حکومت کا دو سال کے عرصے میں طلبہ کے درمیان 5 لاکھ کروم بکس تقسیم کرنے کا منصوبہ پاکستان میں ڈیجیٹل تفریقکو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ڈیوائسز، جو مائی فائیانٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کے ساتھ فراہم کی جائیں گی، ان طلبہ کے لیے ہیں جنہیں اس اسکیم کے تحت خصوصی طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ ایسے ملک میں جہاں کمپیوٹر اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ تک رسائی اب بھی بڑی حد تک خاندان کی آمدنی اور رہائشی مقام پر منحصر ہے، یہ اقدام خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ملک گیر اقدام کا باقاعدہ آغاز کیا ۔ لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے نوٹ کیا کہ متنوع تعلیمی پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبا کو لیپ ٹاپ فراہم کیے جا رہے ہیں، جن میں مرکزی دھارے کے اسکول اور مدارس شامل ہیں، جو کہ صرف ٹیلنٹ اور محنت کی بنیاد پر ہیں، انہیں ای لائبریریوں تک رسائی اور معیاری تعلیم کے حصول میں مدد فراہم کرتے ہیں۔یہ درحقیقت مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے اہم ترین اقدامات میں سے ایک ہے، جو تعلیمی عمل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ مالی مشکلات کے باعث بے شمار طلبا ایسے ہیں جن کی لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے؛ وزیرِ اعظم کی جانب سے شروع کی گئی یہ اسکیم اس بات کو یقینی بنائے گی کہ یہ آلات ان تمام افراد تک پہنچیں جو اس کے لیے مقررہ معیار پر پورا اترتے ہیں۔ اس طرح، باصلاحیت مگر پسماندہ طلبا میں پائی جانے والی محرومی کے احساس کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔یہ بات بھی حوصلہ افزا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت عوامی فلاح و بہبود کے تقریبا تمام منصوبوں کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے میں خصوصی دلچسپی لیتی ہے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ متعلقہ افراد کو بغیر کسی تاخیر کے ان سے فائدہ پہنچنا شروع ہو جائے۔ یہ سب پر عیاں ہے کہ ‘یلو کیب اسکیم’ جسے سب سے پہلے 1992 میں اس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے پاکستان میں متعارف کرایا تھا اور بعد ازاں 2011 اور 2014 میں وزیرِ اعلی شہباز شریف کے دور میں پنجاب میں دوبارہ شروع کیا گیا نے نوجوانوں میں بے روزگاری کے خاتمے، مقامی صنعت کو فروغ دینے اور پبلک ٹرانسپورٹ کو جدید بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اسی طرح، یہ مسلم لیگ (ن) کی ہی حکومت تھی جس نے ماضی میں پورے پاکستان کے طلبا میں تقریبا چھ لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے، اور یوں اتنے ہی طلبا اور ان کے خاندانوں کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کیا۔ کووڈ-19 کی وبا کے دوران تقسیم کیے گئے یہ لیپ ٹاپ طلبا کے لیے اپنی تعلیم جاری رکھنے اور روزگار کمانے کی خاطر ایک اہم سہارا ثابت ہوئے۔حکومتِ پاکستان کی جانب سے جس کی قیادت ‘وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام’ اور ‘وفاقی وزارتِ تعلیم’ کر رہے ہیں کروم بکس کی تقسیم بڑی تعلیمی، معاشی اور سماجی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ اقدام ‘ڈیجیٹل تفریق’ کو کم کرنے کے مقصد کو آگے بڑھانے میں مدد دے گا، کیونکہ یہ کروم بکس تمام صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور رجسٹرڈ مدارس کے نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبا میں تقسیم کیے جائیں گے۔آلات کی تقسیم میرٹ کی بنیاد پر کی جائے گی (جس کی تصدیق ‘انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن’ کے ذریعے ہوگی)، جس میں سرکاری اسکولوں، نجی فانڈیشن کے زیرِ انتظام اسکولوں اور دینی مدارس کیلئے مخصوص کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے کا مقصد نہ صرف طلبا بلکہ کم وسائل والے یا دیہی علاقوں میں رہنے والے تقریباً 25 لاکھ افراد تک ڈیجیٹل رسائی پہنچانا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کرومزڈیوائسز ای – لائبریریز، ورچوئل کلاس رومز اور آن لائن تعلیمی مواد تک محفوظ اور آسان رسائی فراہم کرتی ہیں ۔ موجودہ حالات میں، جہاں سیکیورٹی یا دیگر وجوہات کی بنا پر طلبا کو اکثر گھروں سے آن لائن کلاسز لینے کیلئے کہا جاتا ہے، یہ سہولت انتہائی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ یہ اقدام روایتی ‘رٹہ لگانے’ والے تعلیمی ماحول کو ڈیجیٹل انضمام کی جانب لے جاتا ہے، جس سے طلبا کو عالمی تعلیمی معیارات کے ساتھ قدم ملا کر چلنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ پروگرام پاکستان کی پہلی ‘گوگل کروم بک اسمبلی لائن’ سے منسلک ہے، جسے گوگل اور ‘ٹیک ویلی’ کے اشتراک سے ہری پور میں قائم کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ مقامی ہارڈویئر سپلائی چینز اور مستقبل میں ٹیکنالوجی کی تیاری کی بنیاد رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ امید ہے کہ یہ اسکیم نوجوانوں کو کلاڈ بیسڈ ٹولز سے آراستہ کرے گی اور انہیں ڈیجیٹل معیشت جس میں فری لانسنگ، مصنوعی ذہانت پر تحقیق اور عالمی سطح پر ریموٹ ملازمتیں شامل ہیں کے لیے تیار کرے گی۔ درحقیقت، یہ ملک میں تعلیمی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اور اہم قدم ہے۔ موجودہ حکومت تعلیمی بنیادی ڈھانچے کی توسیع پر سرمایہ اور توانائی صرف کر رہی ہے؛ اس کا ثبوت اسلام آباد میں حال ہی میں ‘دانش اسکول’ کا قیام اور ملک بھر میں زیرِ تعمیر 27 دیگر کیمپس ہیں، جنہیں جدید ترین سہولیات اور نصاب کی فراہمی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ تاہم، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لیے یہ اشد ضروری ہے کہ وہ تمام تعلیمی اداروں میں کلاس رومز اور لیبارٹریوں کو جدید بنانے کے لیے پروگرام شروع کریں۔ اس کے علاوہ، نامور کمپنیوں کو لیپ ٹاپ اور نوٹ بکس کی مقامی سطح پر تیاری کیلثے مراعات دی جانی چاہئیں تاکہ یہ آلات مناسب قیمت پر دستیاب ہو سکیں۔
سی پیک کو آگے بڑھانا
چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے اسلام آباد میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں چین-پاکستان اقتصادی راہداری ، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی پیش رفت شامل تھیں۔ اسحاق ڈار نے پاکستان اور چین کے درمیان “ہر موسم کے اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری” میں جاری پیش رفت کو سراہا۔ انہوں نے ‘نئے دور میں چین-پاکستان مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے’ کو مزید آگے بڑھانے کے لیے اعلی سطحی رابطوں کے تسلسل کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقین نے علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور پائیدار امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت کا اعادہ کیا۔دونوں ممالک اب سی پیک کے دوسرے مرحلے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ پہلے مرحلے کے برعکس، جس میں زیادہ تر توجہ توانائی اور بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) پر تھی، دوسرے مرحلے میں پیداواری شعبوں میں وسیع تر تعاون کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ ان شعبوں میں صنعتی کاری، زراعت، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت شامل ہیں۔ اس مرحلے کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوام کے درمیان روابط کو فروغ دینا بھی ہے۔ سی پیک 2.0 کی کامیابی پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ملک کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور اپنی برآمدی بنیاد کو وسیع کرنے کے لیے مزید صنعتی کاری کی ضرورت ہے، جبکہ زراعت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، بہتر پیداواری صلاحیت اور مضبوط ‘ویلیو چینز’ کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے معدنی وسائل بھی سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے لیے وسیع امکانات رکھتے ہیں، بشرطیکہ ان وسائل کو ذمہ داری سے ترقی دی جائے اور ملک کے اندر ہی ان میں مزید قدر شامل کی جائے۔ اسی طرح، اگر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی جائے، مہارتوں کو فروغ دیا جائے اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کی جائے، تو یہ شعبہ برآمدات اور روزگار کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔دونوں جانب کے رہنماں نے سی پیک کے دوسرے مرحلے کے لیے اپنے عزم کا بارہا اعادہ کیا ہے۔ اب ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ اس عزم کو ٹھوس منصوبوں اور قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جائے۔ سیاسی، سفارتی، ادارہ جاتی اور تجارتی سطح پر رابطے جاری رہنے چاہئیں تاکہ فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ سی پیک 2.0 پاکستان کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ بنیادی ڈھانچے پر مبنی تعاون سے آگے بڑھ کر وسیع تر معاشی تبدیلی کی جانب گامزن ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسرے مرحلے کا کامیاب نفاذ دونوں ممالک کو مزید قریب لائے گا اور تعاون کے نئے راستے کھولے گا۔ اس دو طرفہ تعلق کو ایک نئی سطح پر لے جانے کے لیے اب مسلسل اور مثر ہم آہنگی، نیز بروقت عمل درآمد کی ضرورت ہے۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں