بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 16.6°C
Friday, 23 October 2026 | پاکستان: 13 جمادی الاول 1448

کشمیر کا طویل ہوتا سیاہ یوم اور اقوامِ متحدہ کی ذمہ داری

Friday, 23 October, 2026

رات کی تاریکی اگر صرف آسمان پر چھائی ہو تو صبح اسے مٹا دیتی ہے، لیکن جب اندھیرا انسانی حقوق، اجتماعی آزادی اور مستقبل کے فیصلے کے اختیار پر مسلط ہو جائے تو سورج نکلنے کے باوجود تاریکی برقرار رہتی ہے۔ کشمیر کی تاریخ کا 27 اکتوبر ایسا ہی دن ہے؛ ایک سیاہ دن جسے 79 برس گزرنے کے باوجود اختتام نہیں ملا۔ کشمیری عوام آج بھی پوچھتے ہیں کہ آزادی کا سورج کب طلوع ہوگا اور وہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کب خود کر سکیں گے؟27 اکتوبر 1947 کو سرینگر میں بھارتی فوج کی آمد نے مسئلہ کشمیر کو ایسے تاریخی موڑ پر پہنچایا جس کے اثرات آج تک جنوبی ایشیا کی سیاست، پاکستان بھارت تعلقات اور علاقائی امن پر مرتب ہو رہے ہیں۔ یہ تنازع زمین یا سرحدوں کا نہیں، کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا ہے۔ نسلیں گزر گئیں، عالمی سیاست بدلی، مگر یہ بنیادی مسئلہ بدستور حل طلب ہے۔ اسی لیے 27 اکتوبر کشمیریوں کے لیے یومِ سیاہ ہے؛ ایک ایسی یاد جس سے وابستہ دکھ اور انتظار ہر سال تازہ ہو جاتا ہے۔ تقسیمِ ہند کے وقت ریاست جموں و کشمیر کا مستقبل صرف دو نئی ریاستوں کے درمیان جغرافیائی تنازع نہیں تھا۔ اس میں الحاق، عوامی خواہشات اور اپنے مستقبل کے تعین کا حق شامل تھا۔ اسی پس منظر میں مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ تک پہنچا۔ کسی تنازع کو طویل عرصے تک حل طلب چھوڑنے سے اس کے بنیادی سوالات ختم نہیں ہوتے؛ انصاف، سیاسی قبولیت اور پائیدار امن کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔تنازع کشمیر کے حوالے سیاقوامِ متحدہ کی ذمہ داری غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ سلامتی کونسل نے متعدد قراردادوں کے ذریعے کشمیری عوام کے مستقبل کے تعین کے اصول اور طریق کار پیش کیے، مگر ان پر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹیں برقرار ہیں۔ عالمی ادارے کا کردار صرف قراردادیں محفوظ رکھنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے؛ اسے اپنے چارٹر، متعلقہ قراردادوں اور پرامن تنازعات کے حل کے اصولوں کے مطابق موثر سفارتی کوششیں بھی کرنی چاہئیں ۔ اقوامِ متحدہ کو مسئلہ کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر اپنی سفارتی توجہ میں رکھنا، فریقین سے مسلسل رابطہ بڑھانا اور ایسا پرامن راستہ تلاش کرنا چاہیے جس میں کشمیری عوام کے حقوق، سلامتی اور سیاسی خواہشات مرکزی حیثیت رکھیں۔ ماضی کی ناکامیوں کا جائزہ لے کر رسمی بیانات سے آگے بڑھنے والی عملی حکمتِ عملی ضروری ہے۔5 اگست 2019 کو بھارت نے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے سابق ریاست کو دو مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں تقسیم کیا۔ پاکستان اور کشمیری حلقوں نے ان اقدامات پر شدید اعتراض کیا اور انہیں عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا، انتظامی یا آئینی تبدیلیاں کشمیری عوام کی سیاسی خواہشات اور حقِ خودارادیت کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ متنازع خطے کی حیثیت بنیادی سیاسی سوال حل کیے بغیر تبدیل نہیں ہوتی۔ مسئلہ کشمیر کو صرف پاکستان اور بھارت کا باہمی تنازع سمجھنا بھی اس کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ اس کا مرکزی انسانی پہلو کشمیری عوام ہیں، جن کی شناخت، سلامتی، سیاسی خواہشات اور مستقبل کو ہر سنجیدہ عمل میں بنیادی اہمیت ملنی چاہیے۔ ان کی آواز نظرانداز کرکے پائیدار حل کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال بھی تشویشناک ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی ورلڈ رپورٹ 2026 میں 2025 کے دوران جموں و کشمیر میں کتابوں پر پابندیوں، صحافیوں اور ناقدین کے خلاف کارروائیوں، گرفتاریوں اور سلامتی کے اداروں سے متعلق خلاف ورزیوں کے الزامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگست 2025 میں حکام نے 25کتابوں پر پابندی عائد کرکے کتابوں کی دکانوں پر چھاپے مارے۔ ایسے معاملات میں شفاف تحقیقات، قانونی تقاضوں کی پابندی، آزادیِ اظہار اور جواب دہی ناگزیر ہیں۔ مسئلہ کشمیر نے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو بھی مسلسل متاثر کیا ہے ۔ دونوں ممالک کی ایٹمی صلاحیت اس تنازع کو مزید حساس بناتی ہے، کیونکہ بڑی فوجی کشیدگی پورے خطے کیلئے تباہ کن ہو سکتی ہے۔ اپریل 2025 میں پہلگام حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی نے واضح کیا کہ سلامتی کے خدشات اور سیاسی اختلافات کو سفارتی ذرائع سے سنبھالنا ضروری ہے۔ تاہم، پائیدار امن مسئلہ کشمیر اور کشمیری عوام کے حقوق کو نظرانداز کرکے ممکن نہیں۔یومِ سیاہ کو صرف بیانات اور احتجاج تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ حقِ خودارادیت کی حمایت کو مثر سفارت کاری، مستند دستاویزات، قابلِ تصدیق انسانی حقوق کے شواہد اور عالمی اداروں سے مسلسل رابطے میں ڈھالنا ہوگا۔ پاکستان کو بھی معتبر معلومات، واضح حکمتِ عملی اور مستقل سفارتی کوششوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا چاہیے۔حبیب جالب کا یہ سوال آج بھی معنویت رکھتا ہے: ظلم رہے اور امن بھی ہو؟کیا ممکن ہے؟ یہ سوال امن اور انصاف کے باہمی تعلق کی یاد دہانی ہے۔ حقیقی امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں؛ وہ ایسی حالت ہے جس میں انسان خوف کے بغیر زندگی گزاریں، اپنی شناخت برقرار رکھیں، اختلافِ رائے کا اظہار کریں اور اپنے مستقبل کے فیصلوں میں بامعنی شرکت کریں۔ کشمیر کا پائیدار حل انصاف، حقوق کے تحفظ اور رائے شماری سے وابستہ ہے۔27 اکتوبر 2026 کو یومِ سیاہ منایا جائے گا تو اس تاریخ کو 79 برس مکمل ہو چکے ہوں گے ۔ یہ وقت کا حساب نہیں طویل انتظار کی علامت ہے۔ نسلیں بدل گئیں، عالمی ترجیحات تبدیل ہوئیں، مگر کشمیریوں کے مستقبل کا سوال برقرار ہے۔ ہر گزرتا برس اس امید کو طول دیتا ہے کہ شاید اگلی صبح آزادی، انصاف اور اپنے مستقبل پر اختیار کی نوید لائے۔کشمیر کے چناروں پر خزاں آئے یا بہار، وہاں بسنے والے انسانوں کے بنیادی حقوق موسموں کے تابع نہیں ہو سکتے۔ آزادی، وقار، تحفظ اور سیاسی اختیار کسی قوم کے غیر ضروری مطالبات نہیں، انسانی زندگی کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔ تاریخ کا فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ کشمیری عوام کے حقوق کے لیے کیا عملی پیش رفت ہوئی، ان کی آواز کو کتنی اہمیت ملی اور عالمی برادری نے منصفانہ راستے کی تلاش میں کیا کردار ادا کیا۔کشمیر کا سیاہ دن 8 دھائیوں بعد بھی تاریخ کا بند باب نہیں؛ وہ ایسا انتظار ہے جو ہر سال طویل ہوتا جا رہا ہے۔ کشمیری اس صبح کے منتظر ہیں جب خوف اور بے یقینی کی تاریکی چھٹے گی، ان کے حقوق اور سیاسی خواہشات کو حقیقی اہمیت ملے گی اور آزادی کی امید خواب نہیں رہے گی۔اقوامِ متحدہ کی قراردادیں، پاکستان کا سفارتی موقف اور کشمیری عوام کا حقِ خودارادیت اسی بنیادی سوال سے جڑے ہیں کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق کب اور کس طریقے سے ملے گا ؟ طویل انتظار اس سوال کو کمزور نہیں کرتا، اس کی اہمیت بڑھاتا ہے۔ یومِ سیاہ کا پیغام ہے کہ جب آزادی اور بنیادی حقوق سلب ہوں تو اندھیرا زندگیوں، امیدوں اور مستقبل پر چھا جاتا ہے۔ کشمیری عوام آج بھی اس دن کے منتظر ہیں جب یہ تاریکی چھٹے گی اور آزادی، وقار اور انصاف کا سورج طلوع ہوگا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *