23 ستمبر سعودی عرب کا قومی دن ہوتا ہے۔ اس موقع پر میں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز، سعودی حکومت کے تمام اراکین، سعودی عرب کے بہادر اور محب وطن عوام اور اپنے تمام سعودی بھائیوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میری یہ مبارکباد محض ایک رسمی پیغام نہیں بلکہ اس ملک کیساتھ جڑی ہوئی پچیس سالہ زندگی، محبت، مشاہدے اور بے شمار یادوں کا اظہار ہے۔میں نے اپنی زندگی کے تقریبا پچیس سال سعودی عرب میں گزارے ہیں۔وہاں کئی ادوار دیکھے، شاہ خالد بن عبدالعزیز سے لے کر بعد کے تمام ادوار تک سعودی عرب کو بدلتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ میں نے ایک ایسا سعودی عرب بھی دیکھا ہے جہاں آج کی طرح جدید شاہراہیں، بلند و بالا عمارتیں، منظم شہری منصوبہ بندی اور ڈیجیٹل سہولتیں نظر نہیں آتی تھیں، اور میں وہ سعودی عرب بھی دیکھ رہا ہوں جو آج دنیا کے سامنے ایک مختلف صورت میں موجود ہے۔23 ستمبر صرف ایک قومی تہوار کا نام نہیں۔ یہ اس تاریخی دن کی یاد ہے جب 1932 میں شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے مختلف علاقوں کو متحد کرکے مملکت سعودی عرب کے قیام کا اعلان کیا۔ اس عمل کا آغاز 1902 میں ریاض کی بازیابی سے ہوا اور تقریباً تین دہائیوں کی جدوجہد کے بعد 23ستمبر 1932کو مملکت سعودی عرب کا نام اختیار کیا گیا۔ یہاں ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سعودی عرب کی تاریخ صرف ایک ریاست کے قیام کی تاریخ نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی داستان ہے جس نے صحرا سے جدید ریاست تک کا سفر طے کیا۔ وقت کے ساتھ ادارے بنے، تعلیم پھیلی، معیشت بڑھی، تیل کی دولت نے ترقی کی رفتار تیز کی اور پھر سعودی عرب نے اپنے وسائل کو جدید انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم، مواصلات اور شہری ترقی میں استعمال کیا۔میں نے سعودی عرب کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ مجھے آج بھی اپنے وہ ابتدائی دن یاد ہیں جب میں وہاں کام کے سلسلے میں گیا۔ ایک پاکستانی کیلئے سعودی عرب صرف روزگار کا ملک نہیں رہا؛ ہمارے لیے یہ وہ سرزمین ہے جہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ موجود ہیں۔ دنیا کے کسی دوسرے ملک میں آپ کو یہ روحانی نسبت نہیں مل سکتی۔ دبئی اپنی جگہ بہت خوبصورت، ترقی یافتہ اور منظم شہر ہے، لیکن دبئی میں مکہ اور مدینہ نہیں ہیں۔ میں نے سعودی عرب کے مختلف شہروں میں زندگی دیکھی، مگر جدہ سے میری خاص وابستگی رہی۔ عزیزیہ کا علاقہ بھی میری یادوں کا حصہ ہے۔ کچھ عرصہ پہلے جب میں دوبارہ وہاں گیا تو مجھے خود محسوس ہوا کہ وہی جگہ جسے میں ماضی میں جانتا تھا، اب کتنی تبدیل ہو چکی ہے۔ 2019 میں بھی میں سعودی عرب گیا تھا اور اس کے بعد چند سال پہلے دوبارہ جدہ گیا تو تبدیلی پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں محسوس ہوئی۔خاص طور پر شہروں کی تجدید اور جدید شہری منصوبہ بندی میں محمد بن سلمان کے دور میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ سعودی عرب نے وژن 2030 کے تحت معیشت کو متنوع بنانے، سرمایہ کاری بڑھانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور انسانی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے کئی پروگرام شروع کیے ہیں۔ایک پاکستانی کی حیثیت سے میں ایک اور تبدیلی کا خصوصی طور پر ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ ماضی میں کفالت کے نظام اور بعض آجر و کارکن تعلقات کے حوالے سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اب سعودی عرب نے لیبر مارکیٹ میں کئی اصلاحات کی ہیں۔2020ء میں شروع کی گئی ، نجی شعبے کے غیر ملکی کارکنوں کیلئے ملازمت کی تبدیلی اور خروج و عودہ سمیت بعض معاملات میں نئے ضوابط متعارف کرائے گئے، جن کا نفاذ مارچ 2021 میں ہوا۔میں یہ نہیں کہتا کہ سعودی عرب میں ہر مسئلہ ختم ہو گیا ہے۔ ہر ملک کی طرح وہاں بھی اپنے مسائل اور چیلنجز ہیں، لیکن ایک پاکستانی کے طور پر میں نے جو تبدیلی دیکھی ہے، اسے بیان کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ آج بہت سے پاکستانی اور دوسرے غیر ملکی اپنے کاروبار، کمپنیوں اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے ذریعے سعودی معیشت کا حصہ بن رہے ہیں۔ سعودی عرب کی لیبر مارکیٹ کو زیادہ منظم اور مسابقتی بنانے کیلئے مسلسل اصلاحات کی جا رہی ہیں ۔ میرا اپنا تجربہ یہی کہتا ہے کہ اگر کوئی پاکستانی بیرون ملک جاکر محنت کرنا، عزت کے ساتھ روزگار حاصل کرنا اور اپنے خاندان کے لیے بہتر مستقبل بنانا چاہتا ہے تو سعودی عرب اسکے لیے ایک اہم منزل ہو سکتی ہے۔ یہاں بات صرف پیسے کمانے کی نہیں بلکہ اس روحانی ماحول کی بھی ہے جو کسی دوسرے ملک میں اسی طرح میسر نہیں۔ دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کے لیے سعودی عرب کی سب سے بڑی نسبت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے ہے۔ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ۖ سے وابستہ جذبات کسی ایک قوم یا ملک تک محدود نہیں۔ اس لیے سعودی عرب میں ہونے والی ہر بڑی تبدیلی کو امت مسلمہ خاص توجہ سے دیکھتی ہے۔ حرمین شریفین کی خدمت ایک عظیم ذمہ داری ہے اور سعودی عرب نے اس ذمہ داری کے حوالے سے جو انتظامی اور تعمیراتی اقدامات کیے ہیں، وہ بھی میری آنکھوں کے سامنے وقت کے ساتھ بدلتے رہے ہیں۔آج مشرق وسطی کی بدلتی ہوئی صورت حال نے پوری امت مسلمہ کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے حالات میں سعودی عرب کا امن اور استحکام صرف سعودی عوام کے لیے نہیں بلکہ خطے اور پوری مسلم دنیا کے لیے اہم ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی سعودی عرب کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رکھے، اس کے امن و استحکام کو قائم رکھے اور حرمین شریفین کو ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے۔شاہ خالد بن عبدالعزیز کے دور سے لے کر آج شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دور تک سعودی عرب نے کئی مراحل طے کیے ہیں۔ موجودہ دور میں محمد بن سلمان کی قیادت میں وژن 2030 کے ذریعے جو تبدیلیاں جاری ہیں، ان کا مقصد سعودی معیشت اور معاشرے کو آنے والی دہائیوں کے تقاضوں کے لیے تیار کرنا ہے۔ ان تبدیلیوں کے نتائج اور ان کے مکمل اثرات کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا، لیکن یہ بات میرے ذاتی مشاہدے میں واضح ہے کہ جدہ سمیت سعودی شہروں کی صورت پہلے سے بہت مختلف ہو چکی ہے۔آج کے دن میری دعا ہے کہ اللہ تعالی خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد محمد بن سلمان، سعودی حکومت، سعودی عوام اور وہاں بسنے والے تمام پاکستانیوں سمیت ہر انسان کو امن، صحت اور خوشحالی عطا فرمائے۔ سعودی عرب ہمیشہ امن کا گہوارہ رہے، حرمین شریفین کی رونقیں قائم رہیں اور پاکستان و سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط ہوں۔سعودی عرب کے میرے تمام بھائیوں کو قومی دن بہت بہت مبارک ہو۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں