آج بابا کرمو سے ملاقات ہوئی تو آپ سخت غصہ میں تھے۔ اس کی وجہ ایک لاہور ہائی کورٹ کے جج صاحب کا استعفیٰ دینے کی خبر تھی ۔اس سے پہلے بھی ریٹائرمنٹ سے قبل پانچ سال کاعرصہ ہوتے ہی الزام لگایا کہ ان حالات میں کام میرا کرنا مشکل ہے۔اسی سال دو سپریم کورٹ کے ججز بھی استعفیٰ دے چکے ہیں اب یہ پنشن اور مراحات لے کر گالف کھیل رہے ہیں اور لیکچر دے رہے ہیں کالم لکھ رہے ہیں ۔ کہا تم بھی اس اہم ایشیو پر لکھو۔میں نے کہا بابا جی یہ آئین پاکستان کے مطابق اتنے عرصہ کے بعد استعفیٰ دے سکتے ہیں اور اس کے بعد قانون انہیں پنشن اور مراحات دینے کی اجازت دیتا ہے۔ کہا 28 ویں ترمیم لا کر اس قانون میں تبدیلی لے آئیں۔ عام سرکاری ملازم مجبوری کے باوجود بھی پانچ سال کے بعد پنشن نہیں لے سکتا۔ وہ اپنی تنخواہ سے بھاری ٹیکس ادا کرتا ہے، بجلی، گیس اور پٹرول کے بڑھتے ہوئے بل برداشت کرتا ہے اور دوسری طرف ریاستی نظام انہیں بھاری تنخواہوں کے ساتھ، نوکر چاکر، گاڑی پٹرول، بجلی گیس، میڈیکل مراحات مفت دیتا ہے جبکہ ان حالات میں مراعات تو کم تنخواہیں والے ملازمین کو ملنی چاہیے۔یہ ایسے مالی معاملات ہیں جن پر سب خاموشی ہیں۔بابا کرموں نے کہا ان میں ایک اہم مسئلہ ججز کی پنشن، استعفیٰ اور ریٹائرمنٹ میں واضح فرق کرنا اور دوبارہ سرکاری ملازمت اور ڈبل پنشن کا بھی ہے۔ اگر کوئی جج مقررہ عمرِ ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنی مرضی سے اپنے منصب سے استعفیٰ دیتا ہے یا الزامات ثابت ہونے کے ڈر سے ریٹائرمنٹ سے قبل گھر چلا جاتا ہے اور وہ پنشن اور مراعات لیتا رہتا ہے تو ایسا کیوں ہے۔ کیا استعفیٰ اور باقاعدہ ریٹائرمنٹ کو مالی اعتبار سے ایک ہی سمجھا جانا چاہیے؟ بابا کرموں نے کہا میری نظر میں اس معاملے پر پارلیمنٹ کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ ججز کے استعفیٰ ٰاور ریٹائرمنٹ ایک سے نہیں ہیں۔ میں نے کہا آئین کا آرٹیکل 206 جج کے استعفیٰ سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 205 ججز کی تنخواہ، مراعات اور سروس کی شرائط سے متعلق ہے۔ یہ کوئی غیر قانونی نہیں ہو رہا ہے کہ یہ استعفیٰ نہیں دے سکتے پنشن مراعات نہیں لے سکتے۔مگر بابا جی آپ کی بات میں وزن ہے۔اصولی طور پر استعفیٰ اور ریٹائرمنٹ دو مختلف تصورات ہیں۔ریٹائرمنٹ عموماً مقررہ عمر یا قانونی مدت مکمل ہونے کے بعد ہوتی ہے جبکہ استعفیٰ کسی شخص کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے تو پھر یہ سوال کیوں نہ اٹھایا جائے کہ جو شخص اپنی مرضی سے مقررہ عمرِ، ریٹائرمنٹ سے پہلے منصب چھوڑتا ہے، اسے وہی مالی فوائد اور پنشن کیوں کرحاصل ہو۔ جو ایک ایسے سرکاری ملازم کو ملتے ہیں جس نے اپنی مقررہ مدت مکمل کی ہوتی ہے۔ بابا کرموں نے کہا یہ کسی فرد یا جج پر میرا اعتراض نہیں، بلکہ قانون اور پالیسی کا سوال ہے۔اگر پارلیمنٹ سمجھتی ہے کہ ریاستی خزانے سے پنشن ایک طویل مدت تک ادا کی جاتی ہے تو پھر اس کے لیے واضح شرائط بھی ہونی چاہئیں میں نے بتایا کہ پانچ سال کی سروس اور پنشن ہائیکورٹ کے ججز کے پنشنری فوائد کے حوالے سے آئینی اور قانونی دفعات موجود ہیں ۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ ہر جج لازما پانچ سال بعد استعفیٰ دے کر پنشن حاصل کرتا ہے لیکن اصل سوال اس سے بھی بڑا ہے کیا مقررہ عمرِ ریٹائرمنٹ سے پہلے رضاکارانہ استعفیٰ دینے والے جج کو محض چند سال کی سروس کی بنیاد پر ریٹائرمنٹ کے برابر تمام مالی فوائد اور پنشن ملے۔ کیا ایک غریب ملک کیلئے یہ مناسب پالیسی ہے؟ پارلیمنٹ اس سوال کا جواب قانون سازی کے ذریعے دے سکتی ہے۔ بابا کرموں نے کہا میری تجویز ہے کہ آئندہ کے لیے اصول بنایاجائے کہ مقررہ عمر سے پہلے رضاکارانہ استعفیٰ دینے والا جج صرف سروس کی ایک مخصوص مدت پوری کرنے کی بنیاد پر خودکار ریٹائرمنٹ پنشن کاحقدار نہ ہو سکے۔ جیسے کوئی خاتون عدالت میں اپنے شوہر سے نجات کیلئے خلع کا دعویٰ کرتی ہے تو اسے جج صاحب کہتے ہیں ۔اگر تم یہ طلاق اپنی مرضی سے لو گی تو تجھے یہ جہیز سب کچھ چھوڑنا ہو گا۔یہی فارمولا یہی قانون ان ججز پہ لاگو کریں کہ جو ججز سروس کے دوران اپنی مرضی سے استعفیٰ دے کر گھر جائیں ایسے ججز کو کوئی مراعات پنشن نہیں ملے گی۔ اس پر قانون سازی کی اشد ضرورت ہے۔ اگر استعفیٰ کسی مستقل معذوری شدید طبی مجبوری یا کسی دوسری قانونی طور پر تسلیم شدہ وجہ سے ہو تو مناسب استثنا ضرور دیں۔ ایسے ججز کو لکھ کر دینا ہوگا کہ اب وہ مزید شادیاں نہیں کرے گا اکثر ججز پنشن لینے کے بعد شادی کر لیتے پھر خود تو دنیا سے جلد رخصت ہو جاتے ہیں اور ان کی جواں بیوہ ساری عمر پنشن لیتی رہتی ہے۔کیا یہ قومی خزانے پر بوجھ نہیں۔ بابا کرموں نے کہا ریٹائرمنٹ کے بعد بعض دوبارہ سرکاری ملازمت لے کر دو تنخواہیں لیتے ہیں مسئلہ صرف ججز تک محدود نہیں۔اگر کوئی ریٹائرڈ سرکاری ملازم پنشن لے رہا ہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ کسی ایسے سرکاری عہدے پر فائز ہو جاتا ہے جہاں سے اسے قومی خزانے سے دوبارہ تنخواہ دی جاتی ہے تو کیا اسے ایک ہی وقت میں مکمل پنشن اور مکمل سرکاری تنخواہ دونوں ملنی چاہئیں؟ بعض سرکاری ملازمین ڈبل پنشن بھی لے رہے ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ یہاں بھی ایک جامع اور یکساں قومی پالیسی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اصول سادہ ہونا چاہیے کہ ایک ہی شخص کو ایک ہی مدت کے دوران قومی خزانے سے دوہرے مکمل مالی فوائد دینے کے بجائے پنشن اور نئی سرکاری تنخواہ کے درمیان مناسب قانونی ایڈجسٹمنٹ ہونی چاہیے اسلئے کہ اگر ایک ریٹائرڈ شخص دوبارہ سرکاری نوکری کرتا ہے تو اسے کام کرنے سے روکنا مقصد نہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ قومی خزانے پر غیر ضروری دوہرا مالی بوجھ نہ پڑے۔ ججز ہوں یا جنرل یا سرکاری ملازمین ، اصول سب کیلئے ایک ہونا چاہیے قانون کی خوبصورتی یہی ہے کہ اس کا اطلاق شخصیات دیکھ کر نہیں بلکہ اصول اور قومی خزانے کودیکھ کر ہو۔اگر پنشن کے معاملے میں عام سرکاری ملازم کیلئے ایک اصول ہے تو اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کیلئے بھی بنیادی مالی اصول واضح ہونے چاہئیں ریاستی اداروں کا احترام اپنی جگہ لیکن قومی خزانہ بھی ریاست ہی کا ہے۔قومی خزانہ دراصل عوام کا پیسہ ہے۔بابا کرموں نے کہا بعض سابق جج پھر سے وکالت کرنا شروع کرتے ہیں۔ پنشن اور مراعات بھی لیتے ہیں ۔میں نے کہا یہاں بھی جذبات کے بجائے آئین کو دیکھنا ہوگا۔آئین کاآرٹیکل 207 اعلیٰ عدلیہ کیسابق ججز کے حوالے سے بعض پابندیاں عائد کرتا ہے۔ اس لیے سابق جج کے دوبارہ وکالت کرنے کے معاملے کو بھی آئینی اور قانونی حدود کے اندر دیکھنا ضروری ہے ۔اصل مسئلہ کسی سابق جج کے وکیل بننے کا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ریاستی منصب، پنشن مراعات اور بعد کی سرکاری یا پیشہ ورانہ مصروفیات کے درمیان قانون نے جو توازن قائم کیا ہے، کیا وہ آج کے معاشی حالات میں مناسب ہے؟کچھ کام خود بھی کرنے اور سوچنے کے ہوتے ہیں۔ 28ویں ترمیم میں ان مسائل کو حل کریں جو ضروری ہیں اگر پارلیمنٹ آئین میں 28ویں۔مجوزہ ترمیم میں مقررہ عمرِ ریٹائرمنٹ سے پہلے رضاکارانہ استعفیٰ دینے والے جج کو محض سروس کی مدت کی بنیاد پر خودکار ریٹائرمنٹ پنشن نہ دی جائے۔ تمام ریاستی اور آئینی عہدوں پر یکساں اصول ہونے چاہئیں۔ بابا کرموں سمجھتا ہے اصلاح افراد کی نہیں، نظام کی ہونی چاہیے۔ اب وقت آگیا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم کے زریعے سیاسی مفادات سے زیادہ پنشن اصلاحات دوہرے مالی فوائد کا خاتمہ، استعفیٰ اور ریٹائرمنٹ میں واضح فرق اور قومی خزانے کے تحفظ کو ترجیح دے کر ائین میں ترمیم لائی جائے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں