یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ پاکستان کی سیاست میں احتجاج، جلسے اور سیاسی تحریکیں اگرچہ جمہوری عمل کا اہم حصہ رہی ہیں، تاہم گزشتہ چند برسوں میں احتجاجی سیاست نے ایک پیچیدہ صورت اختیار کی ہے۔خصوصاً تحریک انصاف نے اپنے سیاسی مطالبات منوانے کے لیے احتجاج، لانگ مارچ اور دھرنوں کو بارہا استعمال کیا۔سماجی مبصرین کے مطابق اگرچہ پرامن احتجاج آئینی حق ہے، لیکن اس حق کے ساتھ قانون کی پابندی، شہری امن اور دوسرے شہریوں کے حقوق کا احترام بھی ضروری ہے۔ جب سیاسی اختلاف سڑکوں اور ڈیجیٹل محاذ آرائی تک محدود نہ رہے بلکہ تصادم کی صورت اختیار کرے تو اس کے اثرات سیاسی جماعتوں سے آگے بڑھ کر معاشرتی اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔اسی ضمن میںتحریک انصاف کی احتجاجی سیاست کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس کا دائرہ سڑکوں سے بڑھ کر سوشل میڈیا تک پھیل چکا ہے۔ پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے حکومت اور ریاستی اداروں کے بارے میں سخت تنقیدی مواد شائع کیا، جبکہ حکومتی اور عسکری حکام نے ان مہمات کو گمراہ کن قرار دیا اوردسمبر 2024 میںحکومتی قیادت نے نومبر کے احتجاج کے بعد ہلاکتوں سے متعلق سوشل میڈیا مہم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب تحریک انصاف نے اپنے بیانیے کو سیاسی اظہار اور حکومتی اقدامات کے خلاف ردعمل قرار دیا۔اسی طرح نومبر 2024 کا اسلام آباد احتجاج اس کشمکش کی نمایاں مثال بن کر سامنے آیا جب پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی سمیت اپنے سیاسی مطالبات کے لیے احتجاج کیا۔ 26 نومبر کو دارالحکومت میں مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد ہلاکتوں سے متعلق مختلف گمراہ کن دعوے سامنے آئے جس میں تین روزہ احتجاج کے دوران کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک پولیس اہلکار اور تین رینجرز اہلکار شامل تھے۔ لیکن تحریک انصاف نے اپنے کارکنوں کی ہلاکتوں کے الگ اعدادوشمار پیش کیے اور بعد میں بارہ کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا، جبکہ حکومت نے یہ دعویٰ مسترد کیا۔علاوہ ازیں نومبر کے واقعات میں لاپتہ افراد، ہلاکتوں اور مبینہ ریاستی کارروائیوں سے متعلق دعوے بھی سامنے آئے۔ ایسے معاملات میں متاثرہ خاندانوں کو حقیقت جاننے، معلومات حاصل کرنے اور قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ تاہم غیرمصدقہ اعدادوشمار، پرانی تصاویر، جعلی دستاویزات یا سیاق و سباق سے ہٹ کر ویڈیوز کو حقیقت کے طور پر پیش کرنا افواہوں کو بڑھاتا ہے۔سنجیدہ حلقوں کے مطابق احتجاج سیاسی مطالبات اجاگر کرنے کا جائز ذریعہ ہے، لیکن اس کے دوران شہری زندگی، کاروباری سرگرمیوں اور نقل و حرکت کے حقوق بھی ملحوظ رہنے چاہئیں۔کون نہیں جانتا کہ نومبر 2024 میں اسلام آباد کی اہم شاہراہوں اور حساس علاقوں میں سکیورٹی انتظامات اور احتجاجی سرگرمیوں نے معمولات زندگی کو شدیدمتاثر کیا۔ اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ سیاسی اختلاف رکھنے والے تمام فریقوں کیلئے قانون اور عدالتی احکامات کی پابندی نہایت ضروری ہے۔مبصرین کے مطابق سوشل میڈیا پر فوج، حکومت یا ریاست کے بارے میں غیرمصدقہ اور اشتعال انگیز مواد کا پھیلاؤ بھی سنجیدہ مسئلہ ہے۔ کسے معلوم نہیں کہ پاکستان کو دہشتگردی، سرحدی کشیدگی، سیاسی تقسیم اور بیرونی اطلاعاتی سرگرمیوں جیسے چیلنجز کا سامنا ہے اورسیاسی اختلاف اور بیرونی مداخلت کے الزامات کو محض سوشل میڈیا مواد کی بنیاد پر ایک ہی حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔تحریک انصاف کے سوشل میڈیا نیٹ ورک کا کردار بھی اسی تناظر میں زیر بحث آیا۔ مارچ 2025 میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے مبینہ بدنیتی پر مبنی سوشل میڈیا مہمات کے معاملے میں دس افراد کو طلب کیا، جن میں زیادہ تر تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم سے وابستہ تھے۔ تحقیقاتی ٹیم کے مطابق ان مہمات کے ذریعے انتشار پیدا کرنے کی کوششوں کی تحقیقات کی جا رہی تھیں، جبکہ تحریک انصاف نے ان کارروائیوں پر اعتراضات اٹھائے۔ یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ نوجوان پاکستان کا اہم سیاسی اور سماجی اثاثہ ہیں اور سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو آئینی حقوق، اختلاف رائے، سیاسی مکالمے اور معلومات کی تصدیق کے اصول سمجھائیں۔ نوجوانوں کو سیاسی سرگرمی کے لیے متحرک کرنا جمہوری عمل کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن انہیں غیرمصدقہ دعووں، اشتعال انگیزی یا اداروں کے خلاف نفرت پر مبنی مواد کا ذریعہ بنانا معاشرتی تقسیم کو بڑھا سکتا ہے۔ایسے میں پاکستان کے سیاسی مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ احتجاج آئینی حدود میں رہے، سیاسی مطالبات پارلیمان اور مذاکرات کے ذریعے بھی آگے بڑھائے جائیں، اور سوشل میڈیا کو ذمہ دار سیاسی ابلاغ کا ذریعہ بنایا جائے۔ سیاسی جماعتوں کو خاص طور پر ہلاکتوں، لاپتہ افراد اور ریاستی اداروں سے متعلق دعوے کرتے وقت قابل اعتماد شواہد پیش کرنے چاہئیں۔اسی طرح حکومت کو حساس واقعات کی غیرجانبدار تحقیقات، شفاف معلومات اور قانونی حقوق کی ضمانت دینی چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے کارکنوں کی تربیت بھی کرنی چاہیے تاکہ احتجاج پرامن رہے، معلومات کی تصدیق ہو اور اختلاف تصادم میں تبدیل نہ ہو۔ جمہوری استحکام اسی وقت مضبوط ہوگا جب سیاسی قوتیں اختلاف، قانون، ذمہ دار ابلاغ اور شہری امن کے تقاضوں کو ساتھ لے کر چلیں گی۔ اس مقصد کیلئے حکومت، سیاسی جماعتوں، میڈیا اور شہری معاشرے کے درمیان مکالمہ نہایت ضروری ہے۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں