محترم زرداری، نواز شریف و مولانا سے عرض کہ حضور نوشتہ دیوار لکھا جا چکا۔ عوام کو جہالت غربت پس ماندگی اور اندھیروں میں رکھ کر ملک چلے گا یا آپکی سیاست۔ اب نظام کی رخصتی کا وقت ہے بہتر ہے کہ اس کے ساتھ رخصت ہونے سے بچنے کیلئے اختیارات کی تقسیم اور انتظامی یونٹس بارے عوامی جذبات کا خیال کریں۔
مجھ میں کتنے راز ہیں بتلائوں کیا
بند اک مدت سے ہوں کھل جائوں کیا
عاجزی، منت ، خوشامد ، التجا ،
اور میں کیا کیا کروں ، مر جاوں کیا !
عام آدمی کے مسائل آپ کی طرح بڑے ہیں اور نہ آپکی چالوں کی طرح پیچیدہ۔ اپنے مفادات کے لیے عورت کی حکمرانی کا جواز بھی آپ کے ہاں ملتا ہے تو کہیں ڈکٹیٹر کی بیعت کا۔ آئینی حدود میں رہتے ہوئے آپ نے اب تک بڑے کمالات کیے۔ اس بارجانے دیجئیے، عوام کی خاطر، در گزر کیجیے۔ سندھ،بلوچستان، پنجاب اور KP کے دور دراز علاقوں کے رہنے والے مجبور، بیبس اور غریب لوگوں کی خاطر آئین سے زرا سا انحراف کر لیجیے!۔عام آدمی کی بھی زرا سنیے جب سے معلوم پڑا کہ دارالحکومت ہماری کٹیا کے قریب بننے کو ہے، تو یقین جانیے دل تھامنا مشکل ہو گیا مگر ایک منحوس نے خبر اڑائی کہ بلاول زرداری، مولانا فضل الرحمن کھلے بندوں، نواز شریف کی خاموشی اور پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری امیدوں کی راہ میں روکاوٹ تو اس روز سے ہمارے گھروں میں صف ماتم۔ حضور میڈیا کی زبانی جب یہ معلوم ہوا کہ تھرپارکر میں گزشتہ پانچ سالوں میں 7 ہزار سے زائد اموات صرف بچوں کی ہوئیں، مٹھی کے سول ہسپتال میں گزشتہ 8 ماہ کے دوران 480 بچے موت کے منہ میں چلے گئے تو ہماری آنکھوں کے آگے انھیرا چھانے لگا ۔ سندھ کے بعض ضلعوں میں غربت کی شرح 80 فیصد، اور تو اور سائیں مراد علی شاہ کے حلقہ میں سڑکیں خستہ حال اور بنیادی مراکز صحت میں ڈاکٹرز نہیں۔ کے پی کے وزیر اعلیٰ کے آبائی حلقہ کے عوام پینے کے صاف سے محروم سکولوں میں کرسیاں نہیں صرف یہی نہیں بلکہ سہیل آفریدی کے حلقہ انتخاب میں منشیات کی باقاعدہ منڈی لگتی ہے، کے پی کا ایک کوہستان سکینڈل ہی (600 ارب) کا یہ سب جان کر کانوں سے دھواں نکلنے لگا۔ مگر جب مایوسی بڑھنے کو تھی کہ خبر ملی کہ اسلام آباد سے اختیارات کی تقسیم کا آغاز ہونے کو ہے تو پھر سے دل میں امید روشن ہونے لگی ہے۔ اپنے معزز قائدین اور اراکین اسمبلی سے دست بستہ عرض ہے کہ بنیادی سہولیات سے محروم عوام کو قانونی موشگافیوں اور آئینی پیچیدگیوں میں الجھا کر موقع کی نزاکت کے پیش نظر اپنے مفادات پر سودا بازی کی بجائے بھیڑ بکریوں جیسی زندگی گزارنے والوں پر رحم کیجیے !۔ہم نے مانا کہ کپتان سمیت آپ چاروں ہمارے بڑے اور آج تک اپ نے آئین سے سر مو انحراف کیا نہ اقتدار کی خاطر کبھی طاقتور سے سمجھوتہ، آپ نے ہماری ہی خاطر اقتدار کا کانٹوں بھرا طوق پہنا۔ہماری درخواست کو شرف پذیرائی بخشیے۔ابھی کے لیے غصہ جانے دیجیے اور تھوڑا سا انحراف کر کے انتظامی یونٹس اور بااختیار ضلعی نظام پر اتفاق کر کے عوام پر احسان عظیم کیجیے۔ ہم عوام آپ کی اس آئینی خلاف ورزی کا گناہ اپنے ذمہ لینے کو تیار ! حد نہیں کہ NFCایوارڈ کے تحت سندھ کو اب تک 22 ہزار ارب روپے ملے مگر سندھ ہے کہ عوام کی حالت ہر گزرتے دن کے ساتھ بد سے بدتر۔ بلوچستان کو ہر دور میں خصوصی حیثیت دی گئی مگر پچاس لاکھ کی آبادی کے فنڈز کا بڑا حصہ مبینہ طور پر وڈیروں اور سرداروں کی جیبوں میں۔؟۔ نئے انتظامی یونٹس اور بااختیار ضلعی نظام حکومت کا خیال کیوں ؟ وجہ یہ ہوئی کہ عالمی سطح پر بڑی کامیابیاں، خطے کے کئی ایک ممالک کے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدات اور ماضی کے بالکل برعکس امریکہ سمیت یورپ میں پاکستان کی سفارتی پذیرائی اور عالمی امن کے لیے پاکستان کے کردار کے باوجود اندرونی طور ثمرات جبکہ عوامی اضطراب اور بے چینی بڑھتی ہی جانے لگی تو اس صورتحال نے سنجیدہ، مخلص اور طاقتور حلقوں کو سوچنے پر مجبور کیا کہ موجود سسٹم کہ جو کم و بیش 1100 نمائندگان کو پال پوس رہا ہے اور سرخ فیتے کے نظام نے تعمیر و ترقی کا ہر دروازہ بند کر رکھا ہے۔ ایسے میں چارہ گروں کے پاس اور اس کے سوا کیا آپشن کے ملک کو چند خاندانوں کی اجارہ داری سے نکال کر مڈل کلاس اور نئی قیادت کو آگے آنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ وہی پی پی پی جو جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے حق میں ہے وہ سندھ میں انتظامی یونٹس تک کیلئے مرنے مارنے پر آمادہ، مسلم لیگ ن ہو یا پی پی پی انہیں مسئلہ انتظامی یونٹس ہا صوبوں سے شاید اتنا نہ ہو مگر عشروں سے سیاسی و انتظامی طاقت کی تقسیم انہیں آمادہ بر احتجاج و اعتراض کرتی ہے۔ ہر کو معلوم کہ انتظامی یونٹس سے سندھ کی جغرافیائی حیثیت تبدیل ہوتی ہے نہ پنجاب کی۔ مگر پی پی سندھ نہ ڈیسوں کا نعرہ لگا کر اچھی طرز حکمرانی، تعلیم، صحت اور بہتر مستقبل سے بے نیاز محروم سندھی عوام کو گمراہ کر کے ہمدریاں سمیٹ کر اپنے اختیارات کو بچانا چاہتی ہے۔ مسلم لیگ ن کا ترقی پسند طبقہ نئے صوبوں کا حامی جبکہ روایتی خاندان بشمول شریف فیملی نئے انتظامی یونٹس سے پنجاب میں خاندانی گرفت کمزور ہونے سے خائف۔ پی ٹی آئی ماضی میں نئے صوبوں کے حق میں آواز بلند کرتی رہی مگر اب سلمان اکرم راجہ کا راگ الگ۔ ممکن ہے کہ پی ٹی آئی نئے انتظامی یونٹس کی حمایت کے بدلے اپنے کچھ معاملات طے کر لے۔جناب عالی خطرہ ہے کہ کہیں عوامی خوشحالی کی راہ میں قانونی و آئینی تو کہیں لسانی عصبیت کا سہارا لیکر رکاوٹیں کھڑی کرنے والوں کیلئے مستقبل کی سیاست میں اپنے لیے کچھ حصہ نہ بچے۔ تو خدا را حکام تک عوامی رسائی آسان، نظام انصاف میں بہتری اور بنیادی مسائل کے فوری حل کیلئے مجوزہ اقدامات میں روکاوٹ نہ بنیے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں