غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ تشدد اور مغربی کنارے میں انتہا پسند یہودی آباد کاروں کی جانب سے مچائی جانے والی تباہی و بربادی کے باعث،اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موجودہ اجلاس کے دوران صیہونی ریاست کو کئی ممالک کی جانب سے شدید مذمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اگرچہ فلسطینی عوام کے خلاف تشدد کو روکنے کے لیے محض جذباتی تقاریر کافی نہیں ہوں گی،لیکن یہ اس بات کی نشاندہی ضرور کرتی ہیں کہ مغرب میں اسرائیل کے کچھ اتحادیوں کے لیے بھی اس کے گھنونی رویے کا جواز پیش کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ غزہ میں جاری “منظرنامے” پر ہم سب کو “شرمندہ” ہونا چاہیے۔انہوں نے مغربی کنارے کی سنگین صورتحال پر بھی روشنی ڈالی۔اسی طرح،ترک صدر رجب طیب اردوان نے غزہ کو ایک “غیر انسانی… حراستی کیمپ قرار دیا۔دو ریاستی حل پر ہونے والے ایک الگ اجلاس میں،نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اسرائیل کی “قابض مشینری” کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔اسی تقریب میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ دو ریاستی حل کے لیے “وقت تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا ہے”۔شاید اقوام متحدہ کے سبکدوش ہونے والے سربراہ ضرورت سے زیادہ پرامید تھے کیونکہ اسرائیل نے اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست وجود میں نہ آ سکے۔ان اجلاسوں سے کچھ ہی فاصلے پر ‘بورڈ آف پیس’ کا بھی ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں غزہ کی ‘بحالی’ کیلئے 2.45 ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا گیا۔اگرچہ ان فنڈز کے وعدے کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے لیکن مقبوضہ پٹی کی زمینی حقیقت غزہ کی بہتری کی کسی بھی امید کو ماند کر دیتی ہے۔آخرکار،گزشتہ سال کی جنگ بندی کے بعد سے اسرائیل غزہ میں تقریبا چودہ سوافرادکوشہید کر چکا ہے جن میں زیادہ تر عام شہری شامل ہیں،جبکہ تل ابیب نے پٹی پر اپنا قبضہ ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے،حالانکہ حماس اپنے ہتھیار چھوڑنے پر رضامند ہو گئی تھی۔دریں اثنا،مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور یہودی آباد کار اپنے حملوں میں روز بروز مزید سفاک ہوتے جا رہے ہیں۔لہٰذااگر فلسطینی محاصرے میں رہے اور ان کی زمینوں کی چوری کا سلسلہ جاری رہا تو غزہ پر پیسہ خرچ کرنے سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔اگر عالمی برادری کے باضمیر ارکان فلسطین کے حوالے سے اپنے خدشات میں سنجیدہ ہیں،تو انہیں اپنے الفاظ کو عملی اقدامات کا جامہ پہنانا چاہیے ۔ غزہ میں نسل کشی پر مبنی تشدد کے لیے اسرائیل کا احتساب کیا جانا چاہیے،جبکہ مغربی کنارے میں فلسطینی اراضی پر قبضے اور عربوں پر مسلسل جسمانی حملوں کے مرتکب آباد کاروں کو سزا دی جانی چاہیے۔تمام غیر قانونی بستیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ اگرچہ’دو ریاستی حل’کے مطالبات جاری ہیں،لیکن موجودہ اسرائیلی حکومت — اور صیہونی ریاست میں آئندہ انتخابات کے بعد وجود میں آنیوالی کوئی بھی انتظامیہ — ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے پر بضد رہے گی۔دریں اثنااسرائیل کا سب سے طاقتور بیرونی سرپرست یعنی امریکہ تل ابیب کو امن عمل کا پابند بنانے میں قطعی کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔’بورڈ آف پیس کے تحت کیے جانے والے تشہیراتی اقدامات ایک الگ چیز ہیں،جبکہ قبضے کے خاتمے کیلئے اسرائیل پر حقیقی دبا ڈالنا بالکل مختلف معاملہ ہے۔کیا فلسطینی عوام کسی ریلیف کی توقع کر سکتے ہیں جب اتنے طاقتور فریقین ان کی تکالیف کو طول دینے پر بضد ہوں؟
غلبے کی تبدیلی
بھارت کے موجودہ جغرافیائی سیاسی رجحان کی غیر مستحکم کرنے والی نوعیت کے بارے میں اسٹریٹجک ماہرین کی جانب سے دی جانے والی تنبیہات محض علمی مشاہدات نہیں،بلکہ بجا طور پر خطرے کی گھنٹیاں ہیں۔ہندوتوا پر مبنی ‘استثنائی سوچ’ کی حکمت عملی اختیار کر کے،نئی دہلی علاقائی توازن کی روایت کو غلبے کی خواہش سے بدل رہا ہے۔رویے میں یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنوبی ایشیا کی سلامتی کو طاقت کے اس نظریے سے خطرے میں ڈالا جا رہا ہے جو پڑوسی ریاستوں کو شراکت داروں کے بجائے رکاوٹ سمجھتا ہے۔اپنی شناخت کو’استثنائی’یا برتر سمجھنے پر سختی سے کاربند رہنے کا نتیجہ اکثر دوسروں کے جذبات اور خودمختار حقوق سے بے اعتنائی کی صورت میں نکلتا ہے۔جب کوئی علاقائی طاقت یہ سمجھتی ہے کہ اس کے مفادات بین الاقوامی اصولوں سے بالاتر ہیں،تو نتیجہ ایک ایسے غیر مستحکم ماحول کی صورت میں نکلتا ہے جہاں غلط اندازوںکا امکان بڑھ جاتا ہے۔یہ نقطہ نظر سلامتی کے حصول کو’زیرو سم گیم میں بدل دیتا ہے ، جہاں ایک قوم کا مفروضہ فائدہ دوسری قوم کا نقصان سمجھا جاتا ہے اور یوں بامقصد سفارتکاری کیلئے ضروری اعتماد مجروح ہوتا ہے۔برتری کے بیانیے پر انحصار اکثر ریاست کو ان نظامی خطرات سے اندھا کر دیتا ہے جو وہ خود پیدا کرتی ہے،جس کے نتیجے میں کشیدگی اور جوابی ردعمل کا ایک نہ ختم ہونیوالا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔سلامتی کی یکطرفہ تعریف پر اصرار ایک ایسے خطے میں انتہائی خطرناک جوا ہے جو پہلے ہی تاریخی شکایات اور تنازعات کا شکار ہے۔علاقائی توازن کیلئے ایک وسیع تر نقطہ نظر کی ضرورت ہے جو کسی ایک طاقت کے محدود مفادات سے بالاتر ہو کر دیکھے ۔ خودمختار ریاستوں کے مساوی حقوق کا احترام کرنیوالے اجتماعی سکیورٹی کے نظام کو تشکیل دینا ہی تنازع کے خطرے کو کم کرنے کا واحد طریقہ ہے ۔استحکام کیلئے کثیرلجہتی نقطہ نظر اپنانا ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ جنوبی ایشیا نئی سرد جنگ کی کشیدگی کا شکار نہ ہو۔
ایم او یوکی طرف واپسی
مشرقِ وسطی کے جاری تنازع میں متحارب فریقین کی جانب سے تصادم پر مبنی بیان بازی میں حیران کن کمی کے بعد مصالحتی کوششوں کو نئی تقویت ملی ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر بہت کچھ ہوا،جہاں امریکہ،ایران،قطر اور پاکستان کے حکام نے مذاکرات میں تعطل کو ختم کرنے کے لیے مل کر کام کیا۔ان کی بنیادی توجہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے،عالمی سپلائی چین کو معمول پر لانے اور تیل کی قیمتوں میں کمی لانے پر مرکوز تھی۔تہران کی جانب سے حامی بھرنا جو عمان کے ساتھ مل کر خلیجِ فارس میں اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو اگلے سات دنوں میں دوبارہ کھولنے کا منصوبہ بنا رہا ہے ایک امید افزا پیش رفت ہے۔اسی طرح،قطر کا ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ اور جنگ بندی کے ایک اور معاہدے پر اتفاق رائے بھی انتہائی اہم کامیابیاں ہیں۔پاکستان نے اس معاملے میں مزید پیش قدمی کرتے ہوئے امریکہ اور ایران دونوں کو اس بات کا احساس دلایا کہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ اسلام آباد میں طے پانے والے مفاہمت کے معاہدے کی طرف واپسی ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی اس پہلو کی بھرپور تائید اور تعریف کی ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ کشیدگی میں فوری کمی کو یقینی بنایا جائے۔مذاکرات کی بحالی کیلئے کسی طریقہ کار پر کام کیے جانے کی اطلاعات حوصلہ افزا ہیں ؛ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اطلاعات اوول آفس میں شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونیوالی ملاقات کے بعد سامنے آئیں۔پزشکیان نے اس وقت قائدانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا جب انہوں نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ان کا ملک جنگ جاری رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتا اور اب گیند واشنگٹن کے کورٹ میں ہے۔اس بات کو ان اطلاعات کے تناظر میں غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے جن کے مطابق تہران نے امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی کے بدلے آبنائے کو دوبارہ کھولنے کا اشارہ دیا ہے۔یہ تعطل پہلے ہی عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔بحیرہ احمر میں باب المندب کے راستے جہاز رانی کی معطلی کیونکہ حوثیوں نے ایک اور محاذ کھول دیا ہے — تشویشناک ہے۔یمن میں تنازع کا دائرہ کار وسیع ہونا اور اس کا پورے خطے میں پھیل جانا تباہ کن ثابت ہوگا۔ایک ہی اقدام تمام ممکنہ مسائل کا حل ثابت ہو سکتا ہے۔ ایران اور امریکہ کو اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمت کی طرف واپس آنا چاہیے ۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اس خیال کو آگے بڑھنے کے راستے کے طور پر موثر انداز میں پیش کیا ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں