برٹش ہندوستان کے تقسیم کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معاہدے کی رو سے پاکستان کا ایک حصہ ہے۔ معاہدے میں سیدھے طورپرتسلیم کیا گیا تھا کہ جن علاقوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں وہ پاکستان میں شامل ہوں گے اور جن میں ہندو ئوں کی اکثریت وہ علاقے بھارت میں شامل ہوںگے ۔کیوں کہ کشمیر میںمسلمان اکثریت میں تھے لہذا کشمیر کو پاکستان میں شامل ہونا تھا۔ ہندوستان کی آزاد ریاستیں جس ملک میں چائیں شریک ہو جائیں۔ کشمیر کی ریاست کی نمایدہ جماعت مسلم کانفرنس نے سرینگر میںاپنے ایک اجلاس میں پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کی قرارداد پاس کی۔مگر بھارت نے کشمیر میں فوجیں اُتار کر اس پر فوجی قبضہ کر لیا۔ کشمیر کا مہاراجہ سری نگر سے بھاگ کر جموں میں آیا ۔ بھارت کا ایک نمایدہ اس بھارت سے الحاق کو خط لینے میںکامیاب نہ ہو سکا اور واپس دہلی چلا گیا۔ یہ تاریخی واقعہ ہے۔ پھرمہاراجہ کشمیر سے جعلی الحاق کا خط تیارکیا گیا اور کشمیر پر قبضہ کر لیا۔ اصولی کشمیر پاکستان کا ایک صوبہ ہے جس پر بھارت نے بزور قبضہ کیاہوا ہے۔ پاکستان اس کو بھارت سے آزاد کرانے اورپاکستان میں شامل کرنے کی بھر پور کوششیں کرتا رہتاہے۔کشمیریوں نے ١٩٤٨ میںپاکستان شامل ہونے کے لیے بھارت سے جنگ شروع کی ۔پاکستان نے کشمیر میں اپنی فوج اور پاکستان کے قبائل کی مدد سے آزاد کشمیر کا موجودہ تین سو میل لمبا اور تیس میل چوڑا علاقہ بھارت سے آزاد کرا لیا۔ گلگت بلتستان کے مقامی باشندوں نے راجہ کے گورنر کو شکست سے دو چار کر کے گلگت و بلتستان کو بھی آزاد کرا لیا۔ پاکستان سرینگر تک پہنچنے والا تھا کہ بھارت کے وزیر اعظم ‘جواہر لال نہرو’ ایک سازش کے تحت اقوام متحدہ گئے اور درخواست داہر کی کہ جنگ بند کر دی جائے۔ کشمیر میں امن قائم کیا جائے ۔بھارت کشمیر کے عوام سے رائے معلوم کرے گا کہ وہ آزاد رائے سے بھارت میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا پاکستان میں شامل ہوناچاہتے ہیں کاموقعہ دیا جائے گا۔ اسکے بعد دنیا کی بڑی جمہوریت جو اپنے سیاسی لیڈر ‘چانکیہ کوٹیلہ’ سابق وزیر اعظم اشوک رہ چکا ہے کی کتاب میں درج سیاسی چالوں پر عمل کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں دنیا سے وعدے سے مکر گئے۔پاکستان نے کشمیر میں اپنی گوریلے بھیج کر کشمیر آزاد کرانے کی کوشش کی تو بھارت نے ٦ ستمبر کو پاکستان پر حملہ کر د یا۔ بھارت کے آرمی چیف نے تکبر کرتے ہوئے کہا کہ کل ہم لاہور کے جم خانے میں شراب کے جام چھلکائیں گے ۔اِدھر پاکستان کے فوجی ڈکٹیٹر اور صدر ایوب خان نے ریڈیو پاکستان سے بھارت کو کہا تم نے ‘لا الہ الاللہ’ پر یقین رکھنے والی پاکستانی قوم کوللکاراہے۔لہٰذا انجام کے لیے تیار ہو جائو۔ بھارت نے لاہور میںداخل ہونے کی کوشش کی تو میجر عزیز بھٹی ‘نشان حیدر’ نے بھارت کو نہر بی آر کے اُس پار روک لیا۔ لاہور کے شہریوں نے لاہور کی فضائوں میں پاکستانی جہازوں کو بھارت کے جہازوں سے پتنگوں جیسی لڑائی دیکھی۔ بھارت کا آرمی چیف منہ تکتہ رہ گیا ۔لاہور کیاآتا کھیم کرن اور مونا بھائو پر پاکستانی فوجوں نے قبضہ کر لیا۔ کشمیر کے محاذ پر پاکستانی فوجیں اکھنور پہنچ گئیں ۔ چونڈہ میں دنیا کی سب سے بڑی ٹینکوں کی لڑائی میں بھی بھارت نے شکست کھائی اور وہ جی ٹی روڈ بلاک نہ کر سکا۔ پاکستانی فضائیہ نے اوھم پور ،ہلواڑا اور پٹھان کوٹ کے اڈے تباہ کر دیے۔ ‘ایم ایم عالم’ نے ایک منٹ میں بھارت کے پانچ جہاز زمین پر گرا دیے۔ بھارت کی فضائوں پر پاکستان کی فضائیہ نے کنٹرول کر لیا۔ پاکستان کی سمبرین نے بھارت کی بندر گاہوںسے بحری جہازوں کو باہرنہیں نکلنے دیا۔ آگے بڑھ کربھارت کے نیول بیس داوارکا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ پاکستان بھارت سے یہ جنگ جیت گیا۔ بھارت اور پاکستان میں تاشقند جنگ بندی معاہدہ ہوا ۔ معاہدے کے دوران بھارت کے وزیر اعظم ‘شاستری عرف ننکو’ کا جنگ ہارنے پر ہارٹ فیل ہو گیا۔پاکستان نے بھارت کے ساتھ تمام جنگوں میں برتری حاصل کی۔اس میں ہمارے حکمرانوں کی کامیابی کے ساتھ مسلمانوں کی جہادی کلچر کا بڑا دخل ہے۔دنیا میں کبھی بھی کوئی قوم مسلمانوں کے جہادی کلچر کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی ۔ اللہ کے حکم سے ہمارے پیارے پیغمبرۖ نے مسلمانوں کے دلوں میں شہادت فی سبیل اللہ اور غازی بننے کا شوق پیدا کیا ہے۔ مسلمانوں کا کوئی بھی قوم بھی مقابلہ نہیںکرسکتی۔ ١٩٧١ء کی جنگ نہیں تھی۔ خانہ جنگی تھی۔ جس کا فاہدہ بھارت نے اُٹھایا۔ غدار وطن شیخ مجیب نے ملک دشمنی کی وجہ سے پاکستانی فوج کو بھارت سے شکست ہوئی ۔ اس وقت بھارت کی بت پرست وزیر اعظم’اندرا’ نے مصنوعی تکبر سے کہا تھا کہ میں نے مسلمانوں سے ہنددئوں پر ایک ہزار سالہ حکمرانی کا بدلہ لے لیا ہے۔ پاکستان کے بانی حضرت قائداعظم کے دو قومی نظریہ جس کی بنیاد ‘لا الہ الا اللہ ‘ تھی کو خلیج بنگال میںڈبو دیا۔خدا کی قدرت دیکھیں جو بنگلہ دیش قومیت کی بنیاد پر بنایا تھا۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے اسے اب خلیج بنگال میں ڈبو دیا اور بانی پاکستان کا دو قومی نظریہ زندہ جاوید کردیا ہے ۔ اصل میںجب برٹش ہندوستان میںقائد اعظم کی زیرکمان، حکیم الامت علامہ اقبال کے خواب کے تحت چل رہی تھی توہندو لیڈروں نے ہار مانتے ہوئے اپنی قوم کو یہ بتایا تھا کہ اب تو قائد اعظم نے برصغیر کے مسلمانوں کو اسلامی فلاحی ریاست کے نام پر اپنے گرد جمع کر لیا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد ہم پیسے اور عیاشی کی لالچ میںپاکستان کے حکمرانوں کو واپس سیکولر نظام حکومت کی طرف پھیر لیں گے۔ ہندوئوں نے پاکستان کودل سے تسلیم نہیں کیا۔پاکستان بننے کے بعد اسے اسلامی فلاحی ریاست بنانے کیلئے اپنے وعدوں کے مطابق قائد اعظم نے عمل کرتے ہوئے، نو مسلم’ علامہ اسد’ کو اپنے بنائے ہوئے ادارے ‘دی کنسٹرکشن آف اسلامک ٹھاٹ’ کا چیف بنایا تھا۔ جس نے پاکستان میں اسلامی نظام کیلئے کوشش کرنی تھی۔ اسٹیٹ بینک کو خطاب کرتے ہوئے پاکستان سے سود ختم کرنے اور اسلامی معیشت پر کام کرنے کی ہدایت کی۔ سید ابوا لاعلی مودودی کو ہدایت دی کہ پاکستان میں اسلامی نظام حکومت کے عملی طریقے بتائیں۔مولانا مودودی نے ریڈیو پاکستان سے کئی تقاریر کر کے عملی طریقے قوم کے اور حکومت کے سامنے رکھے۔پاکستان کے پہلے وزیر اعظم شہید پاکستان نوابزادہ لیاقت علی خان نے پاکستان کی اساس قرارداد پاکستان کو آئین کا حصہ بنایا۔مگر مسلم لیگی حکمرانوںنے ‘علامہ اسد ‘کو ان کے کام سے ہٹا کر بیرون ملک سفیر بنا دیا۔ ‘مولانا مودودی’ اسلامی نظام حکومت قائم کرنے کی مہم چلائی تو انہیں گرفتار کر کے ملتان جیل میں ڈال دیا۔کیا اس طرح مسلم لیگی حکمرانوں نے قائد اعظم کے ساتھ غداری کرتے ہوئے بھارت کے پاکستان کو سیکولر اسٹیٹ بنانے میں مدد نہیں کی؟ کب پاکستان کی صحیح تاریخ لکھی جائے گی ؟ اللہ تعالیٰ کی مشیعت کہ اللہ نے قائد اعظم کو جلد اپنے پاس بلا لیا۔ مسلم لیگ کے کھوٹے سکوں نے قائد اعظم کے اسلامی پاکستان کو بھارت کی منشا کے مطابق سیکولرنظام حکومت میں ڈال دیا۔ اگر یہی کرنا تھا تو دانش ور کہتے ہیں پھر سیکولر ہندوستان سے علیحدہ کیوں ہوئے تھے۔ اس تاریخی غلطی کو درست کرنا ہے۔ پھر سے پاکستان کو اسلامی نظام حکومت کے طرف لے جانا ہے۔ اسی سے پاکستان کے مسلمانوں کی بقا ہے اسی سے اللہ راضی ہو گا ۔ پاکستان کاازلی دشمن بھارت پاکستان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے گا۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں