6 ستمبر پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا یادگار دن ہے جو ہمیں دفاعِ وطن، قومی یکجہتی، شجاعت اور قربانی کے لازوال جذبے کی یاد دلاتا ہے۔ یومِ دفاع پاکستان دراصل ان عظیم شہدا اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے جنہوں نے 1965 کی جنگ میں مادرِ وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کی پروا نہ کی۔ اس دن پوری قوم اپنے بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتی ہے اور اس عزم کی تجدید کرتی ہے کہ پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔1965 کی جنگ نے ثابت کیا کہ قومیں صرف ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان سے نہیں بلکہ جذب حب الوطنی، قومی اتحاد اور عزم و حوصلے سے بھی دفاع کرتی ہیں۔ پاکستانی افواج نے دشمن کے بڑے حملے کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ میجر عزیز بھٹی شہید اور دیگر بے شمار شہدا کی قربانیاں ہماری قومی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ ان جانبازوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے آنے والی نسلوں کے لیے آزادی اور وطن سے وفاداری کی ایک عظیم مثال قائم کی۔لیکن آج یومِ دفاع کی اہمیت صرف 1965 کی جنگ تک محدود نہیں۔ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں میں دفاعِ وطن کے ایک ایسے محاذ کا بھی سامنا کیا ہے جو روایتی جنگ سے کہیں زیادہ پیچیدہ تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں نے غیر معمولی قربانیاں دی ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد میں 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانیں کھو چکے ہیں جبکہ ملکی معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کو ایک طرف مشرقی سرحد پر روایتی سکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا ہے تو دوسری جانب مغربی سرحد سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خطرات نے قومی سلامتی کو مسلسل متاثر کیا ہے۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گرد عناصر کیخلاف طویل اور مشکل کارروائیاں کی ہیں۔ ہزاروں جوانوں نے اپنی جانیں قربان کرکے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کا دفاع صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ ملک کے اندر امن و استحکام کے تحفظ کیلئے بھی کیا جا رہا ہے۔ضربِ عضب اور آپریشن ردالفساد سمیت مختلف انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں نے دہشت گرد نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ریاستی رٹ کو مضبوط بنانے اور ملک میں امن بحال کرنے میں اہم پیش رفت ہوئی۔ تاہم دہشت گردی ایک مسلسل چیلنج ہے، اس لیے قومی سلامتی کیلئے فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ مثر سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس تعاون، قانون کی حکمرانی، معاشی ترقی اور نوجوانوں کو مثبت مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔اسی تناظر میں “بنیان مرصوص” کا تصور خصوصی اہمیت اختیار کرتا ہے۔ قرآنِ کریم کی سور الصف میں اہلِ ایمان کی صف بندی کو ایک مضبوط اور مربوط دیوار سے تشبیہ دی گئی ہے۔ بنیان مرصوص ہمیں اتحاد، نظم، استقامت اور اجتماعی قوت کا پیغام دیتا ہے۔ ایک مضبوط دیوار اسی وقت قائم رہتی ہے جب اس کی تمام اینٹیں ایک دوسرے سے مضبوطی کے ساتھ جڑی ہوں۔ یہی اصول ایک ریاست اور قوم کیلئے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔آپریشن بنیان مرصوص کے حوالے سے اس تصور نے قومی دفاع اور اجتماعی عزم کو ایک نیا معنوی پہلو دیا ہے۔ اس کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ جب قوم اپنے دفاع، خودمختاری اور قومی مفاد کیلئے متحد ہو تو بیرونی دبا اور اندرونی چیلنجز کا مقابلہ زیادہ مثر انداز میں کیا جا سکتا ہے ۔ دفاع صرف افواج کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ فریضہ ہے۔آج پاکستان کو درپیش خطرات کی نوعیت تبدیل ہو چکی ہے۔ روایتی جنگ کے ساتھ سائبر خطرات، انتہاپسندی ، دہشت گردی، غلط معلومات، معاشی دبا اور علاقائی عدم استحکام جیسے چیلنجز بھی قومی سلامتی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں قومی اتحاد پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔ سیاسی اختلافات جمہوری عمل کا حصہ ہیں، مگر قومی سلامتی اور وطن کے بنیادی مفادات کے معاملات میں قوم کو تقسیم سے بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔یومِ دفاع ہمیں 1965 کے شہدا کی یاد دلاتا ہے جبکہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کے شہدا ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ وطن کے دفاع کی قربانیوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ سرحدوں پر کھڑے سپاہی، دہشت گردی کیخلاف لڑنیوالے جوان، پولیس اہلکار اور وہ عام شہری جنہوں نے اپنے پیاروں کو وطن پر قربان کیا، سب ہماری قومی تاریخ کے محسن ہیں۔6ستمبر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ مضبوط دفاع کیلئے مضبوط قوم ضروری ہے۔ بنیان مرصوص ہمیں یہی شعور دیتا ہے کہ قوم کے مختلف طبقات جب ایک مقصد کیلئے متحد ہو جائیں تو ان کی اجتماعی قوت ناقابلِ شکست بن جاتی ہے۔ ہمیں اپنے شہدا کی قربانیوں کو صرف تقریبات اور نعروں تک محدود نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کے پیغام کو اپنے کردار کا حصہ بنانا چاہیے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان امن، اتحاد، تعلیم، معاشی استحکام اور قومی یکجہتی کو اپنی دفاعی قوت کا لازمی حصہ بنائے۔ ایک مستحکم معیشت، مضبوط ادارے، باشعور عوام اور پیشہ ور مسلح افواج مل کر ایک محفوظ پاکستان کی بنیاد رکھتے ہیں۔ یومِ دفاع کا حقیقی پیغام یہی ہے کہ وطن کی حفاظت صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ اتحاد، کردار، نظم و ضبط اور قومی ذمہ داری کے ہر محاذ پر کی جاتی ہے۔ 1965 کے شہدا کی قربانیاں ہوں یا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی قربانیاں، یہ سب ہمیں ایک ہی سبق دیتی ہیں: پاکستان کی سلامتی اور استحکام کیلئے پوری قوم کو ایک مضبوط، متحد اور منظم بنیان مرصوص بن کر کھڑا ہونا ہوگا۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں