بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Sunday, 19 July 2026 | پاکستان: 5 صفر 1448

بھارت میں مساجد و مدارس مسمار

Sunday, 19 July, 2026

بھارت میں برسرِاقتدار بی جے پی کی ہندوتوا قیادت مسلمانوں کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو مٹانے پر تل گئی، بھارتی ریاست اترپردیش کے تاریخی شہر وارانسی میں واقع ایک ہزار سال قدیم “گنجِ شہیداں” مسجد کو مسمار کرنے کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ معروف بھارتی جریدے ‘مسلم مرر’ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مودی سرکار مسلمانوں کے مذہبی اور ثقافتی وجود کو ختم کرنے کے ایجنڈے پر تیزی سے عمل پیرا ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مودی حکومت نے گزشتہ 45 دنوں کے دوران 23 سے زائد مساجد، مدارس، عیدگاہیں اور درگاہیں منہدم کیں ، اب ہندوتوا سرکار کی جانب سے ہزارسال پرانی تاریخی مسجد سے لے کردوسو سال پرانی درگاہوں تک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔صرف مئی سے اب تک 20 سے زائد مسلم مذہبی مقامات کو مسمار کیا جا چکا ہے، جبکہ اترپردیش کے ہی شہر سنبھل میں ایک چھ سو سال سال پرانی درگاہ کو عدالت سے ریلیف نہ ملنے کے بعد زمین بوس کر دیا گیا۔پاکستان نے وارانسی میں ہزار سال پرانی گنجِ شہیداں مسجد کو مسمار کرنے کے نوٹس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔بھارت مسلمانوں کی تاریخ اور شناخت مٹانے کی پالیسی پر گامزن ہے، مودی سرکار ایسی کارروائیاں فوری طور پر بند کرے اور اقلیتوں کے حقوق سمیت مشترکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کو یقینی بنائے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم “جسٹس فار آل” نے بھی بھارت میں مسلم مذہبی اور تاریخی مقامات کی منظم مسماری اور انہیں لاحق شدید خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔حکومتی رہنماؤں نے کہا کہ مساجد کی یہ عمارتیں مبینہ طور پر اجازت کے بغیر غیر قانونی طریقے سے تعمیر کی گئی تھیں ۔ بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ تمام کارروائیاں قانونی اور انتظامی ضابطوں کے مطابق کی جا رہی ہیں۔یاد رہے کہ مودی کے بھارت میں اس سے قبل بھی درجنوں مذہبی ڈھانچے گرائے جا چکے ہیں۔بھارت میں مودی حکومت کے دور میں مسلم دشمن پالیسیوں اور اقدامات میں تیزی آ گئی ہے جس سے مسلمانوں کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اتر پردیش کی ریاستی حکومت اور اس کے زیر اثر پولیس آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے کے تحت مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر رہی ہے۔ متھورا شہر کو ستمبر دوہزاراکیس میں مقدس قرار دیے جانے کے بعد سے مسلم اکثریتی علاقوں میں گوشت کی دکانیں اور ہوٹل بند کر دیے گئے ہیں جس سے مقامی مسلمانوں کا روزگار شدید متاثر ہوا ہے۔پولیس کو گائے کے تحفظ کے قوانین کے تحت وسیع اختیارات حاصل ہیں جنہیں مسلمانوں کیخلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کیخلاف جھوٹے مقدمات کا اندراج، بلاجواز گرفتاریاں اور سماجی امتیاز ایک معمول بن چکا ہے۔ مسلمانوں میں خوف کی فضا اس قدر پھیل چکی ہے کہ وہ گوشت کھانے یا خریدنے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔متھورامیں مسلم مخالف نفرت انگیز بیانات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہندو انتہا پسند رہنما مسلمانوں کو دیمک کہہ کر پکارتے ہیں جبکہ نوجوان مسلمان ہندو شدت پسندوں کے حملوں سے بچنے کیلئے ہندو مذہبی رنگوں والے زعفرانی کپڑے پہننے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کے قبرستانوں کے قریب کچرے کے ڈھیر لگائے جا رہے ہیں اور مساجد کے قریب بیت الخلاء تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں مساجد پر قبضوں، اذان پر پابندی اور گھروں کی مسماری کی کارروائیاں بھی تیز ہو گئی ہیں جو آر ایس ایس کے ہندوتوا ایجنڈے کا حصہ قرار دی جا رہی ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں بڑھتی ہوئی مسلم دشمنی مودی حکومت کے نظریاتی بیانیے اور ہندو قوم پرستی کے عروج کا نتیجہ ہے جس نے ملک کے سیکولر تشخص کی دھجیاں اڑادی ہیں۔مساجد کیخلاف کارروائیاں دلی، اتر پردیش، مہاراشٹر، گجرات ، راجستھان اور ہریانہ سمیت مختلف ریاستوں میں تجاوزات کے خاتمے اور سڑکوں کی توسیع کے نام پر کی گئیں۔انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور گرانے سے قبل متاثرہ فریقوں کو مناسب نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا۔بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ تمام کارروائیاں قانونی اور انتظامی ضابطوں کے مطابق کی جا رہی ہیں۔امریکی تنظیم “جسٹس فار آل” نے بھی حالیہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی آزادی اور قانون کے مساوی اطلاق کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *