اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوق تخلیق فرمایا ، اس کو خوبصورت شکل میں پیدا کیا اور انسان کو آکسیٹوسن ہارمون سے نوازا ۔ آکسٹیوسن ہارمون محبت کے ہارمون ہیں۔ آکٹیوسن ہارمون کے باعث انسان والدین، رشتے داروں ،احباب اور دوسرے انسانوں اور چیزوں سے محبت کرتا ہے۔آکسٹیوسن ہارمون سماجی رویوں میں مثبت اور خوش گوار اثرات مرتب کرتا ہے ، تناﺅ اور پریشانی کے لیول کو کم کرنے میں معاونت کرتا ہے۔انسان کو سب سے زیادہ اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہے۔اگر خدا نخواستہ کسی کی اولاد دوسرے جہاں کا رخت سفر باندھے تو والدین غم و الم کی وادی میں پہنچ جاتے ہیںاور اضطراب کا شکار ہوجاتے ہیں۔اللہ رب العزت ہی انسان کو صبر عطا کرتا ہے ورنہ وہ الم ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت سب والدین کو اولاد کے غم سے محفوظ و مامون رکھے۔ہمارے پڑوسی ملک بھارت مےں پپلانتری نامی اےک گاﺅں ہے۔ےہ گاﺅں جنوبی راجستھان کے ضلع راجسمند مےں واقع ہے ۔ گاﺅں پپلانتری کی آبادی تقرےباً سولہ ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔اس گاﺅں کے سر پنچ کا نام شےام سندر پالےوال ہے۔اس گاﺅں مےںکوئی لڑکی پےدا ہوتی ہے تو گاﺅں والے111پودے لگاتے ہےں۔وہ شےشم، نےم ، آملہ اور آم وغےرہ کے درخت لگاتے ہےں۔پپلانتری کے باشندے ےقےنی بناتے ہےں کہ ےہ پودے لڑکی کے بڑے ہونے تک تناور درخت بن جائےں اور پھل بھی دے۔ وہ لوگ دوسرا کام ےہ کرتے ہےںکہ گاﺅں والے اکےس ہزار روپے اکھٹے کرتے ہےں اور اس کے باپ سے دس ہزار روپے لےتے ہےں۔وہ 31 ہزار روپے لڑکی کے نام پر فکسڈ ڈےپازٹ مےں رکھوادےتے ہےں ۔ےہ رقم مذکورہ لڑکی 20سال بعد نکلوا سکتی ہے۔اُس گاﺅں والے تےسرا ےہ کام کرتے ہےں کہ اس لڑکی کے والدےن سے حلف نامہ لکھواتے ہےں کہ (1) وہ اپنی بےٹی کی شادی قانونی عمر پوری ہونے تک نہےں کرےں گے ۔(2)وہ اپنی بےٹی کو باقاعدگی سے سکول بھےجےں گے ۔ (3)اُس کے نام سے لگائے گئے درختوں کی دےکھ بھال کرےں گے۔ پپلانتری گاﺅں کے سر پنچ شےام سندر پالےوال کی اےک بےٹی تھی ۔اُس کانام کرن تھا۔ شےام کو اپنی بےٹی سے بہت پےار تھا۔اس کی بےٹی فوت ہوگئی۔ شےام سندر پالےوال اکثر اپنی بےٹی کو ےاد کرتا تھا اوراس کی ےاد مےں بے چین، غم زادہ اور بے حال رہتا تھا۔اےک دن اس نے سوچا کہ مےں کوئی اےسا کام کےوں نہ کروں جس سے دوسرے لوگوں کی بےٹیوں کا بھی فائدہ ہو۔شےام سندر پالےوال نے اپنی بےٹی کرن کی ےاد مےں اےک سو گےارہ درخت لگائے ۔ اس دن سے گاﺅں مےں جو بھی لڑکی پےدا ہوتی ہے تو اس کے نام پر اےک سو گےارہ درخت لگائے جاتے ہےں اور 31ہزار روپے بھی لڑکی کے نام پر فکسڈ ڈےپازٹ مےں رکھوادےتے ہےں ۔ پپلانتری گاﺅں مےں ہر سال اوسطاً 60 لڑکےاں پےدا ہوتی ہےں ۔ پپلانتری کے لوگوں نے اب تک لاکھوں پودے لگائے ہےں۔ پپلانتری مےں کوئی فوت ہوجائے تو اس کے نام پر 11 درخت لگائے جاتے ہےں ۔ اس گاﺅں کے افراد نے اُن درختوں کو دےمک سے بچانے کےلئے 25لاکھ تھوہر کے پودے لگائے ہےں۔ےہ درخت اور تھوہر وغےرہ کے پودے گاﺅں کے کئی افراد کےلئے روز گار کا ذرےعہ ہےں ۔ اس گاﺅں مےں شراب نوشی اور درخت کاٹنے وغےرہ جےسے جرائم پر پابندی ہے۔ کہتے ہےں کہ پپلانتری مےں گزشتہ د س برسوں مےں کوئی پولےس کےس نہےں ہوا ۔ جب ان کی کوئی بھی لڑکی بڑی ہوتی ہے تو وہ کم از کم اےک سو گےارہ درختوں اور کافی ساری رقوم کی مالکہ ہوتی ہے۔ اِس سے اُس کو معاشی پرےشانی نہےں ہوتی۔ وہ تعلےم ےافتہ بھی ہوتی ہے۔ بلاشبہ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ لڑکی ان پڑھ عورت سے بہت بہتر ہوتی ہے۔ پپلانتری گاﺅں کی لڑکیاںمعاشی لحاظ سے بھی مستحکم ہوتی ہیں ۔ اُن کی زندگی خوشحال ہوتی ہے اوران کو کوئی فکر نہےں ہوتی۔ پیلا نتری کے گاﺅں والوں کے اس طریقہ کار اور رواج سے دھےرے دھےرے بھارت مےں دےگر لڑکےوں کی زےست بھی محفوظ ہوجائے گی کےونکہ بھارت مےں بچی پےدا ہونے سے پہلے ہی قتل کردی جاتی ہے ۔ واضح ہو کہ بھارت مےں سالانہ ہزاروں بچےاں پےدائش سے قبل ہی قتل کردی جاتی ہےں۔ قارئےن کرام! گاﺅں پپلانتری کے باسیوںکے اس طور ،طریقے اور رواج سے دوسرے وسیب کے لوگ مےں بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ہم بسنت منانے مےں دوسروں کی نقل کرسکتے ہےں تو درخت لگانے مےں نقل کےوں نہےں کرتے ہےں۔ بسنت منانے سے قےمتی جانوں اور سرمائے کا نقصان ہوتا ہے جبکہ درخت لگانے سے تو فائدہ ہی فائدہ ہے ۔ لاہور، دہلی اوراس خطے کے دیگر شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں نمایاں ہیں۔آلودگی سے انسان و حیوان، چرندو پرندمفلوج ہوجاتے ہیں۔ وطن عزےز پاکستان کی اکثرےت آبادی مسلمان ہے ۔ درخت لگانا سنت نبویﷺ ہے۔اس سنت کوعام کرنے کےلئے سعی کےوں نہےں کرتے ہےں؟ درخت لگانے سے ماحول خوشگوار ہوجاتا ہے ۔ درختوں سے جلانے اور فرنےچر بنانے کےلئے لکڑی حاصل ہوتی ہے۔درختوں سے پھل اور پھول حاصل ہوتے ہےں۔پھلوں اور پھولوں کو برآمد کرنے سے زرمبادلہ کماےا جاسکتا ہے۔ گھرےلو سطح پر سبزےاں کاشت کرنی چاہےے۔ گملوں اور دےگر فالتوڈبوں مےں سبزی اور پودے لگائے جاسکتے ہےں۔ اس سے مہنگائی کے کرب کو کم کےا جاسکتا ہے ۔ اس سے آپ کے گھر مےں وافر مقدار مےں آکسےجن ہوگی۔آپ کا گھر خوبصورت اور پرکشش ہوگا ۔ آپ کی چھوٹی سی کوشش سے آپ کے گھر ، محلہ، گاﺅں، شہر اور ملک مےں خوشگوار تبدےلی آسکتی ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں