بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 22.1°C
Monday, 21 September 2026 | پاکستان: 10 ر بیع الثانی 1448

پاکستان میں مہنگائی: عام آدمی آخر کب سکھ کا سانس لے گا؟

Monday, 21 September, 2026

پاکستان میں مہنگائی اب صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ عام آدمی کی روزمرہ زندگی کا ایسا سوال بن چکی ہے جس کا جواب ہر گھر اپنے انداز میں تلاش کر رہا ہے۔ بازار میں جائیں تو سبزی، دال، گوشت، دودھ، آٹا، چینی، گھی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں جیب پر ایک نیا بوجھ ڈال دیتی ہیں، بجلی اور گیس کے بل سامنے آئیں تو گھریلو بجٹ مزید سکڑ جاتا ہے اور بچوں کی تعلیم، علاج، سفر اور دیگر ضروری اخراجات اپنی جگہ موجود ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آمدنی میں اضافہ محدود ہے جبکہ اخراجات مسلسل بڑھتے محسوس ہوتے ہیں۔ ایک عام تنخواہ دار شخص مہینے کے آغاز میں بجٹ بناتا ہے لیکن مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی حساب کتاب بگڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگائی اب صرف اعدادوشمار کا موضوع نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی کا عملی تجربہ بن چکی ہے۔ مہنگائی کا اثر ہر طبقے پر یکساں نہیں ہوتا۔ صاحبِ حیثیت خاندان کچھ چیزوں کی قیمت بڑھنے کے باوجود اپنی ضروریات پوری کر لیتے ہیں، لیکن محدود آمدنی رکھنے والے گھرانے کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ اس ماہ بچوں کی فیس پہلے دی جائے، بجلی کا بل ادا کیا جائے، گھر کا راشن مکمل کیا جائے یا کسی بیمار فرد کا علاج کروایا جائے۔ جب ایک خاندان بنیادی ضروریات اور محدود آمدنی کے درمیان توازن قائم نہ کر پائے تو اس کے اثرات صرف گھر کے بجٹ تک محدود نہیں رہتے بلکہ معاشرے کی مجموعی کیفیت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ والدین ذہنی دبا کا شکار ہوتے ہیں، بچوں کی ضروریات محدود کی جاتی ہیں اور مستقبل کے لیے بچت تقریبا ناممکن ہو جاتی ہے۔مہنگائی کی ایک بڑی وجہ پیداواری لاگت میں اضافہ بھی ہے۔ جب بجلی، گیس، ایندھن، خام مال، ٹرانسپورٹ اور مزدوری کی لاگت بڑھتی ہے تو اس کا اثر بالآخر تیار ہونے والی چیز کی قیمت پر پڑتا ہے۔ کسان کے لیے کھاد، بیج، زرعی ادویات اور ڈیزل مہنگا ہو تو فصل کی لاگت بڑھتی ہے، صنعت کار کے لیے توانائی اور خام مال مہنگا ہو تو مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں اور ٹرانسپورٹر کے اخراجات بڑھیں تو سامان کی نقل و حرکت بھی مہنگی پڑتی ہے۔ یوں ایک قیمت میں اضافہ دوسری کئی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے اور عام شہری بالآخر اس پورے سلسلے کا سب سے کمزور فریق بن جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مارکیٹ میں غیرموثر نگرانی جیسے مسائل بھی قیمتوں کو متاثر کرتے ہیں۔ بعض اوقات کسی چیز کی قلت حقیقی کم اور مصنوعی زیادہ ہوتی ہے۔ اگر مارکیٹ میں طلب اور رسد کے درمیان مصنوعی خلا پیدا کیا جائے تو قیمت بڑھ جاتی ہے اور صارف کو اضافی رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ حکومت کے پاس قیمتوں کی نگرانی کے لیے مختلف ادارے اور انتظامی نظام موجود ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ یہ نظام عام آدمی کو عملی ریلیف کس حد تک فراہم کرتا ہے۔ محض نرخ مقرر کرنا کافی نہیں، مارکیٹ میں ان نرخوں پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ مہنگائی کے مسئلے کا ایک اہم پہلو ٹیکسوں کا بوجھ بھی ہے۔ حکومت کے لیے محصولات جمع کرنا ضروری ہے کیونکہ ریاستی نظام، تعلیم، صحت، دفاع، انفراسٹرکچر اور دیگر خدمات کیلئے وسائل درکار ہوتے ہیں، لیکن ٹیکس نظام ایسا ہونا چاہیے جس میں بوجھ منصفانہ انداز میں تقسیم ہو۔ جب بالواسطہ ٹیکسز کے ذریعے روزمرہ استعمال کی اشیا مہنگی ہوتی ہیں تو کم آمدنی والا شخص اپنی آمدنی کا نسبتاً بڑا حصہ ٹیکسوں اور ضروری اخراجات میں خرچ کرتا ہے۔ دوسری طرف ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، ٹیکس چوری روکنا اور دستاویزی معیشت کو مضبوط بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اصل ضرورت ایک ایسی معاشی حکمت عملی کی ہے جس میں صرف مہنگائی کم کرنے کا ہدف نہ ہو بلکہ لوگوں کی آمدنی، روزگار اور قوتِ خرید میں بھی بہتری آئے۔ اگر قیمتیں کچھ عرصے کے لیے مستحکم ہو جائیں لیکن روزگار کے مواقع پیدا نہ ہوں تو عام شہری کی مشکلات ختم نہیں ہوتیں۔ اسی طرح صرف تنخواہوں میں اضافہ بھی مستقل حل نہیں، کیونکہ اگر پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیے بغیر آمدنی بڑھائی جائے اور اس کے نتیجے میں قیمتیں مزید بڑھیں تو فائدہ محدود ہو جاتا ہے۔پاکستان کو اپنی معیشت میں پیداوار بڑھانے، برآمدات کو فروغ دینے، توانائی کے مسائل حل کرنے، زراعت کو جدید بنانے اور چھوٹے کاروباروں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ جب ملک میں زیادہ پیداوار ہوگی، کاروبار بڑھے گا، روزگار پیدا ہوگا اور برآمدات میں اضافہ ہوگا تو معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جا سکے گا۔ ایک مضبوط معیشت ہی طویل مدت میں مہنگائی کے دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔عام شہری کو سب سے زیادہ ضرورت اعتماد کی ہے۔اسے یہ یقین ہونا چاہیے کہ ریاست اس کی مشکلات کو سمجھتی ہے اور معاشی فیصلوں کا مقصد صرف اعدادوشمار بہتر کرنا نہیں بلکہ لوگوں کی زندگی آسان بنانا بھی ہے۔ بجٹ، ٹیکس، توانائی، سبسڈی اور معاشی پالیسیوں کے فیصلے اپنی جگہ اہم ہیں لیکن ان تمام فیصلوں کا اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ عام گھرانے کی زندگی پر ان کا کیا اثر پڑا۔ آخرکار سوال یہی ہے کہ پاکستان کا عام شہری کب سکھ کا سانس لے گا؟ اس سوال کا جواب کسی ایک اعلان، ایک پیکیج یا ایک وقتی ریلیف میں نہیں بلکہ مسلسل، شفاف اور پائیدار معاشی پالیسی میں پوشیدہ ہے۔ مہنگائی کو شکست دینے کے لیے صرف قیمتوں کو دیکھنا کافی نہیں، آمدنی، روزگار، پیداوار، ٹیکس، توانائی، مارکیٹ نگرانی اور حکومتی اخراجات سب کو ایک ہی معاشی تصویر کا حصہ سمجھنا ہوگا۔ عام آدمی کی زندگی اس وقت بہتر ہوگی جب اس کی آمدنی صرف مہینہ گزارنے کے لیے نہیں بلکہ مستقبل بنانے کیلئے بھی کافی ہو۔ ریاست، کاروباری طبقے اور معاشرے سب کو اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ خوشحال شہری ہی مضبوط معیشت اور مستحکم پاکستان کی بنیاد بنتا ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *