کسی ملک کی ترقی کا اندازہ صرف بلند عمارتوں، موٹرویز، زرِمبادلہ کے ذخائر یا اسٹاک مارکیٹ کے اعداد سے نہیں ہوتا؛ بلکہ اس ملک کے شہریوں سے ہوتا ہے کہ وہ کتنے محفوظ، بااختیار اور معاشی طور پر متحرک ہیں۔ پاکستان کی 2023 مردم شماری کے مطابق خواتین آبادی کا 48.5 فیصد اور مرد 51.5 فیصد ہیں۔ یعنی لفظی معنوں میں پچاس فیصد نہیں، مگر حقیقتا یہ ملک کی تقریبا نصف آبادی ہے۔ تو پھر سوال بہت سادہ ہے کہ کیا نصف پاکستان کو معاشی، سماجی اور سیاسی دوڑ میں پیچھے رکھ کر باقی نصف پاکستان ترقی کر سکتا ہے؟ عورت کا ذکر ماں، بیٹی، بہن یا بیوی کے روایتی حوالوں سے کرنا کافی نہیں۔وہ ایک مکمل شہری اور معاشی کردار ہے، ایک فیصلہ ساز ، ہنرمند ،استاد، ڈاکٹر، انجینئر، پائلٹ، فوجی افسر، کاروباری شخصیت اور سیاسی رہنما اور اس سے بھی پہلے گھر کی خاموش معیشت دان، جہاں محدود آمدنی میں لامحدود ضرورتوں کو ترتیب دینا روز کا معمول ہے ۔ بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے۔ ماں صرف بچے کی پرورش نہیں کرتی، وہ آنے والی نسل کا مزاج بناتی ہے۔ اس لیے عورت کو تعلیم، صحت، معاشی خودمختاری اور تحفظ دینا دراصل آنیوالی نسلوں میں سرمایہ کاری ہے ۔ اسلام نے عورت کو صرف گھر کی زینت نہیں بنایا، اسے ملکیت، وراثت، نکاح میں رضامندی، عزت اور معاشی تصرف کے حقوق دئیے۔ لہٰذا عورت کی معاشی اور سماجی شرکت کو غیر اسلامی تصور کرنا تاریخِ اسلام اور اسلامی اصولوں، دونوں سے ناواقفیت ہے ۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اس حقیقت کو بہت پہلے ایک جملے میں سمیٹ دیا تھا:کوئی بھی قوم عظمت کی بلندیوں تک نہیں پہنچ سکتی جب تک اس کی خواتین آپ کے شانہ بشانہ نہ ہوں۔یہ صرف خوب صورت قول نہیں؛ پاکستان کی ترقی کا معاشی فارمولا ہے۔دنیا نے اس فارمولے کو آزمایا بھی ہے۔ پاکستان سمیت متعدد مسلم اور غیر مسلم ممالک میں خواتین نے وزارتِ عظمیٰ، صدارت، عدلیہ، فوج، سفارت کاری، صنعت اور سائنس کے میدانوں میں اپنی صلاحیت ثابت کی۔ پاکستان نے بے نظیر بھٹو کی صورت میں مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم دیکھی، خواتین نے جنگی طیارے اڑائے، اعلیٰ عدلیہ تک پہنچیں، کاروبار کھڑے کیے اور عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کیا لیکن تصویر کا دوسرا رخ اب بھی تشویشناک ہے۔ گھریلو تشدد، غیرت کے نام پر قتل، تیزاب گردی، ہراسانی، انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت، کم عمری کی شادی، جائیداد سے محرومی، کام کی جگہ پر امتیاز، ہراسانی اور نفسیاتی تشدد ایسے زخم ہیں جو قانون بننے کے باوجود پوری طرح مندمل نہیں ہوئے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 25 شہریوں کو قانون کے سامنے برابری اور جنس کی بنیاد پر امتیاز سے تحفظ دیتا ہے جبکہ ریاست کو خواتین اور بچوں کے تحفظ کیلئے خصوصی اقدامات کی اجازت بھی دیتا ہے۔ آرٹیکل 34 خواتین کی قومی زندگی کے تمام شعبوں میں مکمل شرکت کیلئے اقدامات کی بات کرتا ہے اور آرٹیکل 35 خاندان، ماں اور بچے کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ قانون کتاب میں ہو اور تھانے، عدالت، دفتر، سڑک اور گھر میں اس کی روح غائب ہو تو حق، حق نہیں رہتاصرف عبارت بن جاتا ہے۔پاکستان میں کچھ پیش رفت بہرحال ہوئی ہے۔بجٹ سازی میں خواتین اور مردوں کی مختلف ضروریات اور حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے وسائل مختص کیے جائیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے لاکھوں غریب خواتین کو براہِ راست مالی معاونت دی جا رہی ہے۔ جون 2026 کی سرکاری بریفنگ کے مطابق بینظیر کفالت کے تحت تقریباً 12 ملین گھرانوں کو سہ ماہی 14,500 روپے دیے جا رہے ہیں، جبکہ بینظیر تعلیمی وظائف اور نشوونما جیسے پروگرام بھی خواتین اور بچوں کو ہدف بنا رہے ہیں۔معاشی خودمختاری کے میدان میں بھی نئی سمت دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان نے 2025 میں ویمن انٹرپرینیورز فنانس کوڈ اختیار کیا، جس کا مقصد خواتین کی ملکیت یا قیادت والے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کیلئے مالی رسائی بڑھانا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے بینکنگ ان ایکویلٹی کے ساتھ اس پروگرام کو آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے ۔ ڈیجیٹل دنیا میں بھی خواتین کیلئے مواقع بڑھانے کی کوشش جاری ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن فار وومن اکنامک امپاورمنٹ منصوبہ 2024-28 کے دوران خواتین کی ڈیجیٹل اور معاشی شمولیت کیلئے کام کر رہا ہے۔ ہمیں عورت کو تحفظ دینے کیلئے صرف کیلئے صرف5 تقریریں نہیں محفوظ پبلک ٹرانسپورٹ، روشن سڑکیں، مثر شکایتی نظام، تیز رفتار عدالتیں، پولیس میں صنفی حساسیت، کام کی جگہ پر محفوظ ماحول، مساوی اجرت، وراثتی حقوق کا عملی نفاذ، لڑکیوں کی تعلیم اور ڈیجیٹل تحفظ کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ گھر میں بھی بیٹی کو صرف محفوظ رکھنے کے بجائے اسے بااختیار بنانا ہوگا اور شاید سب سے بڑی رکاوٹ قانون نہیں، ذہن ہے۔جس معاشرے میں عورت کے کام کو مدد اور مرد کے کام کو کمائی کہا جائے، وہاں معاشی اعداد بھی ادھورے رہیں گے۔ گھر میں بلا معاوضہ نگہداشت اور گھریلو کام کا بوجھ بھی معیشت کا حصہ ہے؛ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستانی خواتین اور لڑکیاں روزانہ اپنے وقت کا کہیں زیادہ حصہ بلا معاوضہ گھریلو و نگہداشت کے کام پر صرف کرتی ہیں۔ اس لیے عورت کو صرف شمعِ محفل کہنا بھی کم ہے اور صرف معاشرے کی زینت کہنا بھی۔ وہ محفل کی روشنی بھی ہے اور معاشرے کی معمار بھی۔ علامہ اقبال کا شعر یاد آتا ہے:
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
اب وقت ہے کہ ہم اس شعر کو صرف مشاعروں میں نہ پڑھیں، پالیسی میں بھی پڑھیں ۔ پاکستان کو عورت کو اجازت دینے کی نہیں، اس کا حق تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے راستہ دینے کی نہیں، راستے سے رکاوٹیں ہٹانے کی ضرورت ہے۔ اسے محفوظ رکھنے کے نام پر محدود کرنے کی نہیں، ایسا معاشرہ بنانے کی ضرورت ہے جہاں تحفظ اور آزادی ایک دوسرے کے مخالف نہ ہوں۔ پاکستان کی تقریبا نصف آبادی عورت ہے، وہ عورت کو ساتھ لیے بغیر ترقی کا دعوی آخر کب تک کرتا رہے گا؟ترقی کی اگلی منزل شاید کسی نئی موٹروے، شہر یا نئی عمارت میں نہیں؛ شاید وہ ایک ایسی لڑکی کے ہاتھ میں ہے جسے ہم نے آج پہلی بار کہا ہو: تم پیچھے نہیں، ہمارے ساتھ چلنے کیلئے پیدا ہوئی ہو۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں