیاسی انتشار سے دوچار ہے جس کا واحد حل مقررہ مدت میں انتخابات کا انعقاد ہے۔ کچھ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی کشمکش کے باعث نگران سیٹ اپ کا دورانیہ طویل ہو سکتا ہے، اگر انتخابات میں تاخیر کی گئی تو ملک میں مزید افراتفری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے اور عوام میں بھی اضطراب بڑھ سکتا ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میںاب ملک انتخابات میں تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بروقت انتخابات کا انعقاد ممکن ہواور ملک کو سیاسی انتشار سے نکالا جاسکے کیونکہ ایک منتخب عوامی حکومت ہی ملک کو بحران سے نکال کر عوام کو ریلیف مہیا کرسکتی ہے۔ انتخابی اصلاحات ایکٹ کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد الیکشن کمیشن کے بطور ادارہ مکمل خودمختار ہونے کے بارے میں اب کوئی ابہام نہیں رہا اور آزادانہ‘ منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انتظامات کے علاوہ اب انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے اور اس میں ردوبدل کا اختیار بھی الیکشن کمیشن کو تفویض ہو چکا ہے۔ چنانچہ انتخابات کیلئے تشکیل پانے والے نگران سیٹ اپ نے مکمل طور پر الیکشن کمیشن کی نگرانی میں کام کرنا اور انتخابات کے حوالے سے روزمرہ کے جملہ امور نمٹانے ہونگے۔
٭٭٭٭





