بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 16.7°C
Friday, 23 October 2026 | پاکستان: 13 جمادی الاول 1448

کارساز: وہ رات جو تاریخ بن گئی

Friday, 23 October, 2026

کچھ زندگیاں قوم کی تاریخ کا ایک باب بن جاتی ہیں، اور کچھ وہ زبان بن جاتی ہیں جس میں اس تاریخ کو یاد رکھا جاتا ہے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا تعلق دوسری قسم سے تھا۔ ایک ایسے رہنما کی بیٹی، جسے فوجی حکومت نے پھانسی دی، وہ قید، جلاوطنی اور ذاتی صدمات سے گزر کر آمرانہ حکمرانی کے سامنے ڈٹ گئیں اور عوام کے اپنے نمائندے منتخب کرنے کے حق کا دفاع کیا۔ جنرل ضیا الحق کی آمریت سے لیکر جنرل پرویز مشرف کے فوجی سرپرستی والے نظام تک، ان کا سفر جرات، استقامت اور اس غیر متزلزل یقین سے عبارت تھا کہ پاکستان کا مستقبل خوف نہیں بلکہ اس کے شہری طے کریں گے۔18 اکتوبر 2007 کو کراچی آٹھ سال کی جلاوطنی کے بعد اپنی رہنما کا استقبال کرنے کی تیاری میں تھا۔ سڑکیں پارٹی پرچم اٹھائے، نعرے لگاتے اور اس رہنما کے منتظر لوگوں سے بھر گئیں جن کی واپسی جمہوری امید کی علامت بن چکی تھی۔ یہ جلوس محض وطن واپسی کا استقبال نہیں تھا، بلکہ اس بات کا اعلان تھا کہ سیاسی شرکت کو دھمکیوں اور جبر سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ مگر جب ان کا قافلہ شاہراہِ فیصل پر کارساز کے قریب پہنچا تو جشن پاکستان کی سیاسی تاریخ کی سیاہ ترین راتوں میں سے ایک میں بدل گیا۔دو دھماکوں نے جلوس کو چیر کر رکھ دیا، جن میں 150 سے کہیں زیادہ افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں پارٹی کارکن، رضاکار اور حامی شامل تھے۔ دھماکے اس ٹرک کے قریب ہوئے جس پر بینظیر بھٹو اور پارٹی قیادت سوار تھی۔ وہ بال بال بچ گئیں، جبکہ جن سڑکوں پر خیرمقدم کی گونج تھی وہاں خون، افراتفری اور سوگ چھا گیا۔ خاندان اپنے پیاروں کو ڈھونڈتے رہے اور ہسپتال زخمیوں سے بھر گئے۔ ہلاکتوں کی صحیح تعداد مختلف رپورٹس میں مختلف بتائی گئی ہے، مگر نقصان کی سنگینی میں کوئی شبہ نہیں۔اس حملے میں ایک ہولناک سیاسی پیغام پوشیدہ تھا: جدوجہد ترک کر دو، عوامی زندگی سے کنارہ کش ہو جا، اور جان لو کہ جمہوری سیاست کی طرف لوٹنے کی قیمت سب کچھ ہو سکتی ہے۔ حملہ آوروں کے مقاصد جو بھی ہوں، ہدف اور وقت کے انتخاب نے ان کا مطلوبہ اثر واضح کر دیا تھا: دہشت پھیلانا، عوامی عزم کو توڑنا اور ایک سیاسی رہنما کو خاموش کرا دینا۔ بینظیر واضح دھمکیوں کے باوجود وطن لوٹی تھیں۔ اس حملے نے ان کو درپیش خطرے کو ظاہر کیا، اور ساتھ ہی ایک ایسے معاشرے کو بھی بے نقاب کیا جہاں سیاسی تشدد یہ طے کرنا چاہتا تھا کہ کون بول سکتا ہے، کون منظم ہو سکتا ہے اور کون قیادت کر سکتا ہے۔اگلے دن کے ردِعمل نے اس سانحے کو معنویت بخشی۔ نجی تحفظ کی پناہ لینے کے بجائے وہ ہسپتالوں اور محلوں میں گئیں، زخمیوں سے ملیں اور جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کی۔ وہ ان لوگوں کے ساتھ کھڑی ہوئیں جن کے پیارے ان کے استقبال کیلئے جلوس میں شریک ہوئے تھے اور جو اب بیٹوں، بھائیوں، شوہروں اور دوستوں کی مستقل جدائی کا سامنا کر رہے تھے۔ ان کی موجودگی مرنے والوں کو واپس نہیں لا سکتی تھی، مگر اس نے یکجہتی کا پیغام دیا: رہنما ان لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی جنہوں نے اس کے ساتھ اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں۔ جب خوف ایک تحریک کو مفلوج کر سکتا تھا، وہ اس کے سوگواروں اور زخمیوں کے ساتھ کھڑی ہو گئیں۔ان کارکنوں کی جرات کو سالانہ تقریروں سے آگے بڑھ کر یاد رکھا جانا چاہیے۔ بہت سوں نے جلوس کے گرد انسانی زنجیریں بنا رکھی تھیں اور اپنے جسموں کو خطرے اور اپنی قائد کے درمیان حائل کر دیا تھا۔ وہ ہجوم کے گمنام چہرے نہیں تھے، بلکہ خاندانوں، خوابوں اور مستقبل والے شہری تھے۔ ان کی قربانی جمہوری مقصد سے ان کی وابستگی کی گواہ ہے۔ زندہ بچ جانے والے اپنے جسموں پر زخم اور نشان لیے پھرتے ہیں، اور شہدا کے خاندان ایسا غم سہہ رہے ہیں جس کا کوئی سرکاری خراجِ عقیدت ازالہ نہیں کر سکتا۔ ان کی توقیر محض نعروں سے نہیں ہوتی؛ اس کیلئے سچ، انصاف، زندہ بچ جانے والوں کی دیکھ بھال اور جمہوری اقدار سے وابستگی درکار ہے ۔ کارساز ایک طویل تاریخ کا حصہ ہے۔ اپنے قیام کے بعد سے پاکستان پیپلز پارٹی نے عوامی حقوق، پارلیمانی طرزِ حکومت اور آمریت کے خلاف مزاحمت کا علم بلند رکھا ہے۔ 1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اس کی سیاسی یادداشت کا فیصلہ کن زخم بن گئی۔ جنرل ضیا کے دور میں پارٹی کارکنوں نے قید، سنسر شپ، ظلم و ستم اور بعض صورتوں میں موت تک برداشت کی۔ بینظیر خود بھی نظربندی اور جلاوطنی سے گزریں، پھر 1986 میں لاہور میں تاریخی استقبال کے ساتھ وطن لوٹیں۔ فوجی طاقت سے ان کے ٹکرا اور سول حکمرانی کی غیر یقینی صورتحال نے پاکستان کے جمہوری سفر کی صورت گری کی۔ پارٹی کی تاریخ ان کارکنوں سے جدا نہیں جنہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی اقتدار کا فیصلہ جبر نہیں بلکہ بیلٹ کرے۔بینظیر کی جدوجہد کارساز پر ختم نہیں ہوئی۔ وہ دھمکیوں کے باوجود انتخابی مہم چلاتی رہیں اور یہ مقف اپناتی رہیں کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی پاکستان کے سماجی تانے بانے اور جمہوری مستقبل کے لیے خطرہ ہیں۔ 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک جلسے کے بعد انہیں قتل کر دیا گیا۔ ان کی شہادت اس سوال کو مٹا نہ سکی جس کے لیے وہ واپس آئی تھیں: پاکستان پر حکمرانی کا حق کس کا ہے، عوام کا جو ووٹ کے ذریعے فیصلہ کرتے ہیں، یا ان قوتوں کا جو دھمکی اور تشدد پر انحصار کرتی ہیں؟ ان کے قتل نے قومی سانحے کو گہرا کیا اور جمہوری استحکام کو مزید ناگزیر بنا دیا۔آج کارساز کو محض رسمی سوگ تک محدود کرنا یا صرف سیاسی وفاداری کو متحرک کرنے کیلئے استعمال کرنا درست نہیں۔ اسے ریاست کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہیے کہ وہ سیاسی شرکت کا تحفظ کرے، تشدد کی معتبر تحقیقات کرے، متاثرہ خاندانوں کی مدد کرے اور یہ یقینی بنائے کہ کسی شہری کو اپنے آئینی حقوق استعمال کرنے پر دھمکایا نہ جائے۔ جمہوریت صرف انتخابات سے محفوظ نہیں ہوتی؛ اس کا انحصار قانون کے آگے جواب دہ اداروں، سیاسی رواداری اور عوامی زندگی میں حصہ لینے والوں کی سلامتی پر ہے۔ شہدا ایک ایسے ملک کے مستحق ہیں جہاں ان کی قربانی اداروں کو مضبوط کرے، نہ کہ تشدد کے چکر کو ہوا دے۔ بمباروں نے ایک خیرمقدمی جلوس کو انتباہ اور جلوس کو قبرستان میں بدلنے کی کوشش کی۔ اس کے برعکس، کارساز اس قیمت کی گواہی بن گیا جو عام لوگوں نے سیاسی آزادی کے لیے ادا کی۔ بینظیر بھٹو کو ڈرا کر اپنے مشن سے دستبردار نہیں کرایا جا سکا۔ وہ زخمیوں اور سوگواروں کی طرف بڑھیں، پھر اسی جدوجہد کی طرف لوٹ گئیں جس نے بالآخر ان کی جان لے لی۔ جنہوں نے سوچا تھا کہ دہشت انہیں خاموش کر دے گی، وہ تاریخ کے کوڑے دان میں جا چکے ہیں، جبکہ ان کا نام اور شہدا کے نام پاکستان کی جمہوری یادداشت میں پیوست ہیں۔ کارساز کا جواب انتقام نہیں، بلکہ ایک ایسی جمہوریت ہے جو اپنے عوام کی حفاظت اور ان کی قربانی کی توقیر کرنے کی ہمت رکھتی ہو۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *