دکھی ہوں، مایوس نہیں۔ تھکا ہوں، ناکام نہیں ہوا۔ یہ فقرہ صرف میرا نہیں، ہر اس پاکستانی کا ہے جو اس ملک سے سچی محبت کرتا ہے۔ جو ہر 14 اگست کو جھنڈا لہراتا ہے، لیکن شام کو جب یہی جھنڈیاں گٹروں میں رلتی دیکھتا ہے تو اس کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔میری قوم عظیم ہے، میرا ملک عظیم ہے۔ اس کی مٹی میں وفا کی خوشبو اور لوگوں کے سینوں میں حب الوطنی کا جذبہ ہے، لیکن اس عظیم قوم کے ساتھ تاریخ کا سب سے بڑا دھوکا بھی ہوا ہے۔ اسے شعور کے نام پر گمراہ کیا گیا، محبت کے نام پر غلام بنایا گیا اور غیرت کے نام پر قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ جب وہ لہولہان ہو کر پوچھتی ہے کہ میرے حصے میں کیا آیا، تو جواب ملتا ہے: “سسٹم کولیپس کر گیا ہے۔”لیڈر دن رات قوم کیلئے کام کرنے کے دعوے کرتے رہے، تصویریں بنتی رہیں، اشتہار چلتے رہے اور تقریریں ہوتی رہیں، لیکن قوم کے پاس آج بھی عزت، امن، روزگار، معیاری تعلیم، صحت، انصاف اور سب سے بڑھ کر اپنی بات کہنے کی مکمل آزادی نہیں۔ہمیں بتایا گیا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ ہم نے مان لیا، لیکن اس جمہوریت نے عام آدمی کو کیا دیا؟ چہرے بدلتے ہیں، کرسیاں بدلتی ہیں، نعرے بدلتے ہیں، مگر غریب کی قسمت نہیں بدلتی۔نظریے کے نام پر کارکن کو استعمال کیا گیا۔ اسے بتایا گیا کہ تم فلاں جماعت کے جیالے، متوالے یا انصافی ہو۔ وہ ساری عمر جھنڈا اٹھاتا، ڈنڈے کھاتا اور جیلیں کاٹتا رہا، جبکہ قیادت کے بچے بیرونِ ملک مہنگے اداروں میں پڑھ کر آئے اور اسی نظریاتی کارکن کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار تک پہنچ گئے۔ کیا یہی شعور ہے؟77 برس بعد بھی ایک عام پاکستانی بنیادی ضروریات کیلئے پریشان ہے۔ مزدور دن رات محنت کرتا ہے، مگر مہنگائی اور بجلی کے بل اس کی کمر توڑ دیتے ہیں۔ دوسری طرف وہی نظام مراعات یافتہ طبقے کیلئے سہولتیں پیدا کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس صورتِ حال کو شعور کہیں یا اجتماعی ناانصافی ؟ اس قوم نے قربانیاں دینے میں کبھی کمی نہیں کی۔ جب جان مانگی گئی تو جوان قربان کیے، ٹیکس مانگا گیا تو اپنی محدود آمدنی سے ادا کیا، اور ترقی کے نام پر ہر مشکل برداشت کی۔ مگر بدلے میں اسے بنیادی سہولتیں بھی پوری طرح میسر نہ آئیں۔ایک طرف کروڑوں کی گاڑیاں اور شاندار عمارتیں ہیں، دوسری طرف سرکاری اسکولوں میں بچے بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ہسپتالوں میں غریب مریض دوائی اور علاج کیلئے پریشان ہے، جبکہ بااثر طبقہ بہترین علاج کیلئے بیرونِ ملک جاتا ہے۔ کیا یہ ایک ہی ملک کے دو مختلف چہرے نہیں؟سب سے بڑا المیہ نوجوان کا ہے۔ ایک طالب علم برسوں محنت کرکے ڈگریاں حاصل کرتا ہے، مگر روزگار کے لیے دربدر ہوتا ہے۔ سفارش، رشوت اور اقربا پروری کے سامنے اس کی قابلیت بے معنی ہو جاتی ہے۔ جب وہ مایوس ہو کر اپنی ڈگریوں کو بوجھ سمجھنے لگتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ نوجوان مایوس ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسے مایوس کس نے کیا؟شخصیت پرستی بھی ہماری قومی کمزوری بن چکی ہے۔ لیڈر کی ذات پر تنقید ہو تو کارکن مرنے مارنے پر تیار ہو جاتا ہے، سوشل میڈیا پر گالم گلوچ ہوتی ہے، لیکن جب اسی کارکن کے گھر کا چولہا بجھتا ہے، بچے کی فیس نہیں ہوتی یا علاج کی سہولت نہیں ملتی تو یہی سیاست خاموش ہو جاتی ہے۔ اسمبلیاں عوام کے مسائل کے بجائے اکثر سیاسی مفادات کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہیں۔جب قوم سوال کرتی ہے تو کہا جاتا ہے: ریاست مشکل میں ہے، قربانی دینی ہوگی، سسٹم کولیپس کر گیا ہے۔ نہیں، سسٹم صرف کمزور نہیں ہوا، اسے مفادات کیلئے یرغمال بھی بنایا گیا ہے۔ اگر تھانے میں غریب کی شنوائی ہونے لگے، عدالت میں انصاف ملنے لگے اور اسکول میں حقیقی تعلیم شروع ہو جائے تو ان لوگوں کی دکان بند ہو جائے گی جنہوں نے اس خرابی سے فائدہ اٹھایا ہے۔سنو!حقیقی آزادی ابھی باقی ہے۔قائداعظم نے ایسا پاکستان نہیں مانگا تھا جہاں رشوت، اقربا پروری اور ناانصافی عام ہو۔ علامہ اقبال کے خواب کا پاکستان بھوک، خوف اور غلامی سے آزاد پاکستان تھا۔یومِ آزادی صرف 14 اگست کو جھنڈیاں لگانے کا نام نہیں۔ حقیقی آزادی تب ہوگی جب راولپنڈی کا مزدور بھی اتنی ہی عزت پائے جتنی اسلام آباد کے ایک بااثر افسر کو ملتی ہے؛ جب غریب کی بیٹی کو بھی معیاری تعلیم ملے؛ اور جب صحافی اور شہری سچ بولنے پر غدار، ایجنٹ یا لفافہ کہلانے کے خوف سے آزاد ہوں۔میں دکھی ہوں، کیونکہ میں اس دھوکے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ میں تھک چکا ہوں، کیونکہ اس قوم کو جگاتے جگاتے عمر گزر گئی۔ لیکن میں مایوس نہیں ہوں۔میں نے اس قوم کو جنگ کے وقت قربانیاں دیتے دیکھا ہے، زلزلوں اور سیلابوں میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے دیکھا ہے۔ یہ قوم مر نہیں سکتی؛ یہ صرف سوئی ہوئی ہے۔مجھے یقین ہے کہ ایک صبح ضرور آئے گی جب مزدور، کسان اور طالب علم سوال کریں گے: میری محنت کا پھل کہاں ہے؟ میری قربانی کا صلہ کہاں ہے؟اور جس دن اس قوم نے ہاتھ میں صرف جھنڈے کے بجائے سوال اٹھا لیا، خدا کی قسم، اس دن اس ملک میں حقیقی یومِ آزادی منایا جائے گا۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں