بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 20.5°C
Saturday, 26 September 2026 | پاکستان: 15 ر بیع الثانی 1448

ریاست اور جواب دہی کا سوال

Saturday, 26 September, 2026

پاکستان میں اداروں کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے ہم اکثر شخصیات کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔ کوئی حکومت میں ہو تو بحث حکومت کے گرد گھومتی ہے، کوئی اپوزیشن میں ہو تو ہر سوال اپوزیشن تک محدود ہو جاتا ہے اور کسی ریاستی ادارے کا کوئی فیصلہ سامنے آئے تو اس کے اصول، قانونی بنیاد اور طریقہ کار پر غور کرنے کے بجائے ہماری توجہ فورا اس طرف چلی جاتی ہے کہ فائدہ کس سیاسی فریق کو ہوا اور نقصان کس کو۔ اس طرزِ گفتگو کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اصل سوال پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ آج اختیار کس کے ہاتھ میں ہے، اصل سوال یہ ہے کہ اختیار رکھنے والے ہر شخص اور ہر ادارے کیلئے اصول ایک ہیں یا نہیں ۔ ریاست کا امتحان اس وقت نہیں ہوتا جب حالات معمول کے مطابق ہوں۔ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب سیاسی درجہ حرارت بلند ہو، مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہوں، طاقت کے مختلف مراکز اپنی اپنی دلیل پیش کر رہے ہوں اور ہر فریق اپنے موقف کو ریاستی مفاد کا نام دے رہا ہو۔ ایسے وقت میں آئین محض ایک دستاویز نہیں رہتا، وہ طاقت کے استعمال کی حد مقرر کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ کس ادارے کے پاس کیا اختیار ہے، اس اختیار کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں اور اس کے استعمال کے بارے میں سوال کون اٹھا سکتا ہے۔ پاکستان کے آئینی نظام میں اس مقصد کیلئے بنیادی راستے موجود ہیں۔ وفاقی انتظامی اختیار وفاقی حکومت کے ذریعے استعمال ہوتا ہے جبکہ پارلیمان قانون سازی کے ساتھ حکومت کی نگرانی کیلئے سوالات، مباحث اور قائمہ کمیٹیوں سمیت مختلف ذرائع رکھتی ہے۔ مالی معاملات میں آڈٹ اور پارلیمانی نگرانی کے ادارے موجود ہیں، جبکہ عدلیہ کیلئے بھی آئینی احتساب کا اپنا طریقہ کار ہے۔ اس لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ احتساب کا کوئی نظام موجود نہیں، اصل سوال ان راستوں کی عملی طاقت کا ہے۔ قائمہ کمیٹی کی مثال لیجیے۔ کمیٹی کا کام صرف اجلاس منعقد کرنا یا کسی افسر سے وضاحت طلب کرنا نہیں۔ پارلیمانی قواعد کے تحت متعلقہ وزارتوں کے اخراجات، انتظامی معاملات، پالیسیوں اور ماتحت اداروں کے کام کا جائزہ لینا بھی نگرانی کا حصہ ہے لیکن یہاں ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ کمیٹی نے سوال پوچھ لیا، اس کے بعد کیا ہوا؟ یہی وہ مقام ہے جہاں رسمی نگرانی اور موثر نگرانی ایک دوسرے سے الگ ہو جاتی ہیں ۔ اگر اعتراض سامنے آئے، جواب طلب کیا جائے، سفارش مرتب ہو اور پھر معاملہ فائلوں کے درمیان گم ہو جائے تو ادارہ اپنی جگہ موجود رہتا ہے، مگر جواب دہی کی روح کمزور پڑ جاتی ہے۔ پارلیمانی نگرانی کی اصل قوت اجلاسوں کی تعداد میں نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ احتساب کی کامیابی کارروائی شروع کرنے سے نہیں، کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچانے سے ناپی جانی چاہیے۔عدلیہ کے بارے میں بھی بحث کو اسی اصول کے تحت دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کسی عدالتی فیصلے کو صرف اس بنیاد پر اچھا یا برا قرار دینا کہ اس سے ہماری پسندیدہ سیاسی جماعت کو فائدہ ہوا یا نقصان، عدالتی بحث کو سیاسی بحث میں بدل دیتا ہے۔ اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ فیصلہ آئینی و قانونی دلیل پر کس حد تک قائم ہے، اس کا طریقہ کار کیا تھا اور ادارے کے اندر احتساب کے آئینی راستے کس طرح کام کرتے ہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے حوالے سے آئین میں موجود ایک باقاعدہ فورم ہے۔اس حقیقت سے ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے: ادارہ جاتی آزادی اور جواب دہی ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ آزادی کا مطلب سوال سے بالاتر ہونا نہیں۔ منتخب حکومت کو مینڈیٹ حاصل ہونا اسے ہر انتظامی اقدام کی وضاحت سے مستثنیٰ نہیں کرتا۔ پارلیمان کا منتخب ہونا اسے قانون سازی اور نگرانی کے معیار سے آزاد نہیں کرتا۔ اسی طرح قومی سلامتی، دفاع یا ریاستی استحکام سے وابستہ کوئی بھی ادارہ محض اپنے کردار کی اہمیت کی بنیاد پر آئینی و قانونی اصولوں سے باہر نہیں ہو جاتا۔ یہ اصول اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب ہم احتساب اور سیاسی انتقام کے درمیان فرق دیکھتے ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں ایک عجیب تضاد بار بار سامنے آتا ہے۔ جب ہمارا سیاسی فریق اقتدار میں ہو تو احتساب شفافیت دکھائی دیتا ہے، اور جب وہی فریق اپوزیشن میں آ جائے تو اسی عمل کو انتقام کہا جانے لگتا ہے۔ اس رویے نے احتساب کے تصور کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ حقیقی احتساب کی پہلی شرط یہی ہے کہ معیار شخصیات کے ساتھ تبدیل نہ ہو۔ ایک ہی نوعیت کے معاملے میں قانون کا اطلاق سیاسی وابستگی، عہدے یا طاقت کے فرق سے بدل جائے تو قانون کی حکمرانی کا دعویٰ کمزور پڑ جاتا ہے۔ قانون کی حکمرانی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ قانون کی کتاب موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ شہری کو یہ اعتماد ہو کہ ایک ہی نوعیت کے معاملے میں قانون کا ردعمل قابلِ پیشگوئی اوراصولی ہوگا۔یہ اصول صرف ریاستی اداروں پر لاگو نہیں ہوتا۔ سیاسی جماعتیں بھی اسی امتحان سے گزرتی ہیں۔ مسئلہ اختلاف نہیں، مسئلہ دائرہ اختیار کی بے اعتدالی ہے۔ جو فیصلہ اپنے حق میں آئے وہ آئینی اور جو مخالف کے حق میں جائے وہ مشکوک۔ یہ رویہ بالآخر اداروں کو بھی کمزور کرتا ہے۔ اس سارے معاملے میں اختیار اور ذمہ داری کا تعلق بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جس کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار ہے، اسے اس فیصلے کی وضاحت بھی دینی چاہیے۔ جس ادارے نے پالیسی بنائی ہے، اسے اس کے نتائج کا دفاع کرنا چاہیے جس افسر نے انتظامی فیصلہ کیا ہے، اس فیصلے کی قانونی بنیاد واضح ہونی چاہیے اور جہاں غلطی یا بے قاعدگی ثابت ہو، وہاں اصلاح اور ذمہ داری کا راستہ موجود ہونا چاہیے۔ یہی انتظامی انصاف کی سادہ مگر اہم بنیاد ہے: اختیار جہاں ختم ہوتا ہے، جواب دہی وہاں سے شروع ہونی چاہیے۔ پاکستان کو آج کسی ایک ادارے کو طاقتور یا کمزور بنانے سے زیادہ اس اصولی یکسانیت کی ضرورت ہے کہ ہر ادارہ اپنے آئینی دائرے میں کام کرے۔ کسی ادارے کی تعریف صرف اس لیے نہ ہو کہ اس نے ہمارے پسندیدہ سیاسی فریق کو فائدہ پہنچایا، اور مذمت صرف اس لیے نہ ہو کہ اسی ادارے کے کسی دوسرے فیصلے سے ہماری سیاسی پسند کو نقصان پہنچا۔ اداروں کو شخصیات کے بجائے قواعد سے جانچنے کی ضرورت ہے۔ مضبوط حکومت وہ نہیں جو ہر اختلاف کو سازش قرار دے، بلکہ وہ ہے جو پارلیمان، عدالت، میڈیا اور شہری معاشرے کے سوالات کا سامنا کر سکے۔ اور مضبوط احتساب کی علامت زیادہ گرفتاریاں یا زیادہ مقدمات نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کارروائی واضح اصول کے تحت ہوئی یا نہیں، ثبوت سامنے آئے یا نہیں، قانونی عمل مکمل ہوا یا نہیں، اور نتیجہ سیاسی ضرورت کے بجائے قانون نے طے کیا یا نہیں۔ آخر میں سوال بہت سادہ ہے، مگر اس کا جواب ریاست کی پوری ساخت سے جڑا ہوا ہے: اختیار رکھنے والوں سے سوال کون کرے گا؟ حکومت سے پارلیمان، پارلیمان سے ووٹر، انتظامیہ سے قانون، سرکاری اخراجات سے آڈٹ اور پارلیمانی نگرانی، عدالتی احتساب کیلئے آئینی فورمز، اور ہر ادارے سے بالآخر آئین۔ اگر یہ ترتیب عملا قائم ہو جائے تو ریاست کے بڑے دروازے شہری کیلئے خوف کی علامت نہیں رہیں گے۔ وہ قانون تک رسائی کا راستہ بن جائیں گے۔ تاریخ صرف یہ نہیں پوچھتی کہ اختیار کس کے پاس تھا، وہ یہ بھی پوچھتی ہے کہ اختیار کے ساتھ جواب دہی کہاں تھی، اور جب طاقت نے اپنی حد عبور کی تو اسے روکنے کیلئے آئینی راستہ کہاں موجود تھا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *