فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے یکم جولائی 2026 سے پٹرولیم کی تین مصنوعات جن میں پٹرولیم ٹاپ نیفتھا، وائٹ اسپرٹ/منرل ٹرپنٹائن آئل اور سالوینٹ آئل شامل ہیں پر 80 روپے فی لٹر کے حساب سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کر دی ہے۔اس سلسلے میں،ایف بی آر نے فیلڈ دفاتر کوکے نفاذ کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات میں ملاوٹ کی روک تھام کے حوالے سے سیلز ٹیکس بجٹ کی ہدایات جاری کی ہیں۔فنانس ایکٹ 2026 کے تحت ایف بی آر کی ہدایات کے مطابق پٹرولیم مصنوعات پر ‘پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی لاگو ہوتی ہے،جبکہ پیٹرولیم ٹاپ نیفتھا،وائٹ اسپرٹ/منرل ٹرپنٹائن آئل اور سالوینٹ آئل پر لاگو نہیں ہوتی۔کچھ غیر ایماندار عناصر اس فرق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان مصنوعات کو پی ڈی ایل کے دائرہ کار میں آنے والی مصنوعات میں ملا کر زیادہ قیمت پر فروخت کرنے لگے تھے۔اس عمل کی روک تھام کے لیے،اب مذکورہ تین مصنوعات پر سیلز ٹیکس کے طریقہ کار کے تحت 80 روپے فی لیٹر کی شرح سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ایف بی آر نے مزید کہا کہ ان صنعتوں کے لیے جو مذکورہ مصنوعات کو صنعتی خام مال کے طور پر استعمال کرتی ہیں،ایک مشروط طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس کے تحت افراد یا افراد کے کسی گروہ کو اس ڈیوٹی کے اطلاق سے استثنی دیا جا سکتا ہے۔یہ استثنی ان صورتوں میں ممکن ہوگا جب یا تو حتمی مصنوعہ سیلز ٹیکس سے مستثنی ہو،یا پھر سپلائر اور مینوفیکچرر دونوں ڈیجیٹل انوائسز کے اجرا کیلئے بورڈ کے کمپیوٹرائزڈ نظام سے منسلک ہوں اور مقررہ شرائط کی پاسداری کرتے ہوں ۔ ایف بی آر نے مزید بتایا کہ بعض پٹرولیم مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا نفاذ فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے پہلے شیڈول کے ٹیبل-1 میں سیریل نمبر 65 کا اضافہ کر کے کیا گیا ہے۔انہی اشیا کو دوسرے شیڈول میں بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ سیلز ٹیکس کے طریقہ کار کے تحت فیڈرل ایکسائزڈیوٹی عائد کی جا سکے؛اس اقدام سے رجسٹرڈ شخص کو یہ سہولت ملے گی کہ وہ مذکورہ ڈیوٹی کو آٹ پٹ سیلز ٹیکس کے خلاف ایڈجسٹ کر سکے۔مقامی ریفائننگ کی صلاحیت کو جدید ماحولیاتی معیارات سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ریفائنریز کی اپ گریڈیشن ناگزیر ہے؛ ان معیارات میں صاف ستھرے ایندھن کی خصوصیات،اخراج پر بہتر کنٹرول، اور کاربن و سلفر کی مقدار میں کمی شامل ہیں ۔ دوسری جانب،ریفائنری کی اہم پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس لاگو نہیں ہوتا ۔ تاہم ریفائنری کی اپ گریڈیشن،طے شدہ بندش ،دیکھ بھال اور مکمل مرمت کے عمل میں اعلیٰ مالیت کی مشینری،آلات اور دیگر پرزہ جات وغیرہ کی درآمد کی ضرورت پڑتی ہے جن پر سیلز ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔ایف بی آر نے مزید کہا کہ متعلقہ ڈویژن کی پیشگی منظوری کے ساتھ مخصوص اشیا پر سیلز ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔
صلالہ پر نظریں
مشرقِ وسطیٰ میں اعتماد کا بحران پیدا ہو گیا ہے کیونکہ کشیدگی میں نئے سرے سے اضافے کے باعث عالمی سپلائی لائنز کے ٹھپ ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔پہلی بار، عالمی تجارتی تنظیم نے ہنگامی انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی،تنازع کے باعث جہاز رانی میں خلل اور بھاری ٹیرف عالمی سپلائی چینز اور نقل و حمل کی لاگت کے مستقبل پر بدستور بادل منڈلا رہے ہیں۔اس انتباہ کو بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی اس وارننگ کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے کہ عدم استحکام کے خاتمے میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی طلب اور رسد میں مزید کمی متوقع ہے۔نتیجتا،ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہے گا؛جمعہ کے روز ابتدائی اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد کم ہو کر صرف سات یومیہ رہ گئی ہے۔اسی طرح،صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے کیونکہ حوثی باغی باب المندب کے دہانے پر واقع اسٹریٹجک اہمیت کے حامل جزیرہ پیرم کے قریب پہنچ چکے ہیں،جس سے بحیرہ احمر کے دونوں اطراف سعودی عرب کی تیل کی برآمدات عملی طور پر بند ہو سکتی ہیں۔اس صورتحال میں، تنازع کو بڑھانے کے درپے قوتوں کی من مانیوں اور خواہشات کے باوجود مسلسل سفارت کاری کی ضرورت ہے۔امید کی ایک کرن یہ ہے کہ عمان کا ساحلی شہرصلالہآج ایران اور خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کی میزبانی کرنے جا رہا ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کے انتظام کیلئے عارضی معاہدے پر اتفاق رائیحاصل کیا جا سکے۔خطے کے تمام متعلقہ فریقین کو بامعنی مذاکرات کے لیے اکٹھا کرنے پر عمان تعریف کا مستحق ہے۔وسیع پیمانے پر یہ امید کی جا رہی ہے کہ حوثیوں پر تہران کا اثر و رسوخ صورتحال کو کشیدگی سے نکالنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے ۔ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ یمنی ملیشیا نے جہاز رانی میں رکاوٹ نہ ڈالنے کا وعدہ کیا ہے،اور امریکہ نے بھی یمن کے معاملے پر تنازع کا دائرہ کار وسیع کرنے سے گریز کیا ہے۔صلالہ سے جاری ہونے والا کوئی بھی ممکنہ اعلامیہ سب کیلئے اطمینان کا باعث بننا چاہیے اور اس میں متحارب فریقین کی جانب سے فوری طور پر دشمنی ختم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا جانا چاہیے۔
انسدادِ بدعنوانی مہم کافیصلہ قابل ستائش
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا بدعنوانی کے خلاف سخت مہم شروع کرنے کا فیصلہ قابلِ ستائش ہے ۔ پاکستان میں بدعنوانی ایک سنگین مسئلہ رہی ہے اور اس نے عام شہریوں پر بھاری بوجھ ڈالا ہے۔جو سرکاری افسر کسی سروس کے بدلے پیسے کا مطالبہ کرتا ہے،وہ نہ صرف قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہوتا ہے بلکہ لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق سے بھی محروم کر رہا ہوتا ہے۔پنجاب حکومت نے حالیہ ہفتوں میں 54 سے زائد سرکاری افسران اور ملازمین کیخلاف کارروائی کی اطلاع دی ہے۔اس کارروائی میں گرفتاریاں، معطلی اور ملازمت سے برطرفی شامل ہیں ۔ کارروائی کا سامنا کرنے والوں میں سابق تحصیلدار، پٹواری اور محکمہ خوراک کے حکام شامل ہیں ۔ حکومت نے سرکاری محکموں کی نگرانی کیلئے ایک خصوصی خفیہ سیل بھی قائم کیا ہے اور شہریوں کی جانب سے مبینہ بدعنوانی کی اطلاع دینے کیلئے ہیلپ لائن 1350 کو فعال کیا ہے ۔ شکایت کنندگان کی شناخت خفیہ رکھنے کا فیصلہ اہم ہے کیونکہ بہت سے شہری بدعنوانی کی رپورٹ کرتے وقت دبا یا انتقامی کارروائی سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔اس کریک ڈان کا دائرہ کار کئی محکموں تک پھیلا ہوا ہے جن میں ریونیو، لوکل گورنمنٹ، پولیس، صحت اور خوراک کے محکمے شامل ہیں۔ایک معاملے میں،زمین کے تنازعے سے متعلق الزامات پر سابق ڈپٹی تحصیلدار اور پٹواری کو گرفتار کیا گیا ۔مختلف اضلاع میں’ٹریپ آپریشنزکے دوران دیگر حکام کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔محکمہ خوراک کو بھی بڑی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں اطلاعات کے مطابق درجنوں افسران اور ملازمین کو معطل یا برطرف کیا گیا ہے۔اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے گوجرانوالہ ڈسٹرکٹ جیل کے سابق سپرنٹنڈنٹ سے 45 ملین روپے کی وصولی کی بھی اطلاع دی ہے۔یہ رقم مبینہ طور پر بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے حاصل کی گئی تھی۔یہ اقدامات ایک اہم پیغام دیتے ہیں:عوامی عہدے کا استعمال شہریوں کی خدمت کیلئے ہونا چاہیے،نہ کہ ذاتی مفادات کے حصول کیلئے ۔تاہم صرف گرفتاریاں اور معطلیاں کافی نہیں ہیں۔ہر معاملے کی منصفانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور قصوروار پائے جانیوالوں کو قانون کا سامنا کرنا چاہیے۔بدعنوانی کیخلاف کارروائی کو حکومت کی واضح ترجیح بنانے پر وزیراعلیٰ مریم نواز تعریف کی مستحق ہیں۔نگرانی کو مضبوط بنانے ، عوامی رقم کی بازیابی اور بدعنوانی کا ریکارڈ رکھنے والے افسران کی تقرری روکنے کیلئے ان کی ہدایات درست سمت میں اٹھائے گئے اقدامات ہیں۔دیگر صوبائی حکومتوں کو بھی اسی طرح کے اقدامات کرنے چاہئیں۔سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو اپنے انسدادِ بدعنوانی کے نظام کو مضبوط بنانا چاہیے ، عوامی خدمات کو زیادہ شفاف بنانا چاہیے اور شہریوں کو رشوت کی اطلاع دینے کیلئے محفوظ ذرائع فراہم کرنے چاہئیں۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں