بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 24.5°C
Monday, 14 September 2026 | پاکستان: 3 ر بیع الثانی 1448

یمن کے زخم، حوثی قیادت اور عرب و فارس کے دمیان امن

Monday, 14 September, 2026

کبھی ایک دوست کی بات اخبار کی کئی تحریروں سے زیادہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ میرے یمنی دوست صدام الغریبی نے یمن کے حالات پر بات کرتے ہوئے کہا: افتخار صاحب! جن کی تصویر آپ دیکھ رہے ہیں، یہ حوثی ہیں۔ یہ خود کو یمنی قوم کا محافظ کہتے ہیں، مگر انہوں نے ہی یمنی قوم کو قتل کیا، یمن کو تباہ کیا اور ایران کے ساتھ مل کر اسے فتنہ و فساد کا میدان بنا دیا۔ یہ ایک یمنی شہری کا موقف ہے، اسے پورے یمن کی متفقہ رائے قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ لیکن اپنے وطن کے دکھ میں لپٹی اس آواز کو سننا ضرور چاہیے۔ہم پاکستان میں بیٹھ کر یمن پر بڑی بڑی سیاسی اور فرقہ وارانہ بحثیں کرتے ہیں، مگر یہ کم سوچتے ہیں کہ جنگ کے بیچ میں کھڑا عام یمنی کیا چاہتا ہے؟ اسے نہ ریاض کی فتح چاہیے، نہ تہران کی فتح، نہ حوثیوں کی عسکری حکمرانی۔ اسے اپنے بچوں کیلئے امن، اپنے گھر کیلئے چھت اور اپنے ملک کیلئے مستقبل چاہیے۔یمن کا مسئلہ صرف سعودی عرب اور حوثیوں کا معاملہ نہیں۔ یہ ایک پیچیدہ داخلی جنگ ہے جس میں حوثی تحریک، یمنی حکومت، جنوبی دھڑے اور کئی علاقائی کردار شامل ہیں۔ حوثیوں نے صنعا پر قبضے کے بعد اپنی طاقت بڑھائی اور ایران کے ساتھ بڑھتے تعلقات نے اس داخلی بحران کو علاقائی کشمکش میں بدل دیا۔ آج بحیرہ احمر اور باب المندب کے گرد ان کی عسکری سرگرمیاں پورے خطے کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ صدام کا الزام سخت ہے، مگر اسے سیاسی نعرے کے بجائے ایک یمنی شہری کی فریاد کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ پاکستان میں یمن پر عجیب تقسیم ہے۔ کچھ لوگ تمام خرابی کا ذمہ دار سعودی عرب کو سمجھتے ہیں، اور کچھ ہر سعودی اقدام کی ایسی وکالت کرتے ہیں جیسے دوست ملک سے اختلاف بھی جرم ہو۔ میرے نزدیک دونوں انتہائیں مسئلے کو سمجھنے میں رکاوٹ ہیں۔ سعودی عرب جنگ کا خواہش مند ملک نہیں، وہ اپنے ملک کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ جب کسی ملک پر میزائل اور ڈرون داغے جائیں، شہری خطرے میں ہوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے تو اسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ اسے ہر حال میں جنگ کا ذمہ دار قرار دینا یک طرفہ تصویر ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات صرف حکومتوں کے نہیں۔ حرمین شریفین سے قلبی وابستگی، لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار اور دہائیوں کا برادرانہ رشتہ اس کی بنیاد ہے لیکن دوستی اور اندھی وکالت میں فرق ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون اہم ہے۔ کسی ملک پر حملہ ہو تو دوست ممالک کا اس کے دفاع میں ساتھ دینا فطری ریاستی عمل ہے۔ مگر یہ بندوبست تبھی دائمی امن کی بنیاد بنے گا جب اسے کسی ایک ملک کے خلاف محاذ کے بجائے پورے خطے کے امن کیلئے استعمال کیا جائے ۔ میں اس بندوبست کو اس وقت تک مکمل نہیں سمجھتا جب تک ایران کو کسی نہ کسی شکل میں علاقائی امن کے نظام کا حصہ نہ بنایا جائے ۔ اگر ایک طرف سعودی عرب، پاکستان اور ترکی ہوں اور دوسری طرف تنہا ایران، تو تنازع ختم نہیں ہوگا، صرف صف بندی بدلے گی۔ یہ عرب اور فارس کی نئی کشمکش بن جائے گی۔ ایران ایک حقیقت ہے، سعودی عرب ایک حقیقت ہے، ترکی اور پاکستان بھی حقیقت ہیں، اور یمن بھی۔ ان میں سے کسی کو مٹا کر امن قائم نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ سعودی عرب سے گہرے تعلقات ہیں اور ایران اس کا ہمسایہ ہے۔ یہی پوزیشن پاکستان کو منفرد سفارتی کردار دیتی ہے۔ ریاض سے دوستی برقرار رکھتے ہوئے تہران سے بات کرنا ہماری خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی ہو سکتا ہے۔ یہاں مجھے جنرل حمید گل کا افغانستان سے متعلق نظریہ یاد آتا ہے۔ وہ افغانستان میں پاکستان کیلئے دوستانہ ماحول کو قومی سلامتی کیلئے اہم سمجھتے تھے۔ اس نظریے سے اختلاف کی گنجائش ہے، مگر افغانستان کا تجربہ ہمیں ایک بڑا سبق دیتا ہے: کسی دوسرے ملک میں اثر و رسوخ حاصل کرنا آسان ہو سکتا ہے، مگر اس کی قیمت پوری قوم کو چکانی پڑتی ہے۔افغانستان میں ہم نے اپنے فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی بے شمار قربانیاں دیں۔دہشت گردی نے ہمارے شہروں، بازاروں ، مساجد اور اسکولوں کو نشانہ بنایا۔ اثر و رسوخ تو رہا، مگر اس جنگ کا زخم آج تک پوری طرح مندمل نہیں ہوا۔ اسی دور کے بہت سے تلخ سوالوں میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ بھی ہے جو ہمیں خودمختاری اور قومی سلامتی کی پالیسی پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ہمیں پوچھنا چاہیے: کیا اسٹریٹجک برتری اس وقت بھی کامیابی کہلائے گی جب اس کی قیمت اپنے ہی خون سے ادا کرنا پڑے؟اس لیے یمن کے بارے میں جذباتی جنگی نعروں سے بچنا چاہیے۔ حوثیوں کو بندوق کے زور پر ختم کرنا آسان نعرہ ہو سکتا ہے، مگر مستقل امن صرف بندوق سے نہیں آتا۔ اگر حوثی یمن کا ایک بڑا سیاسی فریق ہیں تو انہیں سیاسی عمل میں آنا ہوگا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اسلحے کے زور پر پورے یمن کا مستقبل طے کریں۔ انہیں یمنی ریاست اور عوام کی آزاد مرضی کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ایران کو بھی سوچنا ہوگا کہ مسلح گروہوں کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھانے سے اس کیخلاف اتحاد ہی بنیں گے۔ اور سعودی عرب کو بھی سمجھنا ہوگا کہ عسکری طاقت دفاع کیلئے ضروری سہی، مگر دائمی امن سفارتکاری سے ہی آئے گا۔ ایک بات سعودی دوستوں سے کہ اگر پاکستان میں اپنی ساکھ کیلئے حافظ طاہر محمود اشرفی جیسی شخصیات کو ترجمان بنایا جائے تو یہ حکمت عملی مناسب نہیں۔ کسی ملک کی ساکھ ٹی وی اسکرین پر بیانات سے نہیں، اپنے کردار اور عوام سے تعلق سے بنتی ہے۔ اور اگر کوئی سمجھتا ہے کہ سعودی عرب کے ہر اقدام کی مکمل وکالت ہی محبت کا معیار ہے تو یہ درست نہیں۔ اصل محبت یہ ہے کہ دوست کے حق کا دفاع بھی کیا جائے اور اسے دانش مندانہ راستہ بھی دکھایا جائے۔ میں سعودی عرب کے خلاف نہیں ہوں، بلکہ پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی و برادرانہ تعلق مزید مضبوط دیکھنا چاہتا ہوں، مگر اسے کسی دوسرے مسلمان ملک کے خلاف محاذ نہیں بننا چاہیے۔ پاکستان سعودی عرب کا دوست رہتے ہوئے ایران کا دشمن بنے بغیر بھی رہ سکتا ہے۔ یہی پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ اصول ایک ہونا چاہیے کہ مسلمان کی جان ریاض میں ہو یا صنعا میں، تہران میں ہو یا اسلام آباد میں، اس کی حرمت برابر ہے۔ یمن کو حوثیوں کی بندوق سے بھی نجات چاہیے، بیرونی طاقتوں کی پراکسی جنگ سے بھی، اور سب سے بڑھ کر اپنے لوگوں کو اپنا مستقبل خود بنانے کا حق چاہیے۔سعودی عرب کو اپنے دفاع کا حق ہے، ایران کو علاقائی حقیقت کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا، حوثیوں کو بندوق کے بجائے سیاسی عمل قبول کرنا ہوگا اور پاکستان کو جنگ کے بجائے امن کا راستہ دکھانا ہوگا ۔ ورنہ آج یمن ہے، کل کوئی اور ملک ہوگا، اور ہم پھر وہی سوال پوچھ رہے ہوں گے کہ عرب اور فارس کی اس لڑائی میں مرنے والا ہمیشہ عام مسلمان ہی کیوں ہے؟

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *