بانی سردار خان نیازی

🌤 Columbus °C
Sunday, 19 July 2026 | پاکستان: 5 صفر 1448

شہداء کی قربانیاں سیاست کا موضوع نہیں

Sunday, 19 July, 2026

(گزشتہ سے پیوستہ)
دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے، معاشی مشکلات عوام کو پریشان کر رہی ہیں، سیاسی تقسیم گہری ہو چکی ہے اور خطے میں بھی حالات مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں۔ ایسے وقت میں سیاسی قیادت کو اپنے الفاظ اور رویوں میں مزید ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ قوم کو تقسیم کرنے والی گفتگو کے بجائے اتحاد، برداشت اور قومی مفاد کو ترجیح دینا وقت کی ضرورت ہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ شہدا کے خاندان صرف سرکاری تقریبات میں پھولوں کے ہار اور تعریفی کلمات کے مستحق نہیں بلکہ انہیں عملی طور پر بھی ریاستی حمایت حاصل ہونی چاہیے۔ شہید کے بچوں کی تعلیم، خاندان کی کفالت، علاج اور دیگر ضروریات ریاست کی ذمہ داری ہیں۔ اگر ہم واقعی شہدا کی قربانیوں کا احترام کرتے ہیں تو ہمیں ان کے خاندانوں کو عزت، تحفظ اور سہولت فراہم کرنی ہوگی۔ شہدا کے بارے میں تقریریں کرنا آسان ہے، لیکن ان کے خاندانوں کے مسائل حل کرنا اصل قومی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کی فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کے جوان سخت حالات میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ وہ اپنے خاندانوں سے دور رہتے ہیں، خطرناک علاقوں میں فرائض انجام دیتے ہیں اور ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں۔ ان کے فرائض اور قربانیوں پر بحث ہو سکتی ہے، لیکن ان کی شہادت کو کسی معمولی مالی معاملے کے ساتھ جوڑنا یقینا حساس اور نامناسب طرزِ گفتگو ہے۔ ایسے معاملات میں ایک سینئر سیاست دان کو خاص طور پر محتاط رہنا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمن اگر اپنے بیان کی وضاحت کرنا چاہیں تو یہ ان کا حق ہے، لیکن قومی سطح پر یہ توقع ضرور کی جا سکتی ہے کہ اگر ان کے الفاظ سے شہدا کے خاندانوں یا عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہ وضاحت کے ساتھ اپنی پوزیشن واضح کریں۔ ایک بڑے رہنما کی عظمت اس بات میں نہیں کہ وہ کبھی اپنی بات پر نظرثانی نہ کرے، بلکہ اصل عظمت یہ ہے کہ وہ غلط فہمی پیدا ہونے کی صورت میں حقیقت کو واضح کرے اور قوم کو مزید تقسیم ہونے سے بچائے۔ ہمیں یہ بھی فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس قسم کی سیاست چاہتے ہیں۔ ایسی سیاست جس میں ہر قومی معاملہ سیاسی جنگ کا میدان بن جائے، یا ایسی سیاست جس میں اختلاف کے باوجود قومی اقدار کا احترام برقرار رہے؟ ایسی سیاست جس میں شہدا کی قربانیاں بھی سیاسی نعروں کا حصہ بن جائیں، یا ایسی سیاست جس میں شہدا کو پوری قوم کا مشترکہ سرمایہ سمجھا جائے؟ اگر ہم نے ہر چیز کو سیاسی عینک سے دیکھنا شروع کر دیا تو پھر قومی یکجہتی کے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت، مذہبی رہنما، صحافی اور عوام سب اپنے الفاظ کی ذمہ داری کو سمجھیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ایک جملہ چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ غلط یا غیر محتاط بیان نہ صرف سیاسی کشیدگی بڑھا سکتا ہے بلکہ معاشرے میں نفرت اور تقسیم کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ قومی معاملات میں گفتگو کرتے ہوئے جذبات کے بجائے ذمہ داری، دلیل اور حقیقت کو ترجیح دینا ہوگی۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لیے قربانیاں دینے والے شہدا پوری قوم کا فخر ہیں۔ ان کی قربانیوں کو کسی تنخواہ، مراعات یا مالی فائدے کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ سیاسی اختلاف ہر شخص کا حق ہے، حکومت پر تنقید جمہوریت کی ضرورت ہے اور قومی اداروں کے احتساب کی بحث بھی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن شہدا کی قربانیوں کا احترام ہر اختلاف سے بالاتر ہونا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمن جیسے تجربہ کار سیاست دان اور مذہبی رہنما سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ قومی حساسیت کو سمجھیں گے اور آئندہ ایسے الفاظ کے انتخاب میں مزید احتیاط کریں گے جو شہدا کے خاندانوں یا عوام کے جذبات کو مجروح کر سکتے ہیں۔ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اپنے شہدا کی قربانیوں کے احترام، قومی اتحاد اور اجتماعی شعور سے مضبوط ہوتی ہیں۔ پاکستان نے اپنی تاریخ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں، اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان قربانیوں کو سیاسی بحث کا ایندھن بنانے کے بجائے قومی اتحاد، امن اور استحکام کی بنیاد بنائیں۔ یہی شہدا کے ساتھ حقیقی وفاداری ہے، یہی وطن سے محبت ہے اور یہی ایک ذمہ دار قوم کا کردار ہونا چاہیے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *