کبھی کبھی ایک تصویر ہزار تقریروں پر بھاری پڑ جاتی ہے۔ ایک منظر آنکھ کے سامنے ٹھہر جاتا ہے اور آدمی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، کس زمانے میں زندہ ہیں اور آخر جانا کہاں چاہتے ہیں۔ گوجرخان تھانے کے ویٹنگ روم سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو نے بھی میرے ذہن میں یہی سوال پیدا کیا۔ ویڈیو میں ایک مسلح پولیس کانسٹیبل ایک شہری کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی اور تشدد کرتا دکھائی دیتا ہے اور ایک مقام پر اسکے منہ پر چپل مارتا نظر آتا ہے۔ اگر ویڈیو کا یہ منظر درست ہے تو یہ صرف ایک شہری کی توہین نہیں، بلکہ اس تصور کی توہین ہے جس کے تحت پولیس کو معاشرے کا محافظ سمجھا جاتا ہے۔میں کسی فرد کو عدالت کے فیصلے سے پہلے مجرم قرار دینے کے حق میں نہیں۔ تحقیقات ہونی چاہئیں، متعلقہ اہلکار کو صفائی کا موقع ملنا چاہیے۔ مگر ایک سوال بہرحال اپنی جگہ قائم رہتا ہے: کیا کسی بھی شہری کیساتھ پولیس اسٹیشن میں ایسا سلوک قابل قبول ہو سکتا ہے؟ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ پولیس کی وردی اختیار کی علامت ہے یا انتقام کا اجازت نامہ؟گزشتہ ہفتے ہزارہ میں بھی ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے علاقے کے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کیا۔ ایک چودہ سالہ لڑکے کی موت کے بارے میں یہ موقف سامنے آیا کہ اس نے خودکشی کی، جبکہ اہل خانہ اور مقامی لوگوں کی جانب سے سوالات بھی اٹھائے گئے۔ پوسٹ مارٹم اور شفاف تحقیقات کے حوالے سے بھی باتیں سامنے آئیں۔ میں اس معاملے کی تمام تفصیلات کا فیصلہ صادر کرنے کی پوزیشن میں نہیں، مگر ایک بچے کی موت کے بارے میں سوال اٹھیں تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر سوال کا جواب شفاف تحقیقات کے ذریعے دے۔کیا ہم سمجھتے ہیں کہ پوری پولیس میں کوئی ایک بندہ بھی ایسا نہیں ہے نہیں سر بے شمار بندے ایسے ہیں لیکن وہ کھڈے لائن لگا دیے گئے میں کیسے پولیس افیسر کو جانتا ہوں جو اخلاق سے اور پیار سے لوگوں کو سمجھاتا تھا اس کی ٹیم لاجواب تھی میں اس کا نام لیکر اس کیلئے مشکلات نہیں پیدا کرنا چاہتا اور مجھے پورا یقین ہے کہ انشااللہ وقت ائے گا پنجاب پولیس سدھر جائے گی بس حالات کے بدلنے کی دیر ہے۔اسی معاملے پر اسلام آباد میں لوگ اکٹھے ہوئے تو میں نے بھی وہاں گفتگو کی۔ شاید میری کچھ باتیں تلخ تھیں، لیکن سچی بات یہی ہے کہ بعض اوقات معاشرے کو آئینہ دکھانے کیلئے الفاظ میں تلخی آ ہی جاتی ہے۔اور پھر گوجرخان کی یہ تصویر سامنے آگئی۔میں تصویر کو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں جناب! ہم اکیسویں صدی میں داخل ہو چکے ہیں یا ابھی تک چپل اور تشدد کے زمانے میں کھڑے ہیں؟ہم دنیا کو جدید ریاست ، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق، پولیس ریفارمز اور شہری آزادیوں کے لیکچر دیتے ہیں، مگر اگر ہماری پولیس کے کسی تھانے میں ایک بے بس شہری کیساتھ چپل استعمال ہوتی نظر آئے تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ ہماری ترقی کہاں ہے؟ شاعر انور مسعود نے اپنے طنزیہ انداز میں معاشرے کی شکستہ حالت کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا تھا:
باندھی ہوئی ہے کس کے ٹانگے پہ چارپائی
اور ساتھ میں ہے ایک مضمحل رضائی
21ویں صدی میں ہم جا رہے ہیں بھائی انور مسعودیہ شعر اپنی جگہ ایک طنزیہ تصویر ہے، مگر آج میں سوچتا ہوں کہ اگر ہم اکیسویں صدی میں بھی پھٹی ہوئی رضائی، چپل، گالی اور تشدد کو اپنے نظام کا حصہ بنائے رکھیں گے تو پھر ترقی کے دعوے کس کام کے؟ہم نے موبائل فون بدل لیے، گاڑیاں بدل لیں، عمارتیں بدل لیں، مگر کیا ہم نے اپنے اداروں کا رویہ بدلا؟اصل مسئلہ صرف ایک پولیس اہلکار نہیں۔ اصل مسئلہ تربیت ہے۔ایک پولیس اہلکار کو صرف یہ سکھانا کافی نہیں کہ بندوق کیسے پکڑنی ہے، ناکہ کیسے لگانا ہے یا ملزم کو کیسے گرفتار کرنا ہے۔ اسے یہ بھی سکھانا ہوگا کہ ایک خوف زدہ شہری سے کیسے بات کرنی ہے، ایک عورت کی شکایت کیسے سننی ہے، ایک بچے کے سوال کا جواب کیسے دینا ہے، ایک غریب آدمی کی عزت کیسے محفوظ رکھنی ہے اور ایک ملزم کیساتھ بھی قانون کے دائرے میں رہ کر کیسے پیش آنا ہے۔تفتیش کا مطلب تشدد نہیں۔تفتیش کا مطلب ذہانت، تجربہ، شواہد، فرانزک، سوالات، نفسیاتی سمجھ بوجھ اور جدید تکنیک ہے۔ جو شخص پولیس کی تحویل میں ہے وہ چاہے ملزم ہو، قانون کے مطابق اس کے بنیادی حقوق برقرار رہتے ہیں۔ پولیس کا کام جرم کو ثابت کرنا نہیں، جرم کی تفتیش کرنا ہے؛ فیصلہ عدالت کا کام ہے۔ ہم کب یہ بنیادی فرق سمجھیں گے؟میں حکومت پنجاب سے یہ سوال بھی کرنا چاہتا ہوں کہ ہم پولیس کی تربیت پر کتنا خرچ کرتے ہیں؟ ہمارے پاس تربیتی ادارے ہیں مگر کیا ہماری تربیت واقعی اس معیار کی ہے جس کا تقاضا اکیسویں صدی کرتی ہے؟میں سعودی عرب میں طویل عرصہ رہا ہوں۔ وہاں مجھے پاکستانی کارکنوں کی تربیت کا موقع ملا۔ میں نے اپنی بساط کے مطابق پاکستانی نوجوانوں کی تربیت کی اور الحمدللہ ایسے نتائج دیکھے جن پر آج بھی فخر محسوس ہوتا ہے۔ اس تجربے نے مجھے ایک بات سکھائی: پاکستانی نوجوان میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں، کمی صرف صحیح تربیت اور صحیح سمت کی ہے۔ میں یقین سے کہتا ہوں، اگر تربیت کا شعبہ میرے حوالے کر دیا جائے تو میں فیس لیے بغیر حکومت کو بتا سکتا ہوں کہ نوجوانوں کو کس طرح تربیت دی جاتی ہے۔ مجھے اپنے تجربے پر اعتماد ہے۔ ہم عمارتوں پر کروڑوں خرچ کر لیتے ہیں، گاڑیوں پر خرچ کر لیتے ہیں، اسلحے اور سامان پر خرچ کر لیتے ہیں، مگر انسان کی تربیت پر خرچ کرتے ہوئے ہمیں کیوں تکلیف ہوتی ہے؟ یہاں اصل اصلاح کی ضرورت ہے۔میں حکومت پنجاب سے، بالخصوص وزیراعلی مریم نواز صاحبہ سے کہنا چاہتا ہوں کہ پولیس کی تربیت کو محض ایک رسمی شعبہ نہ سمجھا جائے۔ ایک ایسا تربیتی نظام بنایا جائے جہاں پولیس اہلکار کو قانون کے ساتھ ساتھ اخلاق، نفسیات، انسانی حقوق، جدید تفتیش، کمیونیکیشن، تنازعات کے پرامن حل اور شہریوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی عملی تربیت دی جائے۔ شہباز شریف صاحب مجھے جانتے ہیں، میاں نواز شریف صاحب سے بھی میری شناسائی ہے۔ میں یہ بات کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں کہہ رہا۔ اگر حکومت پنجاب کہے تو میں اپنی خدمات پیش کرنے کو تیار ہوں۔ میں اس تربیت کی کوئی فیس نہیں لوں گا۔میں صرف یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ ہمارا نوجوان اگر صحیح تربیت حاصل کرے تو وہ دنیا میں پاکستان کا نام روشن کر سکتا ہے۔اور پولیس تو ریاست کا چہرہ ہے ۔ اگر پولیس اسٹیشن میں شہری کو عزت ملے گی تو ریاست پر اعتماد بڑھے گا۔ اگر وہاں اسے چپل، گالی اور تشدد ملے گا تو ریاست اور شہری کے درمیان جو رشتہ اعتماد کا ہونا چاہیے وہ خوف میں بدل جائے گا۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سختی اور ظلم دو الگ چیزیں ہیں۔ قانون کی پابندی میں سختی ہوسکتی ہے، مگر قانون شکنی کے نام پر کسی کی تذلیل نہیں ہوسکتی۔ایک اہلکار اگر کسی خطرناک دہشت گرد یا مسلح مجرم کو گرفتار کرتا ہے تو بھی اسے قانون کے دائرے میں رہنا ہے۔ پھر ایک عام شہری، جسکے بارے میں ابھی جرم ثابت ہی نہیں ہوا، اسکے ساتھ چپل کا استعمال کس قانون میں جائز ہے؟یہ تفتیش نہیں، اگر ثابت ہو تو زیادتی ہے۔ یہ قانون کی عمل داری نہیں، اگر ثابت ہو تو قانون کی توہین ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہر پولیس اہلکار ایسا ہے۔ ہزاروں پولیس اہلکار اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر فرائض انجام دیتے ہیں۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پولیس نے قربانیاں دی ہیں ۔ رات کے اندھیرے میں جب ہم اپنے گھروں میں سو رہے ہوتے ہیں تو بہت سے اہلکار سڑکوں پر پہرہ دے رہے ہوتے ہیں۔لیکن چند اہلکاروں کی زیادتی پورے ادارے کی عزت کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اسی لیے ایسے واقعات کی شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات ضروری ہیں۔اگر ویڈیو میں دکھائی دینے والا واقعہ درست ثابت ہوتا ہے تو کارروائی ایسی ہونی چاہیے کہ آئندہ کسی اہلکار کو یہ خیال بھی نہ آئے کہ وردی اسے شہری کی عزت پامال کرنے کا اختیار دیتی ہے ۔ ہمیں پولیس کو کمزور نہیں کرنا، پولیس کو بہتر بنانا ہے۔ہمیں پولیس کے ہاتھ نہیں باندھنے، پولیس کے ہاتھ میں قانون دینا ہے۔ہمیں اہلکاروں کو خوف زدہ نہیں کرنا، انہیں قانون، اخلاق اور جدید تفتیش کا ماہر بنانا ہے اور سب سے بڑھ کر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ریاست کی طاقت شہری کو دبانے میں نہیں، شہری کو محفوظ رکھنے میں ہے۔اکیسویں صدی کا پاکستان چپل، گالی اور تشدد کا پاکستان نہیں ہونا چاہیے۔ یہ قانون، تربیت، دلیل، شواہد اور انصاف کا پاکستان ہونا چاہیے۔گوجرخان کی یہ تصویر میرے لیے صرف ایک تصویر نہیں؛ یہ ایک سوال ہے۔
محافظ کب تک جلاد کا روپ دھارتا رہے گا؟
اور جواب بھی ہمیں ہی دینا ہے۔
اگر ہم نے تربیت، احتساب اور قانون کی بالادستی کو اپنی ترجیح بنا لیا تو شاید ایک دن ہماری پولیس کی وردی دیکھ کر شہری کے دل میں خوف نہیں، اطمینان پیدا ہوگا۔ وہ کہے گا: آ گیا محافظ، اب مجھے انصاف ملے گا۔ یہی وہ دن ہوگا جب ہم واقعی اکیسویں صدی میں داخل ہوں گے۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں